(آیت99){اِنَّهٗلَيْسَلَهٗسُلْطٰنٌعَلَى …:} صحیح ایمان اور توکل والوں پر شیطان کا تسلط اور غلبہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں فرما دیا تھا: «{ اِنَّعِبَادِيْلَيْسَلَكَعَلَيْهِمْسُلْطٰنٌاِلَّامَنِاتَّبَعَكَمِنَالْغٰوِيْنَ }»[الحجر: ۴۲]”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔“ البتہ وہ انھیں گمراہ کرنے کی کوشش سے باز نہیں آتا اور بعض اوقات وہ کچھ متاثر بھی ہو سکتے ہیں، مگر وہ اللہ سے ڈر کی برکت سے فوراً آگاہ ہو کر اس کے پنجے سے نکل جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّالَّذِيْنَاتَّقَوْااِذَامَسَّهُمْطٰٓىِٕفٌمِّنَالشَّيْطٰنِتَذَكَّرُوْافَاِذَاهُمْمُّبْصِرُوْنَ }»[الأعراف: ۲۰۱]”یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ حج (۵۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
99۔ اس کا ان لوگوں پر کوئی بس نہیں چلتا جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آعوذ کا مقصد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔