ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 47

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾
ہم اس (نیت) کو زیادہ جاننے والے ہیں جس کے ساتھ وہ اسے غور سے سنتے ہیں، جب وہ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں، جب وہ ظالم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے آدمی کی جس پر جادو کیا گیا ہے۔ En
یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے
En
جس غرض سے وه لوگ اسے سنتے ہیں ان (کی نیتوں) سے ہم خوب آگاه ہیں، جب یہ آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی اور جب یہ مشوره کرتے ہیں تب بھی جب کہ یہ ﻇالم کہتے ہیں کہ تم اس کی تابعداری میں لگے ہوئے ہو جن پر جادو کردیا گیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47){ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہمیں خوب علم ہے جس نیت سے یہ اکیلے اکیلے کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں کہ آپ پر اعتراض کریں یا مذاق اڑائیں، پھر جب وہ آپس کی مجلس میں ان پر تبصرے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے آپ کو جادو زدہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے علم کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے کہ ہم ان کی حرکتوں سے بے خبر نہیں کہ یہ ہماری گرفت سے بچ جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سحر زدہ سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے قرآن سنتے اور آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، اس لئے ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں [57] تو کس بات پر لگاتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں جو وہ سرگوشی کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ: ”تم ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی [58] کر رہے ہو“
[57] کافروں کے قرآن کو غور سے سننے کی وجہ:۔
یعنی اگر وہ آپ کی باتیں غور سے سنتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ انھیں ہدایت نصیب ہو بلکہ اس لیے سنتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ یا پوائنٹ ہاتھ آ جائے جس کی بنا پر یا تو اس نبی کی تکذیب کر سکیں یا اس کا مضحکہ اڑا سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی باتوں کی تلاش ہو تو غور سے سننا ہی پڑتا ہے۔
[58] قریش مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ ان کا کوئی شخص قرآن نہیں سنے گا لیکن اس کلام میں کچھ حلاوت اور دل نشینی اس قسم کی تھی کہ وہ اپنی عائد کردہ پابندی خود بھی نبھا نہ سکتے تھے اور چوری چھپے رات کے اندھیروں میں قرآن سن لیا کرتے پھر جب کسی ایک کو دوسرے پر یہ شک پڑ جاتا ہے کہ اس نے قرآن سنا ہے۔ تو وہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ کس شخص کی بات کرتے ہو جو خود سحر زدہ ہے اور عجیب طرح کی باتیں کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سرداران کفر کا المیہ ٭٭
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔
ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ہے۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر وغیرہ۔ اس لیے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لیے نکلے، آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے، اتفاقاً راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے۔
لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزاری۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے۔ }
{ صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابوسفیان کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ابوحنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی۔
اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابوجہل کے پاس پہنچا۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔
اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے، اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے، ہم میں ایک شخص ہے، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے، اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:328/1]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ كيے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اس لیے فرمایا: ﴿ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰۤى جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں۔ ﴿ اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ جبکہ ظالم کہتے ہیں اپنی سرگوشیوں میں: ﴿ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًؔا جس کی تم پیروی کرتے ہو، وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بے انصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نامعقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{نحنُ أعلم بما يستمعون به}؛ أي: إنَّما مَنَعْناهم من الانتفاع عند سماع القرآن لأنَّنا نعلم أن مقاصدهم سيِّئة؛ يريدون أن يعثروا على أقلِّ شيءٍ لِيَقْدَحوا به، وليس استماعُهم لأجل الاسترشاد وقَبول الحقِّ، وإنَّما هم معتمدون على عدم اتِّباعه، ومَنْ كان بهذه الحالة؛ لم يُفِدْهُ الاستماع شيئاً، ولهذا قال: {إذْ يستَمِعونَ إليك وإذْ هم نَجْوى}؛ أي: متناجين، {إذْ يقولُ الظالمونَ}: في مناجاتهم: {إنْ تَتَّبِعونَ إلاَّ رجلاً مسحوراً}: فإذا كانت هذه مناجاتُهم الظالمة فيما بينهم، وقد بَنَوْها على أنه مسحورٌ؛ فهم جازمون أنَّهم غير معتَبِرين لما قال، وأنَّه يَهْذي لا يدري ما يقول.