تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ خچر اور گدھے کے گوشت کی حرمت پر تو سب کا اتفاق ہے، البتہ گھوڑے کے گوشت میں اختلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں اس کا حلال ہونا ثابت ہے۔ بعض لوگ جو اسے حرام سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان تینوں جانوروں کو سواری کے لیے دوسرے جانوروں سے الگ ذکر فرمایا ہے، اگر ان کا کھانا حلال ہوتا ہے تو سواری کے ساتھ انھیں کھانے کی نعمت کا ذکر ضرور ہوتا۔ یہ دلیل اگر درست مانی جائے تو پہلے جانوروں کے فوائد میں سواری کا ذکر نہیں تو ان پر سواری جائز نہیں ہونی چاہیے۔ (طبری) بغوی نے فرمایا کہ یہ آیات حلال و حرام کے بیان سے تعلق ہی نہیں رکھتیں۔ علامۂ شام جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ سورت مکی ہے، اگر اس سے گھوڑے کی حرمت ثابت ہوتی تو گدھے کی بھی ضرور ثابت ہوتی، جب کہ گدھے کا گوشت ان آیات کے بعد بھی حلال رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقع پر اسے حرام فرمایا اور اسی موقع پر گھوڑے کے حلال ہونے کو برقرار رکھا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کی اجازت دی۔ [بخاري، المغازی، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۱۹] اسماء رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ [بخاری، الذبائح والصید، باب النحر و الذبح: ۵۵۱۰۔ مسلم، الصید و الذبائح، باب إباحۃ أکل لحم الخیل: ۱۹۴۲] اسی طرح جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [ترمذي، الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل لحوم الخیل: ۱۷۹۳۔ نسائی: ۴۳۳۳]
علامہ قاسمی فرماتے ہیں کہ ابوداؤد اور نسائی وغیرہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں میں سے ہر کچلی والے جانور اور گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا، اس کی سند میں صالح بن یحییٰ ہے جس میں مقال ہے، امام بخاری نے فرمایا: {”فِيْهِ نَظْرٌ“} اور ایسے راوی کی حدیث لینا درست نہیں ہوتا، پھر اگر صحیح بھی فرض کریں تو یہ اوپر ذکر کردہ صحیح احادیث کے مقابلے میں پیش کرنے کے قابل نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حکم خیبر سے پہلے کا ہو اور منسوخ ہو۔
تنبیہ: صاحبِ ہدایہ نے امام ابوحنیفہ سے گھوڑے کی کراہت نقل فرمائی ہے، حرمت نہیں اور لکھا ہے: ”بعض نے کہا ان کے نزدیک کراہت تحریمی ہے اور بعض نے کہا تنزیہی ہے۔ (صاحب ہدایہ کے خیال میں پہلا قول زیادہ صحیح ہے) البتہ اس کے دودھ سے متعلق کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس سے آلۂ جہاد (گھوڑوں) میں کمی واقع نہیں ہوتی۔“ اس سارے کلام سے گھوڑے کا اور گدھے اور خچر کا فرق واضح ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ امام ابوحنیفہ کا گھوڑوں کے گوشت کو مکروہ کہنے کی اصل و جہ یہ ہے کہ وہ آلۂ جہاد ہیں، ذبح کرنے سے کمی واقع ہو جائے گی۔
➌ { وَ زِيْنَةً:} پچھلی آیات میں جمال اور اس آیت میں زینت کے ذکر سے معلوم ہوا کہ انسانی ضروریات صرف کھانا پینا، پہننا اور سواری ہی نہیں بلکہ حسن و جمال اور زینت کا احساس بھی انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے اور اگر حرام طریقے سے نہ ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انہیں اور چوپایوں پر فضیلت دی اور علیحدہ ذکر کیا اس وجہ سے بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کی دلیل اس آیت سے لی ہے۔ جیسے امام ابوحنیفہ اور ان کی موافقت کرنے والے فقہاء کہتے ہیں کہ خچر اور گدھے کے ساتھ گھوڑے کا ذکر ہے اور پہلے کے دونوں جانور حرام ہیں اس لیے یہ بھی حرام ہوا۔ چنانچہ خچر اور گدھے کی حرمت احادیث میں آئی ہے اور اکثر علماء کا مذہب بھی ہے۔
مسند کی حدیث میں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے خچروں کے اور گدھوں کے گوشت کو منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3790،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن اس کے راویوں میں ایک راوی صالح ابن یحییٰ بن مقدام ہیں جن میں کلام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت یہود کے باغات سے شاید اس وقت تھی جب ان سے معاہدہ ہو گیا۔ پس اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو بیشک گھوڑے کی حرمت کے بارے میں تو نص تھی لیکن اس میں بخاری و مسلم کی حدیث کے مقابلے کی قوت نہیں جس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کو منع فرما دیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4219]
اور حدیث میں ہے کہ { ہم نے خیبر والے دن گھوڑے اور خچر اور گدھے ذبح کئے تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر اور گدھے کے گوشت سے تو منع کردیا لیکن گھوڑے کے گوشت سے نہیں روکا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3789،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”پہلے گھوڑوں میں وحشت اور جنگلی پن تھا اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کے لیے اسے مطیع کردیا۔“ وہب نے اسرائیلی روایتوں میں بیان کیا ہے کہ جنوبی ہوا سے گھوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ان تینوں جانوروں پر سواری لینے کا جواز تو قرآن کے لفظوں سے ثابت ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیے میں دیا گیا تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کرتے تھے } ۱؎ [صحیح بخاری:1481] ہاں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ گھوڑوں کو گدھیوں سے ملایا جائے۔ یہ ممانعت اس لیے ہے کہ نسل منقطع نہ ہو جائے۔
{ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو ہم گھوڑے اور گدھی کے ملاپ سے خچر لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ کام وہ کرتے ہیں جو علم سے کورے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:311/4:صحیح لغیره]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والخيلَ والبغالَ والحميرَ}: سخَّرناها لكم؛ {لتَرْكَبوها وزينةً}؛ أي: تارة تستعملونها للضرورة في الركوب، وتارة لأجل الجمال والزينة، ولم يذكر الأكل؛ لأنَّ البغال والحمير محرَّم أكلها، والخيل لا تستعمل في الغالب للأكل، بل يُنهى عن ذبحها لأجل الأكل خوفاً من انقطاعها، وإلاَّ؛ فقد ثبت في «الصحيحين» أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - أذن في لحوم الخيل. {ويخلق ما لا تعلمونَ}: مما يكون بعد نزول القرآن من الأشياء التي يركبها الخلقُ في البَرِّ والبحرِ والجوِّ ويستعملونها في منافعهم ومصالحهم؛ فإنَّه لم يذكُرْها بأعيانها؛ لأنَّ الله تعالى لم يذكر في كتابه إلا ما يعرفُهُ العباد أو يعرفون نظيرَه، وأمَّا ما ليس له نظيرٌ؛ فإنَّه لو ذُكِرَ؛ لم يعرِفوه ولم يفهموا المراد منه، فيَذْكُرُ أصلاً جامعاً يدخُلُ فيه ما يعلمون وما لا يعلمون؛ كما ذكر نعيم الجنة، وسمَّى منه ما نعلم ونشاهد نظيره؛ كالنخل والأعناب، والرمَّان وأجمل ما لا نعرف له نظيراً في قوله: {فيهما من كلِّ فاكهةٍ زوجانِ}؛ فكذلك هنا ذكر ما نعرفه من المراكب؛ كالخيل والبغال والحمير والإبل والسفن، وأجمل الباقي في قوله: {ويَخْلُقُ ما لا تعلمون}.