تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمداللہ۔
اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الجھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لیے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آ جائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے ‘۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ“ ب“ کو «سبـبـیہ» بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھہرا لیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فإذا أردت القراءة لكتاب الله الذي هو أشرفُ الكُتُب وأجلُّها، وفيه صلاحُ القلوب والعلوم الكثيرة؛ فإنَّ الشيطان أحرصُ ما يكون على العبد عند شروعِهِ في الأمور الفاضلة، فيسعى في صرفِهِ عن مقاصدِها ومعانيها؛ فالطريق إلى السلامة من شرِّه الالتجاءُ إلى الله والاستعاذة به من شرِّه، فيقول القارئ: أعوذُ بالله من الشيطان الرجيم؛ متدبِّراً لمعناها، معتمداً بقلبه على الله في صرفه عنه، مجتهداً في دفع وسواسه وأفكاره الرَّديئة، مجتهداً على السبب الأقوى في دفعه، وهو التحلِّي بحِلْية الإيمان والتوكُّل؛ فإنَّ الشيطان {ليس له سلطانٌ}؛ أي: تسلُّط {على الذين آمنوا وعلى ربِّهم}: وحده لا شريك له، {يتوكَّلونَ}: فيدفع الله عن المؤمنين المتوكِّلين عليه شرَّ الشيطان ولا يبقى له عليهم سبيلٌ. {إنَّما سلطانُه}؛ أي: تسلُّطه {على الذين يَتَوَلَّوْنه}؛ أي: يجعلونه لهم وليًّا، وذلك بتخلِّيهم عن ولاية الله، ودخولهم في طاعة الشيطان، وانضمامهم لحزبه؛ فهم الذين جعلوا له ولايةً على أنفسهم، فأزَّهم إلى المعاصي أزًّا، وقادهم إلى النار قَوْداً.