تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا …:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کی تاکید اکٹھے ہوں تو قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ صبر کا معنی اپنے آپ کو کسی چیز پر باندھنا اور روک کر رکھنا ہے، یعنی جنھوں نے دنیوی طمع کے مقابلے میں اپنے آپ کو حق پر قائم رکھا۔ صبر بہترین عمل ہے، کیونکہ یہ تمام اعمال کی بنیاد ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر قائم رہنا اور طبیعت کو ان کا پابند رکھنا صبر ہے، اسی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے روکنا صبر ہے اورتیسری قسم مصیبت کے وقت جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کے شکوے سے اپنے آپ کو روکنا صبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔ بہترین عمل سے مراد صبر ہے، یعنی ان کے صبر کے مطابق اجر دیں گے۔ ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہم انھیں ان کے عمل سے بہت زیادہ اچھا اجر دیں گے، جو کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ بے حساب ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [الزمر: ۱۰] ”صرف کامل صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فآثِروا ما يبقى على ما يفنى؛ فإنَّ الذي {عندكم}: ولو كَثُر جدًّا لا بدَّ أن ينفدَ ويفنى، {وما عند الله باقٍ}: ببقائِهِ، لا يفنى ولا يزول؛ فليس بعاقل من آثر الفاني الخسيس على الباقي النفيس، وهذا كقولِهِ تعالى: {بل تؤثِرون الحياةَ الدُّنيا والآخرة خيرٌ وأبقى}. {وما عندَ الله خيرٌ للأبرار}. وفي هذا الحث والترغيب على الزُّهد في الدنيا، خصوصاً الزُّهد المتعيِّن، وهو الزُّهد فيما يكون ضرراً على العبد ويوجب له الاشتغال عما أوجب الله عليه وتقديمه على حقِّ الله؛ فإنَّ هذا الزُّهد واجبٌ. ومن الدواعي للزُّهد أن يقابلَ العبد لَذَّاتِ الدُّنيا وشهواتها بخيرات الآخرة؛ فإنَّه يجد من الفرق والتفاوت ما يدعوه إلى إيثار أعلى الأمرين، وليس الزُّهد الممدوح هو الانقطاع للعبادات القاصرة؛ كالصلاة والصيام والذِّكْر ونحوها، بل لا يكون العبدُ زاهداً زهداً صحيحاً حتَّى يقوم بما يقدِرُ عليه من الأوامر الشرعيَّة الظاهرة والباطنة، ومن الدعوة إلى الله وإلى دينه بالقول والفعل؛ فالزهدُ الحقيقيُّ هو الزهد فيما لا ينفعُ في الدين والدُّنيا، والرغبةُ والسعي في كلِّ ما ينفع. {ولنجزينَّ الذين صبروا}: على طاعة الله وعن معصيته، وفَطَموا أنفسَهم عن الشهوات الدنيويَّة المضرَّة بدينهم؛ {أجْرَهم بأحسنِ ما كانوا يعملون}: الحسنةُ بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة؛ فإنَّ الله لا يضيع أجر من أحسن عملاً.