ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 32

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾
جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ پاک ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں سلام ہو تم پر، جنت میں داخل ہو جائو، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔ En
(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ
En
وه جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وه پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے، جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت32){الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے حٰم السجدہ (۳۰ تا ۳۲) اور زمر (۷۳، ۷۴) { بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۴۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 ان آیات میں ظالم مشرکوں کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا کردار اور ان کا حسن انجام بیان فرمایا ہے۔ 32۔ 2 سورة اعراف کی آیت 43 کے تحت یہ حدیث گزر چکی ہے کہ کوئی شخص بھی محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، جب تک اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔ لیکن یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنے عملوں کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ، تو ان میں دراصل کوئی منافقت نہیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے اعمال صالحہ ضروری ہیں، اس کے بغیر آخرت میں اللہ کی رحمت مل ہی نہیں سکتی۔ اس لئے حدیث مذکورہ کا مفہوم بھی اپنی جگہ صحیح ہے اور عمل کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس لیے ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے ان اللہ لا ینظر الی صورکم واموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ وہ پرہیزگار جو پاک سیرت ہوتے ہیں۔ فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں تم پر سلام [31] ہو، جو اچھے عمل تم کرتے رہے اس کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ“
[31] برزخ میں مومن اور کافر سے سلوک کا تقابل:۔
ایسے ہی لوگ ہیں جو پاکیزہ سیرت ہوتے ہیں جب فرشتے اس قسم کے لوگوں کی روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں تو فرشتے خود انھیں السلام علیکم کہہ کر انھیں پہلے سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔ پھر انھیں جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور ابھی وہ اس دنیا سے پوری طرح رخصت بھی نہیں ہو چکے ہوتے کہ انھیں جنت میں داخل ہونے کو کہہ دیا جاتا ہے اور احادیث میں آیا ہے کہ جب مومن کو دفن کیا جاتا ہے اور فرشتوں سے سوال و جواب ہو چکتے ہیں تو اس کی قبر میں جنت کی طرف سے ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جس کی خوشبو سے اس کا دماغ معطر ہوتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ ایسے آرام اور مسرت سے سو جاؤ جیسے ایک نئی نویلی دلہن سوتی ہے۔ [احمد، بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الجنائز، باب مایقال عند من حضرہ الموت۔ الفصل الثالث]
اور ابھی وہ اپنی نیند بھی پوری نہیں کر چکا ہوتا کہ بعث بعد الموت کا وقت آجاتا ہے۔ اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ شاید گھنٹہ دو گھنٹے سویا رہا ہوں گا لیکن اسے بتایا جاتا ہے کہ تم یہاں حشر کے دن تک سوئے رہے [30: 56] اور کافر کو قبر یعنی عالم برزخ میں طرح طرح کے عذاب دیئے جاتے ہیں مگر وہ عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ جب انھیں قبر سے اٹھایا جائے گا اور اپنے سامنے میدان محشر کے دہشت ناک مناظر دیکھیں گے تو کہیں گے: ہائے افسوس! ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ نے وعدہ کر رکھا تھا اور رسول ٹھیک ہی کہتے تھے۔ [36: 52]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔