یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾
وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نا شکرے ہیں۔
En
یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں
En
یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت83) ➊ {يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا: } یعنی خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے، مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں۔{ ” ثُمَّ “ } یہاں تعجب کے لیے ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر اللہ کی نعمتوں کا انکار کر دیتے ہیں، گویا دل میں نعمتوں کا اقرار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں، بلکہ پوچھنے پر اللہ کی نعمتوں کا اقرار زبان سے بھی کرتے ہیں، مثلاً تمھیں کس نے پیدا کیا؟ جواب دیں گے اللہ نے۔ (دیکھیے زخرف: ۸۷) اسی طرح سورۂ مومنون (۸۴ تا ۸۹) میں ان کے اعترافات ذکر فرمائے ہیں۔ مگر وہ ایمان لانے پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ صرف ”لا الٰہ الااللہ“ کہنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اپنی مرضی چھوڑ کر ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننا پڑے گا اور اس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بس ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا جنت کے لیے کافی سمجھا گیا ہے، خواہ پوری زندگی اس کے خلاف ہو۔ وجہ اس کی محض طوطے کی طرح کہنا اور مفہوم سے مکمل لاتعلقی ہے۔ بعض اہل علم نے {” نِعْمَتَ اللّٰهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی لی ہے، یعنی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
➋ { وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ:” اَكْثَرُهُمْ “} اس لیے فرمایا کہ ان کے اکثر جانتے ہوئے کافر تھے۔ کچھ جہل کی وجہ سے بھی انکار کرتے تھے، کچھ دل میں ایمان کا ارادہ بھی رکھتے تھے، کچھ چھوٹے بچے تھے، جو فطرتاً مسلمان تھے مگر کفار کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا شمار دنیوی لحاظ سے کفار میں ہوتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انصاف کا اور انتہائی احتیاط کا ایک نمونہ ہے کہ ان سب کو نعمت پہچان کر پھر کفر کرنے والے قرار نہیں دیا، بلکہ یہ حکم ان کے اکثر پر لگایا۔
➋ { وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ:” اَكْثَرُهُمْ “} اس لیے فرمایا کہ ان کے اکثر جانتے ہوئے کافر تھے۔ کچھ جہل کی وجہ سے بھی انکار کرتے تھے، کچھ دل میں ایمان کا ارادہ بھی رکھتے تھے، کچھ چھوٹے بچے تھے، جو فطرتاً مسلمان تھے مگر کفار کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا شمار دنیوی لحاظ سے کفار میں ہوتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انصاف کا اور انتہائی احتیاط کا ایک نمونہ ہے کہ ان سب کو نعمت پہچان کر پھر کفر کرنے والے قرار نہیں دیا، بلکہ یہ حکم ان کے اکثر پر لگایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
83۔ 1 یعنی اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ساری نعمتیں پیدا کرنے والا اور ان کا استعمال میں لانے کی صلاحیتیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، پھر بھی اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ناشکری کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے بھی ہیں مگر پھر اس کا انکار کر دیتے ہیں اور ان میں سے بیشتر [85] ناشکرے ہیں
[85] یعنی بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلاتے رہنے کے باوجود بھی اگر یہ لوگ اس طرف متوجہ نہیں ہوتے تو آپ اپنا کام کرتے جائیے۔ آپ کی صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ آپ انھیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا کریں۔ اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو دیکھتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں مگر جب شکر گزاری اور اظہار اطاعت کا وقت آتا ہے تو سب کچھ بھول جاتے ہیں گویا دل سے سمجھتے تو ہیں مگر عمل سے انکار کرتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اسی لیے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ ’ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بے پایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بے شمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ’ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے ‘، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ’ اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ ‘ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا }۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت ’ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے ‘، اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ’ اس لیے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ ‘ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا }۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں۔