ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 23

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو ’’اف‘‘ مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔ En
اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا
En
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) ➊ {وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ:} پچھلی آیت میں شرک سے منع فرمانے کے بعد صرف اپنی عبادت کی تاکید کے لیے لفظ { قَضٰى } استعمال فرمایا، جس میں انتہائی تاکید پائی جاتی ہے، کیونکہ فیصلہ قطعی ہوتا ہے اور وہ بدلا نہیں جاتا، چنانچہ فرمایا { قَضٰى } یعنی قطعی حکم اور فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سو اکسی کی عبادت نہ کرو، یعنی صرف اس کے بندے بن کر رہو، غیبی قوتوں کا مالک صرف اس کو سمجھ کر اس سے مانگو۔ انتہائی درجے کی محبت اور خوف کے ساتھ انتہائی عاجزی صرف اس کے لیے اختیار کرو۔ تمھارے دل، زبان اور جسم کے ہر حصے کا اس طرح کا ہر فعل مثلاً قیام، سجدہ، رکوع اور قربانی بلکہ پوری زندگی ایسی عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔
➋ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا: اِحْسَانًا } امر { أَحْسِنُوْا} کا مصدر ہے، جو تاکید کے لیے ہے اور امر کی جگہ آتا ہے۔ اس کے ساتھ امر کا لفظ ذکر نہیں ہوتا مگر مراد امر تاکیدی ہوتا ہے، یعنی والدین کے ساتھ بہت نیکی کرو۔ { اِمَّا } اصل میں { إِنْ مَا } ہے، {مَا} شرط کی تاکید کے لیے ہے، یعنی اگر کبھی۔ ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ دونوں فوت ہو چکے تھے، ان دونوں یا ایک کا بڑھاپے میں پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دینے کے باوجود اصل حکم ہر شخص کو ہے۔ ماں باپ خواہ بوڑھے ہوں یا جوان، ہر حال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انھیں جھڑکنا گناہ ہے، مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے، بلکہ بسااوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے، اس لیے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمایا۔
➌ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر صرف اپنی عبادت کی تاکید کے ساتھ والدین سے احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۳۶) اور سورۂ بقرہ (۸۳) دوسرے مقامات پر واضح فرمایا کہ ان سے حسن سلوک لازم ہے، خواہ وہ کافر و مشرک ہوں، بلکہ اگرچہ شرک و کفر کی دعوت بھی دیتے ہوں۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۱۵) اور سورۂ عنکبوت (۸) احادیث میں بھی والدین سے حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، قِيْلَ مَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِقَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ] [مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ…: 2551/10] اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کس کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان میں سے ایک کو یا دونوں کو، پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔
➍ { عِنْدَكَ } کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم والدین کے پاس تھے اور ان کے محتاج تھے، اب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے تمھارے پاس اور تمھارے محتاج ہیں۔ چنانچہ انھیں اف بھی نہ کہو، جو اکتاہٹ اور بے ادبی کا ہلکے سے ہلکا لفظ ہے، پھر اس سے زیادہ کوئی سخت لفظ بولنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
➎ { قَوْلًا كَرِيْمًا:} بعض اہلِ علم نے اس کی تفسیر میں قول کریم کی نقشہ کشی یوں فرمائی کہ ان سے ایسے بات کر جیسے ایک خطا کار غلام اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے اور بعض نے فرمایا کہ بچپن میں جس طرح تمھارے پیشاب پاخانہ کو صاف کرتے وقت وہ کوئی کراہت محسوس نہ کرتے تھے، بلکہ محبت ہی سے پیش آتے تھے، اب تم بھی ان سے وہی سلوک کرو۔ (بغوی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت، ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہے۔ گویا ربوبیت الٰہی کے تقاضوں کے ساتھ اطاعت والدین کے تقاضوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ احادیث میں بھی اس کی اہمیت اور تاکید کو خوب واضح کردیا گیا ہے، پھر بڑھاپے میں بطور خاص ان کے سامنے ' ہوں ' تک کہنے اور ان کو ڈانٹنے ڈپٹنے سے منع کیا ہے، کیونکہ بڑھاپے میں والدین تو کمزور، بےبس اور لا چار ہوتے ہیں، جب کہ اولاد جوان اور وسائل معاش پر قابض ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جوانی کے دیوانے جذبات اور بڑھاپے کے سرد و گرم تجربات میں تصادم ہوتا ہے۔ ان حالات میں والدین کے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم اللہ کے ہاں سرخ رو وہی ہوگا جو ان تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ آپ کے [23] پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم اس کے علاوہ [24] اور کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بہتر [25] سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو [26] انھیں اف تک نہ کہو، نہ ہی انھیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو۔
[23] اسلامی معاشرہ کے لئے چودہ بنیادی احکام تورات کی تعلیم کا خلاصہ:۔
اس آیت سے لے کر آگے پندرہ سولہ آیات میں ایسے بنیادی اصول و احکام بیان کیے جا رہے ہیں جو ایک اسلامی معاشرہ کی تعمیر کے لیے بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ اور جن پر مستقبل قریب میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جانے والی تھی۔ گویا یہ اسلامی ریاست کا دستور اساسی تھا جس کا مکہ کی آخری زندگی میں ہی اعلان کر دیا گیا تھا کہ اس نئی ریاست کی بنیاد کن کن نظری، اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی اور سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ تورات کی ساری تعلیم کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرما دیا ہے۔
[24] توحید کا فیصلہ اللہ نے کب کیا تھا؟
اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کب کیا تھا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اس وقت ہی کر دیا تھا جب سیدنا آدمؑ کو پیدا کر کے اس کی پشت سے پیدا ہونے والی تمام روحوں کو نکال کر اپنے سامنے حاضر کیا اور پوچھا تھا ”کیا میں تمہارا پروردگار نہیں؟“ تو سب نے جواب دیا تھا ”کیوں نہیں۔ ہم اس کا اقرار کرتے ہیں“ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میں یہ اقرار تم سے اس لیے لے رہا ہوں مبادا تم قیامت کو یوں کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے آباء و اجداد کرتے رہے اور ہم تو اس سے بے خبر تھے“ [7: 172، 173]
اسی عہد کا خلاصہ اس جملہ میں آ گیا ہے یعنی اقرار ایک تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے موجود ہونے پر تھا اور دوسرے اس بات پر کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں بنایا جائے گا۔
دنیا کے مذاہب توحید پرست ہمیشہ موجود رہے ہیں اگرچہ کم کیوں نہ ہوں:۔
اعتقادی لحاظ سے انسان دو قسموں میں بٹا ہوا ہے ایک وہ فریق ہے جو سرے سے ہی اللہ کے وجود کا قائل نہیں جیسے دہرئیے اور نیچری وغیرہ۔ دوسرے وہ جو کسی نہ کسی مذہب کے پیروکار اور اللہ کی ہستی کے قائل ہیں۔ اس لحاظ سے پہلی قسم کے لوگ تھوڑے ہیں اور اکثریت ایسی ہی رہی ہے جو اللہ کے وجود کی قائل رہی ہے۔ پھر یہ دوسرا گروہ یعنی اللہ کی ہستی کے قائل لوگ دو قسموں میں بٹ گئے۔ ایک وہ جو اللہ کو مانتے بھی ہیں مگر ساتھ ساتھ اس کے شریک بھی بنائے جاتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو توحید پر قائم رہے۔ ان میں اکثریت پہلی قسم کے لوگوں کی ہے اور توحید پرست کم ہی رہے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ انسان اس کی ہستی کا قائل بھی ہو اور اس کے ساتھ شرک بھی نہ کرے۔ اب جن لوگوں نے اللہ کی ہستی کا انکار کیا انہوں نے بھی اللہ سے کیے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کی اور جنہوں نے شرک کیا انہوں نے بھی خلاف ورزی کی۔ باقی تھوڑے ہی لوگ بچتے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا۔ اور اللہ کے فیصلے کے مطابق زندگی بسر کی اور وہ صرف توحید پرستوں کا قلیل سا طبقہ دنیا میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور تا قیامت موجود رہے گا تاکہ لوگوں پر ہر وقت اتمام حجت ہو سکے۔ چنانچہ سورۃ یوسف کی اس آیت: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
[25] والدین سے بہتر سلوک اور ادائیگی حقوق:۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنے ذکر کے ساتھ متصل والدین کا ذکر فرمایا۔ پھر یہ نہیں فرمایا کہ والدین کے حقوق ادا کرو بلکہ یوں فرمایا ان سے بہتر سلوک کرو اور یہ تو واضح ہے کہ بہتر سلوک میں حقوق کی ادائیگی کے علاوہ اور بھی بہت کچھ آجاتا ہے۔ اسی طرح احادیث صحیحہ میں شرک کے بعد دوسرے نمبر پر عقوق والدین کو گناہ کبیرہ شمار کیا گیا ہے اور عقوق کے معنی عموماً نافرمانی کر لیا جاتا ہے حالانکہ عقوق کا معنی ہر وہ فعل ہے جس سے والدین کو ذہنی اور روحانی اذیت پہنچے۔ مثلاً والدین کی طرف بے توجہی بالخصوص اس وقت جبکہ وہ بوڑھے اور توجہ کے محتاج ہوں۔ یہ بات نافرمانی کے ضمن میں نہیں آتی مگر عقوق کے معنی میں ضرور آجاتی ہے اسی لیے قرآن نے ہر مقام پر والدین سے احسان یا بہتر سلوک کا ذکر فرمایا۔
[26] والدین سے حسن سلوک کی وجوہ:۔
جب والدین بوڑھے ہوں اور کما بھی نہ سکتے ہوں اور ان کی اولاد جوان اور برسر روزگار ہو۔ تو والدین کئی لحاظ سے اولاد سے بہتر سلوک کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اولاد ان سے مالی تعاون کرے اور ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرے۔ دوسرے یہ کہ والدین کی محبت تو اپنی اولاد سے بدستور قائم رہتی ہے مگر اولاد کی محبت آگے اپنی اولاد کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اس لیے اولاد اپنی اولاد کی طرف متوجہ رہتی ہے اور والدین کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ حالانکہ اس عمر میں والدین کو اولاد سے زیادہ خاصی توجہ، محبت اور الفت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیسرے یہ کہ والدین کا مزاج بڑھاپے کی وجہ سے طبعی طور پر چڑچڑا سا ہو جاتا ہے اور اولاد چونکہ اب ان کی طرف سے بے نیاز ہو چکی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ والدین کی باتیں برداشت کرنے کے بجائے انھیں الٹی سیدھی باتیں سنانے لگتی ہے انھیں وجوہ کی بنا پر اولاد کو یہ تاکید کی گئی کہ ان سے بات کرو تو ادب کے ساتھ اور محبت و الفت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر بات کرو۔ جس سے انھیں کسی قسم کی ذہنی یا روحانی اذیت نہ پہنچے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭
یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، } ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14]‏‏‏‏ ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔‘
خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔
ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟
ماں باپ سے سلوک و احسان کے احکام کی حدیثیں بہت سی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین دفعہ آمین کہی، جب آپ سے وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے پاس تیرا ذکر ہو اور اس نے تجھ پر درود بھی نہ پڑھا ہو۔ کہئے آمین چنانچہ میں نے آمین کہی۔
پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچہ کو پالا اور کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو گیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہے اور جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ اسے جہنم سے آزاد کرے گا اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم سے آزاد ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد]‏‏‏‏
اس حدیث کی ایک سند میں ہے { جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد]‏‏‏‏
مسند احمد کی ایک روایت میں { یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ } ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
ایک روایت میں { ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے } الخ۔ ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
ایک روایت میں { تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2551]‏‏‏‏
ایک روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ { میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (‏‏‏‏١) ان کے جنازے کی نماز (‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ ان کے لیے دعا و استغفار (‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ ان کے وعدوں کو پورا کرنا (‏‏‏‏٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ایک شخص نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد کے ارادے سے آپ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تیری ماں ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا جا اسی کی خدمت میں لگا رہ۔ جنت اسی کے پیروں کے پاس ہے۔ دو بارہ سہ بارہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی یہی بات دہرائی اور یہی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دہرایا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3106،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
{ آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ } ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح]‏‏‏‏
بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ { ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ } ۱؎ [طبرانی صغیر:255:ضعیف]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔