ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 44

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾
ساتوں آسمان اور زمین اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھی جو ان میں ہیں اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ بے شک وہ ہمیشہ سے بے حد بردبار، نہایت بخشنے والا ہے۔ En
ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بےشک وہ بردبار (اور) غفار ہے
En
ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وه بڑا بردبار اور بخشنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ {سُبْحٰنَهٗ …:} زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ {سَبَحَ يَسْبَحُ} (ف) کا معنی پانی یا ہوا میں تیزی سے چلنا ہے۔ {سَبَحَ سَبْحًا وَسِبَاحَةً} ستاروں کا افلاک میں تیز چلنا، جیسا کہ فرمایا: «وَ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ» [یٰسٓ: ۴۰] اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔ گھوڑے کا تیز چلنا، فرمایا: «وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا» [النازعات: ۳] البتہ باب تفعیل {اَلتَّسْبِيْحُ} کا معنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، یعنی اسے ہر عیب اور کمی سے پاک قرار دینا ہے۔ اصل اس کا بھی اطاعت، عبادت اور پاکیزگی بیان کرنے میں مستعدی و تیزی دکھانا ہے۔ (ملخص از راغب) بعض مفسرین نے کہا، مراد یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں زبانِ حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں، یعنی ان کی حالت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں بنانے والا ہر قسم کے عیب سے یا عاجز ہونے سے پاک ہے۔ مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے کہ یہ تمام چیزیں اپنی زبان سے تسبیح نہ کر سکتی ہوں، حالانکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ہر چیز میں ادراک اور سمجھ موجود ہے اور اسے اپنی عبادت اور تسبیح کا طریقہ بھی معلوم ہے، لیکن ان کی اپنی زبان ہے جسے ہم نہیں سمجھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں موجود ہر شخص اور پر پھیلاتے ہوئے پرندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں اور اس کے بعد فرمایا: «كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ» ‏‏‏‏ [النور: ۴۱] ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے۔ اور فرمایا: «اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ (18) وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ» ‏‏‏‏ [صٓ: ۱۸، ۱۹] بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کر دیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔ داؤد اور سلیمان علیھما السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی بھی سکھا دی تھی۔ (دیکھیے نمل: ۱۶) بلکہ چیونٹیوں اور پرندوں کے ساتھ ان کی گفتگو بھی سورۂ نمل (۱۷ تا ۲۸) میں ذکر فرمائی۔ اس مقام پر بھی فرمایا: اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ معلوم ہوا کہ مراد زبان حال سے تسبیح نہیں، کیونکہ یہ زبان تو ہر شخص سمجھتا ہے اور فی الواقع کائنات کے ہر ذرے کی حالت اپنے پیدا کرنے والے کی لا محدود قدرت کی اور اس کے ہر کمزوری اور ہر عیب سے پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس لیے یہاں ہر چیز کا صرف اپنی زبان حال ہی سے نہیں بلکہ اپنی زبان قال سے بھی تسبیح کرنا مراد ہے اور یہ کچھ بعید نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ] [بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۵۷۹] ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔ جمادات و نباتات کے سمجھ رکھنے، محبت اور بغض رکھنے اور تسبیح کے مزید واقعات کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۷۴)۔
➋ { اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا:} اسی لیے وہ تمھاری سب گستاخیاں اور نافرمانیاں دیکھتا ہے، مگر قدرت رکھنے کے باوجود تم سے درگزر فرماتا ہے اور تم پر کوئی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ نہ تمھارا رزق بند کرتا ہے اور نہ تمھیں اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے، اگر اس کا حد سے بڑھا ہوا یہ حلم اور پردہ پوشی نہ ہوتی تو تمھارا کام کب کا تمام ہو چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور سورۂ فاطر (۴۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی سب اسی کے مطیع اور اپنے اپنے انداز میں اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہیں۔ گو ہم ان کی تسبیح وتحمید کو نہ سمجھ سکیں۔ اس کی تائید بعض آیات قرآنی سے بھی ہوتی ہے مثلًا حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ) 38۔ ص:18) ' ہم نے پہاڑوں کو داؤد ؑ کے تابع کردیا ' بس وہ شام کو اور صبح کو اس کے ساتھ اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرتے ہیں۔ ' بعض پتھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ) 2۔ البقرۃ:74) اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں، ایک اور حدیث سے ثابت ہے کہ چیونٹیاں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، اسی طرح جس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب لکڑی کا منبر بن گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تو بچے کی طرح اس سے رونے کی آواز آتی تھی (بخاری نمبر 3583) مکہ میں ایک پتھر تھا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا کرتا تھا (صحیح مسلم۔ 1782) ان آیات و صحیح حدیث سے واضح ہے کہ جمادات و نباتات کے اندر بھی ایک مخصوص قسم کا شعور موجود ہے، جسے گو ہم نہ سمجھ سکیں، مگر وہ اس شعور کی بنا پر اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد تسبیح دلالت ہے یعنی یہ چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام کائنات کا خالق اور ہر چیز پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وفی کل شیء لہ آیۃ۔ تدل علی انہ واحد۔ ہر چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے کہ تسبیح اپنے حقیقی معنی میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اس کی تسبیح [54] کرتے ہیں بلکہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ وہ بڑا برد بار اور معاف کرنے والا ہے۔
[54] ﴿سَبَحَ﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿سَبَحَ کے لغوی معنی کسی چیز کا ہوا یا پانی میں تیرنا اور تیزی سے گزر جانا ہے (مفردات القرآن) پھر اس لفظ کا استعمال کسی کام کو سرعت کے ساتھ انجام دینے پر بھی ہونے لگا جیسے ارشاد باری ہے: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا [7: 72] (دن کے وقت تو آپ کو اور بہت سے شغل ہوتے ہیں) اور سبحان کا لفظ سبح کا مصدر ہے جیسے غفر سے غفران ہے اور اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے فضا میں نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لغزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ ہی تصادم یا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی اپنی تقدیر، تدبیر اور انتظام میں نہایت محکم اور ہر قسم کی بے تدبیری اور عیب یا نقص سے پاک ہستی ہی ہو سکتی ہے اور کائنات کی جملہ اشیاء کا یہ عمل، جس کے تحت وہ مدبر ہستی کے مجوزہ قوانین کے تحت سرگرم عمل ہیں، ان کی تسبیح، فرمانبرداری یا عبادت کہلاتا ہے گویا کائنات کی جملہ اشیاء زبان حال یا اپنے عمل سے اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ان کا انتظام کرنے والی ہستی ہر طرح کے عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ اور وہ صرف ایک ہی ہستی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہے ہر چیز کی عملی تسبیح۔
کائنات کی ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم:۔
اور قولی یا زبانی تسبیح کی صورت یہ ہے کہ انسانوں، جنوں یا فرشتوں کی تسبیح زندگی کے تناسب کے لحاظ سے سب سے بالا و برتر، موثر اور قابل فہم ہوتی ہے۔ حیوانات کی اس سے کم اور جمادات کی اس سے کم، جن و انس کی تسبیح کی صورت چونکہ اختیاری ہے لہٰذا گاہے گاہے ہوتی ہے جبکہ باقی تمام اشیاء ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہیں اور جب کوئی چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو اس پر اللہ کی رحمت کا نزول بھی ہوتا ہے۔ جس مخلوق کی تسبیح جتنی واضح ہو گی، اتنا ہی زیادہ رحمت کا نزول ہو گا اور اس توجیہہ کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قبر پر ایک ٹہنی کی دو شاخیں بنا کر انھیں قبر میں گاڑ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں امید ہے کہ ان پر عذاب کم رہے۔ [بخاری، کتاب الوضوء، باب من الکبائر، ان لایستتر من بولہ]
یعنی ہری ٹہنی کی تسبیح سوکھی ٹہنی سے زیادہ موثر اور قابل فہم ہوتی ہے اسی لحاظ سے اس پر رحمت کا نزول سوکھی ٹہنی سے زیادہ ہو گا اور اس رحمت کے نزول کا مردہ کو یہ فائدہ ہو گا کہ عذاب قبر میں تخفیف ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سبحان العلی الاعلی ٭٭
ساتوں آسمان و زمین اور ان میں بسنے والی کل مخلوق اس کی قدوسیت، تسبیح، تنزیہ، تعظیم، جلالت، بزرگی، بڑائی، پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے اور مشرکین جو نکمے اور باطل اوصاف ذات حق کے لیے مانتے ہیں، ان سے یہ تمام مخلوق برات کا اظہار کرتی ہے اور اس کی الوہیت اور ربوبیت میں اسے واحد اور لا شریک مانتی ہے۔ ہر ہستی اللہ کی توحید کی زندہ شہادت ہے۔ ان نالائق لوگوں کے اقوال سے مخلوق تکلیف میں ہے۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے، زمین دھنس جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں۔
طبرانی میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان سے جبرائیل و میکائیل مسجد اقصی تک شب معراج میں لے گئے، جبرائیل آپ کے دائیں تھے اور میکائیل بائیں۔ آپ کو ساتوں آسمان تک اڑا لے گئے وہاں سے آپ لوٹے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بلند آسمانوں میں بہت سی تسبیحات کے ساتھ یہ تسبیح سنی کہ «سَبَّحَتْ السَّمَاوَات الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَة مُشْفِقَات لِذِي الْعُلُوّ بِمَا عَلَا سُبْحَان الْعَلِيّ الْأَعْلَى سُبْحَانه وَتَعَالَى» ‏‏‏‏ } ۱؎ [طبرانی:243:اسنادہ ضعیف]‏‏‏‏
مخلوق میں سے ہر ایک چیز اس کی پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے۔ لیکن اے لوگو تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہ تمہاری زبان میں نہیں۔ حیوانات، نباتات، جمادات سب اس کے تسبیح خواں ہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ { کھانا کھاتے میں کھانے کی تسبیح ہم سنتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3579]‏‏‏‏
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی میں چند کنکریاں لیں، میں نے خود سنا کہ وہ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح تسبیح باری کر رہی تھیں۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی۔ } ۱؎ [مسند بزار:2413]‏‏‏‏
یہ حدیث صحیح میں اور مسندوں میں مشہور ہے۔ { کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنیوں اور جانوروں پر سوار کھڑے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ سواری سلامتی کے ساتھ لو اور پھر اچھائی سے چھوڑ دیا کرو، راستوں اور بازاروں میں اپنی سواریوں کو لوگوں سے باتیں کرنے کی کرسیاں نہ بنا لیا کرو۔ سنو بہت سی سواریاں اپنے سواروں سے بھی زیادہ ذکر اللہ کرنے والی اور ان سے بھی بہتر و افضل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:440/3:ضعیف]‏‏‏‏
سنن نسائی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مار ڈالنے کو منع فرمایا اور فرمایا اس کا بولنا تسبیح الٰہی ہے۔ } ۱؎ [طبرانی اوسط:3728:ضعیف]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ‏‏‏‏کا کلمہ اخلاص کہنے کے بعد ہی کسی کی نیکی قابل قبول ہوتی ہے۔ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کلمہ شکر ہے اس کا نہ کہنے والا اللہ کا ناشکرا ہے۔ «اﷲُ اَکْبَرُ» زمین و آسمان کی فضا بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اﷲِ» کا کلمہ مخلوق کی تسبیح ہے۔ اللہ نے کسی مخلوق کو تسبیح اور نماز کے اقرار سے باقی نہیں چھوڑا۔ جب کوئی «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاِ» پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوا اور مجھے سونپا۔ }
مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی طیالسی جبہ پہنے ہوئے جس میں ریشمی کف اور ریشمی گھنڈیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس شخص کا ارادہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ چرواہوں کے لڑکوں کو اونچا کرے اور سرداروں کے لڑکوں کو ذلیل کرے۔ آپ کو غصہ آگیا اور اس کا دامن گھسیٹتے ہوئے فرمایا کہ تجھے میں جانورں کا لباس پہنے ہوئے تو نہیں دیکھتا؟
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے اور بیٹھ کر فرمانے لگے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بچوں کو بلا کر فرمایا کہ میں تمہیں بطور وصیت کے دو حکم دیتا ہوں اور دو ممانعت۔ ایک تو میں تمہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کرتا ہوں دوسرے تکبر سے روکتا ہوں۔
پہلا حکم تو تمہیں یہ کرتا ہوں کہ «لا الہ الا اللہ» کہتے رہو اس لیے کہ اگر آسمان اور زمین اور ان کی تمام چیزیں ترازو کے پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسرے میں صرف یہی کلمہ ہو تو بھی یہی کلمہ وزنی رہے گا۔ سو اگر تمام آسمان و زمین ایک حلقہ بنا دئے جائیں اور ان پر اس کو رکھ دیا جائے تو وہ انہیں پاش پاش کر دے، دوسرا حکم میرا «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» ‏‏‏‏ پڑھنے کا ہے کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر ایک کو رزق دیا جاتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:169/2-225:صحیح]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ نوح علیہ السلام نے اپنے لڑکے کو کیا حکم دیا فرمایا کہ پیارے بچے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ سبحان اللہ کہا کرو، یہ کل مخلوق کی تسبیح ہے اور اسی سے مخلوق کو روزی دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر چیز اس کی تسبیح و حمد بیان کرتی ہے } اس کی اسناد بوجہ ربذی راوی کے ضعیف ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22325::ضعیف]‏‏‏‏
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ستون، درخت، دروازوں کی چولیں، ان کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز، پانی کی کھڑکھڑاہٹ یہ سب تسبیح الٰہی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہر چیز حمد و ثنا کے بیان میں مشغول ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں طعام بھی تسبیح خوانی کرتا ہے سورۃ الحج کی آیت بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔ اور مفسرین کہتے ہیں کہ ہر ذی روح چیز تسبیح خواں ہے۔ جیسے حیوانات اور نباتات۔
ایک مرتبہ حسن رحمہ اللہ کے پاس خوان آیا تو ابویزید قاشی نے کہا کہ اے ابوسعید کیا یہ خوان بھی تسبیح گو ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک تر لکڑی کی صورت میں تھا تسبیح گو تھا جب کٹ کر سوکھ گیا تسبیح جاتی رہی۔ اس قول کی تائید میں اس حدیث سے بھی مدد لی جا سکتی ہے
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہیں فرماتے ہیں انہیں عذاب کیا جا رہا ہے اور کسی بڑی چیز میں نہیں ایک تو پیشاب کے وقت پردے کا خیال نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا، پھر آپ نے ایک تر ٹہنی لے کر اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر گاڑ دئے اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:218]‏‏‏‏ اس سے بعض علماء نے کہا ہے کہ جب تک یہ تر رہیں گی تسبیح پڑھتی رہیں گی جب خشک ہو جائیں گی تسبیح بند ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے اپنے گنہگاروں کو سزا کرنے میں جلدی نہیں کرتا، تاخیر کرتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، پھر بھی اگر کفر و فسق پر اڑا رہے تو اچانک عذاب مسلط کر دیتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، پھر جب مواخذہ کرتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ } دیکھو قرآن میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» ‏‏‏‏ [11-هود:102]‏‏‏‏ ’ جب تیرا رب کسی بستی کے لوگوں کو ان کے مظالم پر پکڑتا ہے تو پھر ایسی ہی پکڑ ہوتی ہے ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4686]‏‏‏‏ الخ
اور آیت میں ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [22-الحج:48]‏‏‏‏ ’ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر آخر پکڑلیا۔ ‘
اور آیت میں ہے ’ ہاں جو گناہوں سے رک جائے، ان سے ہٹ جائے، توبہ کرے تو اللہ بھی اس پر رحم اور مہربانی کرتا ہے۔ ‘
جیسے آیت قرآن میں ہے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:110]‏‏‏‏ ’ جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے؟ پھر استغفار کرے تو اللہ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ ‘
سورۃ فاطر کے آخر کی آیتوں «إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا * وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا * اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا * أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا» ۱؎ [35-فاطر:41-44]‏‏‏‏ میں یہی بیان ہے۔