تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ:} یعنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسے ہی جزا دیتا ہے، جیسا کہ سونا اور ریشم مردوں پر حرام کر دیا اور فرمایا، یہ چیزیں ان (کافروں) کے لیے دنیا میں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۱۵، ۱۶) اور سورۂ قمر (۵۴، ۵۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر خبر دیتا ہے کہ ’ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [16-النحل:97] ’ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ‘۔
یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» ۱؎ [28-القصص:80] ’ ثواب الٰہی بہتر ہے ‘، الخ۔
قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198] ’ اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:17] ’ دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے ‘۔
«جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ’ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ‘۔
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ‘۔
اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{جناتُ عَدْنٍ يدخلونها تجري من تحتها الأنهار لهم فيها ما يشاؤون}؛ أي: مهما تمنَّته أنفسهم وتعلَّقت به إراداتهم؛ حصل لهم على أكمل الوجوه وأتمِّها؛ فلا يمكنُ أن يطلُبوا نوعاً من أنواع النعيم الذي فيه لَذَّةُ القلوب وسرور الأرواح؛ إلاَّ وهو حاضرٌ لديهم، ولهذا يُعطي الله أهل الجنة كلَّ ما تمنَّوْه عليه، حتى إنَّه يذكِّرهم أشياء من النعيم لم تخطر على قلوبهم؛ فتبارك الذي لا نهاية لكرمِهِ ولا حدَّ لجوده، الذي ليس كمثله شيءٌ في صفات ذاته وصفات أفعاله وآثار تلك النعوت وعظمةِ الملك والملكوت. {كذلك يَجْزي الله المتَّقين}: لِسَخَطِ الله وعذابِهِ؛ بأداء ما أوجبه عليهم من الفروض والواجبات المتعلقة بالقلب والبدن واللسان من حقِّه وحقِّ عباده، وترك ما نهاهم الله عنه. {الذين تتوفَّاهم الملائكةُ}: مستمرِّين على تقواهم، {طيبين}؛ أي: طاهرين مطهَّرين من كل نقص ودنَس يتطرَّق إليهم ويُخِلُّ في إيمانهم، فطابت قلوبهم بمعرفة الله ومحبَّته، وألسنتهم بذكرِهِ والثناء عليه، وجوارِحُهم بطاعته والإقبال عليه. {يقولون سلامٌ عليكم}؛ أي: التحية الكاملة حاصلةٌ لكم، والسلامة من كلِّ آفة، وقد سلمتُم من كلِّ ما تكرهون. {ادخُلوا الجنَّة بما كنتُم تعملونَ}: من الإيمان بالله والانقياد لأمرِهِ؛ فإنَّ العمل هو السبب والمادة والأصلُ في دخول الجنة والنجاة من النار، وذلك العمل حصل لهم برحمة الله ومنَّته، لا بحولهم وقوَّتهم.