یہ اس میں سے ہیں جو تیرے رب نے حکمت میں سے تیری طرف وحی کی اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بنا، پس تو ملامت کیا ہوا، دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
En
اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے
یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خورده اور راندہٴ درگاه ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے
En
(آیت 39){ذٰلِكَمِمَّاۤاَوْحٰۤىاِلَيْكَ …:} نصیحت کی ابتدا {”وَلَاتَجْعَلْمَعَاللّٰهِاِلٰهًااٰخَرَ“} سے ہوئی تھی اور اسی کے ساتھ بات ختم فرمائی۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۲۲) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ یہ سب حکمت کی باتیں [49] ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ کی طرف وحی کی ہیں۔ اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ نہ بنانا، ورنہ ملازمت زدہ اور دھتکارے ہوئے بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔
[49] یہ سب باتیں بیش بہا نصیحتیں اور حکمت کے موتی ہیں۔ جن پر تمہارے تہذیب و تمدن اور عقائد و اخلاق کی عمارت استوار ہو گی۔ ان تمام باتوں میں سے پہلی بات توحید سے متعلق تھی اسی پر ان نصائح کا اختتام ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان سب کا اصل الاصول توحید ہی ہے لہٰذا آخر میں اس کی پھر تاکید کی گئی۔ کیونکہ توحید کے بغیر تو کوئی نیکی بھی کام نہ آسکے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ذلیل کن عادتیں ٭٭
یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں۔ ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہو گی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کر دیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معصوم ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ذٰلِكَ ﴾”یہ ہے“ یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے ﴿ مِمَّاۤاَوْحٰۤىاِلَیْكَرَبُّكَمِنَالْحِكْمَةِ﴾”ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے“ اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کر دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتدا کی تھی۔ فرمایا: ﴿ وَلَاتَجْعَلْمَعَاللّٰهِاِلٰهًااٰخَرَفَ٘تُ٘لْ٘قٰىفِیْجَهَنَّمَ﴾”اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں “ یعنی ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ مَلُوْمًامَّدْحُوْرًؔا ﴾”ملامت زدہ دھتکارا ہوا“ یعنی تیرے لیے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك} الذي بيَّنَّاه ووضَّحناه من هذه الأحكام الجليلة، {مما أوحى إليك ربُّك من الحكمة}: فإنَّ الحكمة الأمر بمحاسن الأعمال ومكارم الأخلاق والنهي عن أراذل الأخلاق وأسوأ الأعمال. وهذه الأعمال المذكورة في هذه الآيات من الحكمة العالية التي أوحاها ربُّ العالمين لسيِّد المرسلين في أشرف الكتب ليأمر بها أفضل الأمم؛ فهي من الحكمة التي من أوتيها؛ فقد أوتي خيراً كثيراً. ثم ختمها بالنهي عن عبادة غير الله كما افتتحها بذلك، فقال: {ولا تَجْعَلْ مع الله إلهاً آخر فَتُلقى في جهنَّم}؛ أي: خالداً مخلَّداً؛ فإنَّه من يُشْرِك بالله فقد حرَّم الله عليه الجنة ومأواه النار. {مَلوماً مَدْحوراً}؛ أي: قد لحقتك اللائمة واللعنة والذمُّ من الله وملائكته والناس أجمعين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔