ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الۡعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور جب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو دیکھ لیں گے تو نہ وہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ En
اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی
En
اور جب یہ ﻇالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وه ڈھیل دیے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت85) ➊ {وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ …:} وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ موحدین تو اپنے گناہوں کی سزا پا کر، یا شفاعت سے، یا محض اللہ کی رحمت سے عذاب سے نکل آئیں گے، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ [النساء: ۱۱۶] بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔ جب کہ ان ظالموں کے عذاب دیکھ لینے کے بعد نہ اس میں کمی کی جائے گی، نہ ایک لمحے کی مہلت دی جائے گی، بلکہ اسی وقت عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ { الْعَذَابَ } سے مراد کفار کے ہر طبقے کے لیے خاص عذاب مراد ہے۔
➋ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، جب کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ کے پاس آ پ کے چچا کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: [لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِيْ ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِيْ مِنْهُ دِمَاغُهُ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب: ۳۸۸۵۔ مسلم: ۲۱۰] امید ہے کہ قیامت کے دن اسے میری شفاعت پہنچے گی تو اسے کم گہری آگ میں ڈالا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی، اس سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ صحیح بخاری ہی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ] اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے درک اسفل میں ہوتا۔ [بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب: ۳۸۸۳] ان دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ کفار کے حق میں کوئی سفارش آگ سے نکلنے کے لیے قبول نہیں ہو گی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی سفارش ان کے والد کے حق میں قبول نہیں ہو گی اور سورۂ شعراء (۱۰۰) اور سورۂ مدثر (۴۸) میں کفار کے متعلق سفارش نہ ہونے کا ذکر ہے۔ ہاں صحیح بخاری کی اس حدیث سے بظاہر کفار کے حق میں سفارش سے عذاب کی تخفیف ثابت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ جنت کے طبقات کی طرح جہنم کے بھی درکات ہیں۔ جنت کا سب سے اعلیٰ طبقہ فردوس ہے اور جہنم کا سب سے سخت حصہ درک اسفل ہے۔ یہ فیصلہ ہونے کے بعد کہ کس کافر کو کون سا عذاب ہو گا جب انھیں جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو جہنم کے سات دروازوں میں سے ہر ایک کے لیے جو دروازہ اور جو عذاب مقرر ہے وہ وہاں پہنچیں گے، اسے دیکھنے کے بعد پھر انھیں کوئی تخفیف یا مہلت نہیں ملے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی، خدمت اور سفارش کی وجہ سے ابوطالب کا فیصلہ پہلے ہی سب سے ہلکے عذاب کا ہو چکا ہو گا، اب وہاں جانے کے بعد اسے مزید تخفیف یا جہنم سے خلاصی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

85۔ 1 ہلکا نہ کرنے کا مطلب، درمیان میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا، عذاب اور مسلسل بلا توقف عذاب ہوگا۔ اور نہ ڈھیل ہی دیئے جائیں گے یعنی، ان کو فوراً لگاموں سے پکڑ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا یا توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا، کیونکہ آخرت عمل کی جگہ نہیں، جزا کا مقام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

85۔ اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، نہ ہی انھیں مہلت دی جائے گی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭
قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے ‘۔
سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» ۱؎ [77-المرسلات:36-35]‏‏‏‏ ’ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ‘۔
مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842]‏‏‏‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔
اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے }۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:12-14]‏‏‏‏ ’ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ ‘۔
اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53]‏‏‏‏ ’ گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39-40]‏‏‏‏ ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی ‘۔
اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:6-5]‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں ‘۔
اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:81-82]‏‏‏‏ ’ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے ‘۔
خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:25]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52]‏‏‏‏ ’ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ‘۔