وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّہُمۡ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کی خاطر وطن چھوڑا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا، بلاشبہ ہم انھیں دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے اور یقینا آخرت کا اجر سب سے بڑا ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے۔
En
اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے
En
جن لوگوں نے ﻇلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راه میں ترک وطن کیا ہے ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے اور آخرت کا ﺛواب تو بہت ہی بڑا ہے، کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت41) ➊ {وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ …: ” هَاجَرُوْا “ ”هَجَرَ يَهْجُرُ“ } سے باب مفاعلہ ہے۔ {”هَجَرَ“} اور {”هَاجَرَ“} کے مفہوم میں فرق ہے۔ {” هَجَرَ الْمَكَانَ “} ”اس نے فلاں جگہ چھوڑ دی“ ہو سکتا ہے اسے وہ پسند نہ رہی ہو اور وہ اپنے خیال میں اس سے بہتر جگہ چلا گیا ہو، جگہ نے اسے جانے پر مجبور نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے اسے چھوڑ گیا ہے، لیکن{ ”هَاجَرَ “ } یعنی باب مفاعلہ میں مقابلہ پایا جاتا ہے، یعنی قوم کی طرف سے مزاحمت اور مقابلے نے اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، وہ اپنی جگہ چھوڑنے پر ازخود راضی نہ تھا۔ (شعراوی)
➋ اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل کر رہنا ممکن ہی نہ تھا، خصوصاً جب اہل ایمان تعداد اور قوت میں کمزور بھی تھے۔ اپنے وطن کو جہاں بیت اللہ بھی ہو، کون خوشی سے چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے انھوں نے وطن چھوڑا تو دو وجہوں سے، ایک تو قوم کے ظلم کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا: «{ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا }» اور دوسرا اس لیے کہ اللہ کے دین پر عمل کرنا وطن میں ممکن نہ رہا، تو انھوں نے گھر بار، خویش، قبیلے، جائداد، غرض ہر چیز کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ چلے گئے جہاں وہ ظلم سے بھی بچ جائیں اور اللہ کے دین پر بھی عمل کر سکیں۔ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو یا کم و بیش تھی، جن میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رقیہ رضی اللہ عنھا (بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی تھیں، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر مہاجر شامل ہے، خواہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہو یا مدینہ کی طرف، یا کسی بھی ظالم بستی سے امن کی بستی کی طرف۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کا پیشگی اشارہ ہو۔
➌ {لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً …: ” بَوَّءَ يُبَوِّءُ“} (تفعیل) رہنے کی جگہ دینا، ٹھکانا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے لام اور نون ثقیلہ دو تاکیدوں کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا، چنانچہ اس نے ان ناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت غرض ہر چیز عطا فرمائی۔ وہ جزیرۂ عرب ہی کے نہیں، شام، مصر، عراق، فارس کے مالک بنے اور نصف صدی گزری تھی کہ وہ تمام دنیا پر غالب تھے۔ یہ بھی کوئی اجرِ صغیر نہیں، اجرِ کبیر ہے، جو دین کی اشاعت اور آخرت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کبیر ہی کے مقابلے میں اکبر ہوتا ہے، نہ کہ صغیر کے مقابلے میں، اس لیے فرمایا، یقینا آخرت کا اجر اکبر ہے، یعنی اس سے بھی بڑا، بلکہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)، آل عمران (۱۹۵) اور سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➍ { لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} اس سے مراد تین طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں: (1) کافر کہ وہ علم رکھتے ہوتے تو ایمان لے آتے۔ (2) مہاجر کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو انھیں بے حد خوشی ہوتی۔ (3) وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو ضرور ہجرت کرتے۔
➋ اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل کر رہنا ممکن ہی نہ تھا، خصوصاً جب اہل ایمان تعداد اور قوت میں کمزور بھی تھے۔ اپنے وطن کو جہاں بیت اللہ بھی ہو، کون خوشی سے چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے انھوں نے وطن چھوڑا تو دو وجہوں سے، ایک تو قوم کے ظلم کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا: «{ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا }» اور دوسرا اس لیے کہ اللہ کے دین پر عمل کرنا وطن میں ممکن نہ رہا، تو انھوں نے گھر بار، خویش، قبیلے، جائداد، غرض ہر چیز کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ چلے گئے جہاں وہ ظلم سے بھی بچ جائیں اور اللہ کے دین پر بھی عمل کر سکیں۔ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو یا کم و بیش تھی، جن میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رقیہ رضی اللہ عنھا (بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی تھیں، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر مہاجر شامل ہے، خواہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہو یا مدینہ کی طرف، یا کسی بھی ظالم بستی سے امن کی بستی کی طرف۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کا پیشگی اشارہ ہو۔
➌ {لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً …: ” بَوَّءَ يُبَوِّءُ“} (تفعیل) رہنے کی جگہ دینا، ٹھکانا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے لام اور نون ثقیلہ دو تاکیدوں کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا، چنانچہ اس نے ان ناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت غرض ہر چیز عطا فرمائی۔ وہ جزیرۂ عرب ہی کے نہیں، شام، مصر، عراق، فارس کے مالک بنے اور نصف صدی گزری تھی کہ وہ تمام دنیا پر غالب تھے۔ یہ بھی کوئی اجرِ صغیر نہیں، اجرِ کبیر ہے، جو دین کی اشاعت اور آخرت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کبیر ہی کے مقابلے میں اکبر ہوتا ہے، نہ کہ صغیر کے مقابلے میں، اس لیے فرمایا، یقینا آخرت کا اجر اکبر ہے، یعنی اس سے بھی بڑا، بلکہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)، آل عمران (۱۹۵) اور سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➍ { لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} اس سے مراد تین طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں: (1) کافر کہ وہ علم رکھتے ہوتے تو ایمان لے آتے۔ (2) مہاجر کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو انھیں بے حد خوشی ہوتی۔ (3) وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو ضرور ہجرت کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 ہجرت کا مطلب ہے اللہ کے دین کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب چھوڑ کر ایسے علاقے میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہو سکے۔ اس آیت میں ان ہی مہاجرین کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آ کر حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ۔ دختر رسول حضرت رقیہ بھی تھیں۔ 41۔ 2 اس سے رزق طیب اور بعض نے مدینہ مراد لیا ہے، جو مسلمانوں کا مرکز بنا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں قولوں میں منافات نہیں ہے۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے اپنے کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی انھیں نعم البدل عطا فرما دیا۔ رزق طیب بھی دیا اور پورے عرب پر انھیں اقتدار و تمکن عطا فرمایا۔ 41۔ 3 حضرت عمر نے جب مہاجرین و انصار کے وظیفے مقرر کئے تو ہر مہاجر کو وظیفہ دیتے ہوئے فرمایا۔ ھَذَا مَا وَ عَدَکَ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا ' یہ وہ ہے جس کا اللہ نے دنیا میں وعدہ کیا ہے '۔ وما ادخر لک فی الآخرۃ افضل۔ اور آخرت میں تیرے لیے جو ذخیرہ ہے وہ اس سے کہییں بہتر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے لئے ترک وطن کیا، ہم انھیں دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت [42] کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے
[42] ہجرت حبشہ:۔
یہ سورت چونکہ مکی ہے لہٰذا یہاں مہاجرین سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور یہ اسی (80) کے قریب صحابہ کرامؓ تھے جن پر قریش مکہ کی طرف سے مظالم ڈھائے جاتے رہے اور وہ مقدور بھر صبر سے برداشت کرتے رہے لیکن بالآخر قریش مکہ نے انھیں اس قدر نشانہ ستم بنایا کہ وہ اپنا گھر بار، مال و جائیداد اور عزیز و اقارب سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور اللہ کے دین کی خاطر اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ پھر یہی لوگ حبشہ سے دوبارہ ہجرت کر کے مدینہ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہو چکا تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازا اور یہی لوگ ان مشرکوں اور کافروں کے حاکم بن گئے جنہوں نے انھیں مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دین کی پاسبانی میں ہجرت ٭٭
جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کرکے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ ’ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں ‘۔
بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (80) آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔
بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (80) آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔
پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ’ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا ‘۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔
ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔
اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔
ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ’ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں ‘۔
ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔
اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔
ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ’ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں ‘۔