ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 98

فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾
پس جب تو قرآن پڑھے تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر۔ En
اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو
En
قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت98){فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ …:} ہدایت کا سرچشمہ قرآن کریم ہے، ادھر گمراہی کا سرچشمہ شیطان ہے، جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسے کسی صورت آدمی کا قرآن پڑھنا برداشت نہیں، سو وہ ہر حال میں اسے قرآن پڑھنے سے باز رکھتا ہے اور اگر کوئی پڑھنے لگے تو اس کے دل میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنے سے پہلے {أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ} یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ کی دعا کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہی ہمیں اس ظالم سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ شیطان انسان بھی ہوتے ہیں، جن بھی۔ (دیکھیے انعام: ۱۱۲) ان سے پناہ کی دعا کے ساتھ ان سے بچنے کے ذرائع اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ان سے میل جول اور دلی دوستی رکھے اور {أَعُوْذُ بِاللّٰهِ} پڑھ کر اپنے آپ کو ان سے محفوظ سمجھے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو توپ کے گولوں سے اوٹ لیے بغیر اللہ سے پناہ مانگتا رہے اور اپنے آپ کو گولوں سے محفوظ سمجھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

98۔ 1 خطاب اگرچہ نبی سے ہے لیکن مخاطب ساری امت ہے۔ یعنی تلاوت کے آغاز میں اَ عُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھا جائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

98۔ پھر جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے [102] اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں
[102] تلاوت سے پہلے تعوذ پڑھنا:۔
ایمان کی حقیقت اور اعمال صالحہ کے علم کا منبع قرآن ہی ہے لہٰذا قرآن کی تلاوت بذات خود بہت بڑا صالح عمل ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ: ﴿خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (تم میں سے بہتر شخص وہ ہے کہ جو خود قرآن سیکھے پھر اسے دوسروں کو سکھلائے) اور قرآن کی تلاوت کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ تلاوت شروع کرنے سے پہلے ﴿اَعُوْذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھ لیا جائے یعنی میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں یا اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ پناہ عموماً کسی نقصان دینے والی چیز یا دشمن سے درکار ہوتی ہے اور ایسی ہستی سے پناہ طلب کی جاتی ہے جو اس نقصان پہچانے والی چیز یا دشمن سے زیادہ طاقتور ہو، شیطان چونکہ غیر محسوس طور پر تلاوت کرنے والے آدمی کی فکر پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور تلاوت کے دوران اسے گمراہ کن وسوسوں اور کج فکری میں مبتلا کر سکتا ہے۔ لہٰذا شیطان کی اس وسوسہ اندازی سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے آگے شیطان بالکل بے بس ہے۔ گویا یہ دعا در اصل قرآن سے صحیح رہنمائی حاصل کرنے کی دعا ہے۔ جبکہ شیطان کی انتہائی کوشش ہی یہ ہوتی ہے کہ کوئی شخص قرآن سے ہدایت نہ حاصل کرنے پائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آعوذ کا مقصد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں ‘۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔
ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔
اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ب کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب آپ کتاب اللہ کی قرأت کا ارادہ کریں، جو تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل اور جلیل ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں دلوں کی اصلاح اور بہت سے علوم پنہاں ہیں۔ بندہ جب فضیلت والے امور کی ابتداء کرتا ہے تو شیطان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بندے کو ان کے مقاصد اور معانی سے دور کر دے۔ شیطان کے شر سے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے لیے التجا کرے، چنانچہ کتاب اللہ کی قرأت کرنے والا تعوذ کے معانی میں تدبر کے ساتھ (أعوذ باللٰہ من الشیطان الرجیم) پڑھے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے کہ وہ شیطان کے شر کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ شیطان کے وسوسوں اور ردی افکار کو دور جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور ان وسوسوں کو دفع کرنے کے لیے مضبوط ترین سبب استعمال کرے اور وہ ہے ایمان اور توکل کے زیور سے آراستہ ہونا اس لیے کہ شیطان ﴿ لَ٘یْسَ لَهٗ سُلْطٰ٘نٌ اسے کوئی تسلط حاصل نہیں ﴿ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰى رَبِّهِمْ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر جس کا کوئی شریک نہیں ﴿ یَتَوَؔكَّلُوْنَ بھروسہ کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ توکل کرنے والے اہل ایمان سے شیطان کے شر کو دور ہٹا دیتا ہے اور شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ یعنی شیطان کا تسلط ﴿ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ صرف انھی لوگوں پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے گروہ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیطان کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں۔ شیطان ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا رہتا ہے اور انھیں جہنم کے راستوں پر لے جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإذا أردت القراءة لكتاب الله الذي هو أشرفُ الكُتُب وأجلُّها، وفيه صلاحُ القلوب والعلوم الكثيرة؛ فإنَّ الشيطان أحرصُ ما يكون على العبد عند شروعِهِ في الأمور الفاضلة، فيسعى في صرفِهِ عن مقاصدِها ومعانيها؛ فالطريق إلى السلامة من شرِّه الالتجاءُ إلى الله والاستعاذة به من شرِّه، فيقول القارئ: أعوذُ بالله من الشيطان الرجيم؛ متدبِّراً لمعناها، معتمداً بقلبه على الله في صرفه عنه، مجتهداً في دفع وسواسه وأفكاره الرَّديئة، مجتهداً على السبب الأقوى في دفعه، وهو التحلِّي بحِلْية الإيمان والتوكُّل؛ فإنَّ الشيطان {ليس له سلطانٌ}؛ أي: تسلُّط {على الذين آمنوا وعلى ربِّهم}: وحده لا شريك له، {يتوكَّلونَ}: فيدفع الله عن المؤمنين المتوكِّلين عليه شرَّ الشيطان ولا يبقى له عليهم سبيلٌ. {إنَّما سلطانُه}؛ أي: تسلُّطه {على الذين يَتَوَلَّوْنه}؛ أي: يجعلونه لهم وليًّا، وذلك بتخلِّيهم عن ولاية الله، ودخولهم في طاعة الشيطان، وانضمامهم لحزبه؛ فهم الذين جعلوا له ولايةً على أنفسهم، فأزَّهم إلى المعاصي أزًّا، وقادهم إلى النار قَوْداً.