ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 40

اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾
پھر کیا تمھارے رب نے تمھیں بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لی ہیں؟ بے شک تم یقینا ایک بہت بڑی بات کہہ رہے ہو۔ En
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
En
کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40){ اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ …:} اس آیت میں مشرکین عرب کی جہالت پر طنز ہے، جو یہ کہہ کر فرشتوں کی عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۲۱، ۲۲، ۲۷، ۲۸)، زخرف (۱۹) اور نحل (۵۷، ۵۸) فرمایا کتنی بڑی بات کہہ رہے ہو کہ وہ جو ہر شے کا خالق و مالک ہے، اس نے تمھیں اولاد میں سے بیٹوں کے لیے خاص کر لیا جو افضل ہیں اور اپنے لیے بیٹیاں بنا لیں جنھیں تم نہایت ردی اور باعث عار سمجھتے ہو اور بعض اوقات زندہ دفن کرنے سے بھی باز نہیں آتے، یقینا یہ بہت بڑی گستاخی کی بات ہے۔ اگر اس نے اولاد بنانی ہی تھی تو وہ جس طرح کی چاہتا بنا لیتا، پھر وہ محض بیٹیاں ہی کیوں رکھتا؟ (دیکھیے زمر: ۴) وہ تو بیٹے بیٹیوں سے ہے ہی پاک، کیونکہ یہ محتاجی کی دلیل ہے۔ دیکھیے سورۂ اخلاص کی تفسیر، سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت اور مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ کیا تمہارے پروردگار نے بیٹے دینے کو تو تمہیں چن لیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنا لیا ہے۔ کتنی بڑی (گناہ کی) بات [50] ہے جو تم کہہ رہے ہو۔
[50] توحید کے بیان کے ساتھ ہی مشرکین مکہ کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ کے شریک بھی بناتے تھے تو اناث کو۔ جنہیں اپنے لیے قطعاً ناگوار سمجھتے تھے اور اسی طرح دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے تھے۔ [تفصيل كے ليے سورة نحل آيت نمبر 57 كا حاشيه ملاحظه فرمايئے]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مجرمانہ سوچ پر تبصرہ ٭٭
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو بلکہ زندہ درگور کر دو انہیں اللہ کے لیے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ
«وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا * لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا * تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا * أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا * وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا * إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا * لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا * وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ‏‏‏‏ [19-مريم:88-95]‏‏‏‏
یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتاً انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہو جائے، پہاڑ چورا چورا ہو جائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔