ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 57

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَ لَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، وہ پاک ہے اور اپنے لیے وہ جو وہ چاہتے ہیں۔ En
اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں
En
اور وه اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لیے وه جو اپنی خواہش کے مطابق ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت57){وَ يَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ …:} یہ ان کے اللہ تعالیٰ پر دو عیب لگانے کا بیان ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دی، حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ دوسرا عیب یہ کہ فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اولاد قرار دیا اور اولاد بھی مؤنث، جبکہ وہ اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں، لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ذلت قرار دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی بے انصافی ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے { سُبْحٰنَهٗ } (وہ پاک ہے) کہہ کر اپنی ذات سے ہر قسم کی اولاد کی نفی فرمائی، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، کیونکہ پھر اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی، جب کہ خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد باپ کی شریک اور جانشین ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ محتاجی، شرکت اور زوال تینوں سے پاک ہے، کیونکہ یہ تینوں اس کے لیے عیب ہیں، وہ { لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ} ہے اور وہ اکیلا ہی غنی ہے، باقی سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ [فاطر: ۱۵] اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ صرف اسی کے لیے بقا ہے، باقی سب کچھ فانی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۱)، سورۂ بنی اسرائیل (۴۰)، سورۂ صافات (۱۵۱ تا ۱۵۴)، سورۂ زخرف (۱۱) اور سورۂ نجم (۲۱، ۲۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57۔ 1 عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ ان لوگوں نے اللہ کے لئے بیٹیاں [54] تجویز کیں حالانکہ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور ان کے لئے وہ کچھ ہے جو یہ [55] خود چاہیں (یعنی بیٹے)
[54] اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار:۔
ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کم اور دیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چنانچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس دیوی کا نعرہ لگایا اور کہا تھا: «لنا عزيٰ ولاعزيٰ لكم» اور منات کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس دیوی کے پرستار تھے۔ نیز اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا تھا۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہو جاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کر لیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو ان کو اللہ کا شریک بنانے کا دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
[55] یعنی ان کے اللہ کے بارے میں یہ مشرکانہ عقائد اس قدر گھٹیا اور گستاخانہ قسم کے تھے کہ خود تو اپنے لیے بیٹیوں کا وجود بھی باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔ محض اس وجہ سے کہ کوئی ان کا داماد بنے گا اور یہ خود اس کے سسر ہوں گے لیکن اللہ کے معاملہ میں دوہرا ظلم ڈھاتے۔ ایک تو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے اور دوسرے اولاد بھی بیٹیاں۔ گویا اچھی چیز تو اپنے لیے پسند کرتے تھے اور ناقص اللہ کے لیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بازپرس لازمی ہو گی ٭٭
مشرکوں کی بے عقلی اور بے ڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ «هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ» ۱؎ [6-الأنعام:136]‏‏‏‏ ’ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ‘۔ ایسے لوگوں سے ضرور بازپرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔
پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ ’ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کرکے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ‘۔
یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لیے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى» ۱؎ [53-النجم:21-22]‏‏‏‏ پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لیے اولاد ہو؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔
کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لیے لڑکیاں رکھے؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔
یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لیے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں؟ کتنی بے حیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لیے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لیے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لیے ہے اللہ کے لیے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰؔنَهٗ اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں، وہ اس سے پاک ہے کیونکہ انھوں نے فرشتوں کے بارے میں، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، کہا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ﴿ وَلَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ اور ان کے لیے وہ ہے جو وہ چاہتے ہیں یعنی خود اپنے لیے بیٹے چاہتے ہیں حتیٰ کہ بیٹیوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ پس ان کا یہ حال تھا کہ ﴿ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری ملتی تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا اس کرب و غم سے جو اس کو پہنچتا۔ ﴿ وَّهُوَؔ كَظِیْمٌ اور وہ جی میں گھٹتا یعنی جب اسے بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو وہ حزن و غم کے مارے خاموش ہو جاتا حتیٰ کہ وہ اس خبر سے اپنے ابنائے جنس میں اپنی فضیحت محسوس کرتا اور اس خبر پر وہ عار کی وجہ سے منہ چھپاتا پھرتا، پھر وہ اپنی اس بیٹی کے بارے میں جس کی اس کو خوش خبری ملتی، اپنی فکر اور فاسد رائے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے؟
﴿ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ کیا اسے رہنے دے، ذلت قبول کر کے یعنی آیا اہانت اور ذلت برداشت کر کے اسے قتل نہ کرے اور زندہ چھوڑ دے۔ ﴿اَمْ یَدُسُّهٗ فِی الـتُّ٘رَابِ یا اس کو داب دے مٹی میں یعنی اسے زندہ دفن کر دے۔ یہی وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی سخت مذمت کی ہے۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ خبردار، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھیں، یعنی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرنا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں قسموں میں سے اس بدتر قسم کو اللہ کی طرف منسوب کیا جس کو خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے اسے منسوب کر دیتے تھے؟ پس بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويجعلون لله البناتِ}: حيث قالوا عن الملائكةِ العبادِ المقرَّبين: إنَّهم بناتُ الله، {ولهم ما يشتهونَ}؛ أي: لأنفسهم الذُّكور، حتى إنهم يكرهون البنات كراهةً شديدةً؛ فكان أحدهم {إذا بُشِّرَ بالأنثى ظلَّ وجهُهُ مسودًّا}: من الغمِّ الذي أصابه، {وهو كظيمٌ}؛ أي: كاظم على الحزن والأسف إذ بُشِّرَ بأنثى، وحتى إنه يُفْتَضَح عند أبناء جنسه، ويتوارى منهم من سوء ما بُشِّرَ به، ثم يُعْمِلُ فكرَه ورأيَه الفاسد فيما يصنع بتلك البنت التي بُشِّرَ بها: {أيُمْسِكُه على هُوْنٍ}؛ أي: يتركها من غير قتل على إهانةٍ وذلٍّ، {أم يدسُّه في التُّراب}؛ أي: يدفنها وهي حيَّة، وهو الوأدُ الذي ذمَّ الله به المشركين. {ألا ساء ما يحكُمون}: إذ وصفوا الله بما لا يَليق بجلاله من نسبة الولد إليه، ثم لم يكفِهِم هذا حتى نسبوا له أردأ القسمين، وهو الإناث اللاتي يأنفون بأنفسهم عنها ويكرهونها؛ فكيف ينسبونها لله تعالى؟! فبئس الحكم حكمهم.