ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 36

وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ پس زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ En
اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
En
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت36) ➊ {وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا …: الطَّاغُوْتَ } یہ{ طَغٰي يَطْغٰي طَغْوًا } (ف) سے ہے، آخر میں واؤ اور تاء مبالغہ کے لیے آتی ہیں، جیسا کہ ملکوت بہت بڑا ملک۔ طاغوت کا لفظ {طُغْيَانٌ} سے مشتق ہے جس کے معنی اپنی حد سے بڑھنے کے ہیں۔ یہ شیطان، معبود باطل اور ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو گمراہی کی طرف دعوت دینے والا ہو۔ (شوکانی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے، کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں۔ بت، شیطان اور زبردست ظالم سب ہی طاغوت ہیں۔ (موضح)
➋ {اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …:} چونکہ مشرکین نے دعویٰ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شرک پر راضی ہے، ورنہ وہ ہمیں شرک کیوں کرنے دیتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لام تاکید اور {قَدْ} برائے تحقیق لا کر نہایت تاکید کے ساتھ ان کی تردید فرماتے ہوئے یہ بات کہی کہ ہم نے تو ہر امت میں رسول بھیجا ہی توحید کی دعوت اور شرک کی تردید کے لیے ہے۔ (دیکھیے انبیاء: ۲۵) مگر ہم نے کسی کو توحید یا شرک پر مجبور نہیں کیا، بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں عطا کرکے کفر و ایمان کے دونوں راستے بتا کر اختیار دے دیا۔ (دیکھیے دہر: ۲، ۳) اشرف الحواشی میں ہے، یعنی ہر پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے اور طاغوت سے بچتے رہنے کی دعوت دی، پھر بعض نے تو دعوت کو قبول کرلیا اور ہدایت پا گئے، مگر بعض نے اپنے کفر و شرک پر اصرار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر گمراہی ثبت کر دی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی اس کے امر سے موافقت ضروری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ایمان کا حکم تو سب کو دیتا ہے مگر اللہ کے ارادہ کے مطابق ہدایت بعض کو ہوتی ہے۔ (شوکانی)
➌ { فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یعنی ان کے تباہ شدہ آثار دیکھ کر بتاؤ کہ کیا رسولوں کو جھٹلانے والوں پراللہ کا عذاب نہیں آیا، لہٰذا یہ سمجھنا انتہائی حماقت ہے کہ کفر و شرک کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعے سے اپنی رضا مندی کا راستہ بتایا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے پیغمبروں کی پیروی ضروری ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 مذکورہ شبہ کے ازالے کے لئے مزید فرمایا کہ ہم نے تو ہر امت میں رسول بھیجا اور یہ پیغام ان کے ذریعے سے پہنچایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لیکن جن پر گمراہی ثابت ہوچکی تھی، انہوں نے اس کی پرواہ ہی نہ کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جو انھیں یہی کہتا تھا) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت [36] سے بچو۔ پھر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی ثابت ہو گئی۔ سو تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے [37] والوں کا کیا انجام ہوا؟
[36] طاغوت کے معنی:۔
طاغوت کا اطلاق ہر اس شخص، ادارے، بادشاہ یا حکومت پر ہو سکتا ہے جو اللہ کا نافرمان ہو اور لوگ اس کی اطاعت پر مجبور ہوں۔ ایسا شخص یا ادارہ یا بادشاہ اللہ کا باغی ہوتا ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور یہی کام شیطان کا ہوتا ہے لہٰذا اس لفظ کا ترجمہ عموماً شیطان سے کر دیا جاتا ہے اور اگر انسان اللہ کے احکام کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہی نفس کی اتباع کرنے لگے تو اس کے نفس پر بھی طاغوت کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
[37] تذکیر بایام اللہ:۔
جب بھی کوئی رسول اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور اس نے اللہ کی عبادت اور اپنی فرمانبرداری کی دعوت دی تو اس کی قوم دو حصوں میں بٹ جاتی رہی۔ ایک ماننے والے اور دوسرے اس دعوت سے انکار کرنے والے۔ اب تم محض تاریخ یا لوگوں سے سنی سنائی باتوں پر اعتبار مت کرو۔ بلکہ خود چل پھر کر خود حالات کا جائزہ لو اور دیکھو کہ کیا عذاب الٰہی انہی لوگوں پر نہیں آیا تھا جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو جھٹلا دیا تھا۔ قوم عاد، ثمود، نوح، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم فرعون یہ سب قومیں ایسی ہیں جو تمہارے آس پاس ہی رہا کرتی تھیں۔ اور تمہارے لیے وہاں جا کر ان کا انجام دیکھنا آسان بھی ہے۔ پھر ایسا ایک دو بار نہیں ہوا۔ بلکہ جتنی قوموں کے حالات سے تم مطلع ہو سکتے ہو ان سب سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کیا پھر بھی تم ان مسلسل تاریخی شہادتوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کر سکتے؟ اور یہ سوچ نہیں سکتے کہ اگر ہم بھی اپنے رسول کی تکذیب کریں گے تو ہمارا بھی یہی انجام ہو سکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

الٹی سوچ ٭٭
مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئیے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی -
انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الانبیآء:25]‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45]‏‏‏‏ ’ تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ ‘
یہاں بھی فرمایا ’ ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی ‘۔
پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتداء ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ ‘
پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41]‏‏‏‏ ’ جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا ‘۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ» ۱؎ [11-ھود:34]‏‏‏‏ ’ اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لیے محض بےسود ہے ‘۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ ’ جسے اللہ تعالیٰ بہکادے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ‘۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:186]‏‏‏‏ ’ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں ‘۔
فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:96-97]‏‏‏‏ ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں ‘۔
پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ’ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے ‘۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54]‏‏‏‏ ’ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے ‘۔