ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 53

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔ En
اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو
En
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت53تا55){ وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ …: نِعْمَةٍ } (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، { مِنْ } کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہو گئی کہ جو بھی نعمت تمھارے پاس ہے، یعنی تمھارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ { تَجْـَٔرُوْنَ جَأَرَ يَجْأَرُ جُؤَارًا} (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے { خُوَارٌ }، بکری کے لیے { ثُغَاءٌ } اونٹ کے لیے { رُغَاءٌ} اور بھیڑیے اور کتے کے لیے {عُوَاءٌ} آتا ہے۔ { فَتَمَتَّعُوْا } سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۱ تا ۲۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ تمہیں جو نعمت بھی مل رہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے [51] چیخ و پکار کرتے ہو
[51] صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔