ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 40

اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۴۰﴾
ہمارا کہنا کسی چیز کو، جب ہم اس کا ارادہ کر لیں،اس کے سوا نہیں ہوتا کہ ہم اسے کہتے ہیں ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ En
جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
En
ہم جب کسی چیز کا اراده کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وه ہوجاتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت40){اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ …:} یعنی جس کی قدرت کا یہ حال ہو اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا۔ قرآن و حدیث میں بہت سی جگہ اللہ کے کلام کرنے کا صریح الفاظ میں ذکر ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۶۴۔ توبہ: ۶) یونان کے کافرانہ فلسفے سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کر سکتا، نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھتا ہے۔ ہمارے کچھ مسلمانوں نے جو قرآن کو بھی ماننا چاہتے ہیں اور یونانی فلسفے کو بھی، انھوں نے اللہ کے کلام کو مخلوق کہہ دیا اور سننے اور دیکھنے کا معنی یہ کیا کہ وہ جانتا ہے، حالانکہ کلام، خلق، سمع، بصر اور علم سب الگ الگ صفات ہیں اور اللہ نے خود اپنی یہ صفتیں بیان فرمائی ہیں، البتہ اس کی یہ صفات مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۱۱] اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ کلام بھی کرتا ہے مگر جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس کی مثل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس کی ثابت شدہ صفات سمع، بصر اور کلام وغیرہ کا بھی انکار کر دو، یا ایسا مطلب بیان کرو جس کا نتیجہ انکار ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یعنی لوگوں کے نزدیک قیامت کا ہونا، کتنا بھی مشکل یا ناممکن ہو، مگر اللہ کے لئے تو کوئی مشکل نہیں اسے زمین اور آسمان ڈھانے کے لئے مزدوروں، انجینئروں اور مستریوں اور دیگر آلات و وسائل کی ضرورت نہیں۔ اسے تو صرف کن کہنا ہے اس کے لفظ کن سے پلک جھپکتے میں قیامت برپا ہوجائے گی۔ (وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 16۔ النحل:77) قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے یا اس سے بھی کم مدت میں واقع ہوجائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ ہم تو جب کسی چیز کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اسے بس اتنا ہی کہہ [41] دیتے ہیں کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے
[41] کلمہ ﴿كن فيكون﴾ کی صورت:۔
اللہ کا ارادہ کر لینا ہی اس کا حکم دینا ہے اسے اپنی زبان سے کن کا لفظ ادا کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ارادہ ہی حکم کا درجہ رکھتا ہے اور جب وہ ارادہ کرتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے اسباب و وسائل از خود ہی مہیا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ کام ہو کے رہتا ہے کوئی چیز اس میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔ اور جتنے عرصہ میں اللہ اسے وجود میں لانا چاہتا ہے اتنے ہی عرصہ میں وہ وجود میں آجاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ ہر چیز پر قادر ہے ٭٭
پھر اپنی بے اندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ ’ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام ہو جاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے ‘۔
جیسے فرمایا «وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50]‏‏‏‏ ’ ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہو جائے گا ‘۔
«مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28]‏‏‏‏ ’ تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کر دینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو ادھر کہا ہو جا ادھر ہوگیا ‘۔
اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کر سکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد و قہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔
{ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہیئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حلانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقیناً زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ کہتا ہے «قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ» [5-المائدہ: 73]‏‏‏‏ اللہ تین میں کا تیسرا ہے، حالانکہ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [سورة الإخلاص]‏‏‏‏ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقوفاً مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفوعاً روایت بھی آئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974]‏‏‏‏