ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 27

اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾
بے شک بے جا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ En
کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے
En
بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27){ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤااِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ …:} بے جا خرچ کرنے والوں کو ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی، یعنی شیطانوں کے ساتھی اور ان جیسے قرار دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان ہمیشہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کی ناشکری کرتے ہوئے انھیں غلط جگہ میں خرچ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص مالک کے دیے ہوئے مال کو مالک کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ ترجمے میں ہمیشہ کا مفہوم { كَانُوْۤا} اور { كَانَ } سے ظاہر ہو رہا ہے۔ مفسر طنطاوی لکھتے ہیں: { وَكَانَ الشَّيْطَانُ فِيْ كُلِّ وَقْتٍ وَفِيْ كُلِّ حَالٍ جَحُوْدًا لِنِعَمِ رَبِّهٖ لَا يَشْكُرُهُ عَلَيْهَا }

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 تبذیر کی اصل بذر (بیج) ہے، جس طرح زمین میں بیج ڈالتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ صحیح جگہ پر پڑ رہا ہے یا اس سے ادھر ادھر، بلکہ کسان بیج ڈالے چلا جاتا ہے (فضول خرچی) بھی یہی ہے کہ انسان اپنا مال بیج کی طرح اڑاتا پھرے اور خرچ کرنے میں حد شرع سے تجاوز کرے اور بعض کہتے ہیں کہ تبذیر کے معنی ناجائز امور میں خرچ کرنا ہیں چاہے تھوڑا ہی ہو۔ ہمارے خیال میں دونوں ہی صورتیں تبذیر میں آجاتی ہیں۔ اور یہ اتنا برا عمل ہے کی اس کے مرتکب کو شیطان سے مشابہت ہے اور شیطان کی مماثلت سے بچنا چاہیے وہ کسی ایک ہی خصلت میں ہو، انسان کے لئے واجب ہے، پھر شیطان کو کَفُوْر (بہت ناشکرا) کہہ کر مذید بچنے کی تاکید کردی ہے اگر شیطان کی مشابہت اختیار کرو گے تو تم بھی اس کی طرح کَفُوْر قرار دئیے جاؤ گے۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986]‏‏‏‏
بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف]‏‏‏‏
اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67]‏‏‏‏ ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘
پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔
اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]‏‏‏‏
یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔