وَ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوۡا خَیۡرًا ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ ؕ وَ لَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾
اور جو لوگ ڈر گئے ان سے کہا گیا کہ تمھارے رب نے کیا نازل فرمایا؟ تو انھوں نے کہا بہترین بات، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے بھلائی کی اس دنیا میں بڑی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے اور یقینا وہ ڈرنے والوں کا اچھا گھر ہے۔
En
اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے
En
اور پرہیز گاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو وه جواب دیتے ہیں کہ اچھے سے اچھا۔ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے، اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی خوب پرہیز گاروں کا گھر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت30) ➊ {وَ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا …: ” خَيْرًا “ ”خَيْرٌ “} اور {”شَرٌّ“} اصل میں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، یعنی {” أَخْيَرُ“} اور {”اَشَرّ“}، تخفیف کے لیے {”خَيْرٌ“} اور {”شَرٌّ“} بنا دیا گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”بہترین بات“ یعنی سب سے اچھی بات۔ یہاں زمخشری نے ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ یہی سوال اس سورت کی آیت (۲۴) میں کفار سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا{ ” اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “} جو مرفوع ہے اور یہاں متقین سے یہی سوال ہوا تو انھوں نے کہا {” خَيْرًا “ } جو منصوب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ {”اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “} مبتدا {”هِيَ“} کی خبر ہے، اس لیے مرفوع ہے، یعنی کفار نے مانا ہی نہیں کہ رب تعالیٰ نے کچھ نازل فرمایا، ورنہ {” اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “ } منصوب ہوتا، اس کے برعکس متقین کا قول {”خَيْرًا “ ”أَنْزَلَ“ } مقدر کا مفعول ہے، یعنی اسی نے خیر نازل فرمائی ہے۔ گویا متقین نے وحی الٰہی کا نزول بھی تسلیم کیا اور اس کے بہترین ہونے کی شہادت بھی دی۔ اس کے برعکس کافروں نے دونوں باتوں کا انکار کیا۔
➋ {لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ: ” حَسَنَةٌ “ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ مومن کو دنیا کی زندگی میں بھی وہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے جو کافر کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتا۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ] [مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹]”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی بہترین ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہترین ہوتا ہے۔“ قرآن مجید میں مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ حیات طیبہ عطا کرنے کا ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹۷)۔
➌ {وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اس میں {”دَارٌ“} موصوف اپنی صفت {” الْاٰخِرَةِ “} کی طرف مضاف ہے۔ آخری گھر اس لیے فرمایا کہ اس کے بعد اور کوئی گھر نہیں، ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ {” وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ “ ”نِعْمَ“} فعل ماضی ہے، یہ مدح کے لیے ہے، مخصوص بالمدح {”هِيَ“} ہے، اس کی ضد {”بِئْسَ“} ہے جو مذمت کے لیے ہے۔ لام تاکید کا معنی ”تو“ کے ساتھ اور {”خَيْرٌ “} کا معنی تفضیل کی وجہ سے ”کہیں بہتر“ کے ساتھ کیا ہے۔
➋ {لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ: ” حَسَنَةٌ “ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ مومن کو دنیا کی زندگی میں بھی وہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے جو کافر کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتا۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ] [مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹]”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی بہترین ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہترین ہوتا ہے۔“ قرآن مجید میں مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ حیات طیبہ عطا کرنے کا ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹۷)۔
➌ {وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اس میں {”دَارٌ“} موصوف اپنی صفت {” الْاٰخِرَةِ “} کی طرف مضاف ہے۔ آخری گھر اس لیے فرمایا کہ اس کے بعد اور کوئی گھر نہیں، ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ {” وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ “ ”نِعْمَ“} فعل ماضی ہے، یہ مدح کے لیے ہے، مخصوص بالمدح {”هِيَ“} ہے، اس کی ضد {”بِئْسَ“} ہے جو مذمت کے لیے ہے۔ لام تاکید کا معنی ”تو“ کے ساتھ اور {”خَيْرٌ “} کا معنی تفضیل کی وجہ سے ”کہیں بہتر“ کے ساتھ کیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ اور (یہی بات) جب پرہیزگاروں سے پوچھی جاتی ہے کہ ”تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے؟“ وہ تو کہتے ہیں ”بھلائی [30] ہی بھلائی“ ایسے لوگ جنہوں نے اچھے کام کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت بہتر ہے۔ اور پرہیزگاروں کے لئے کیا ہی اچھا گھر ہے
[30] قرآن سراسر بھلائی ہے:۔
کفار مکہ سے جب آس پاس کے لوگ یہی سوال کرتے تو وہ کہتے کہ وہ تو بس پہلی قوموں کے قصے کہانیاں ہی ہیں جو ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں لیکن وہی بیرونی لوگ جب یہی سوال کسی ایمان لانے والے اور متقی شخص سے کرتے ہیں تو ان کا جواب کفار مکہ کے جواب کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ پھر یہ لوگ صرف زبان سے ہی ان باتوں کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اس نازل کردہ تعلیم کو اپنے آپ پر نافذ بھی کرتے ہیں۔ اور جن کاموں کے کرنے کا انھیں حکم ہوتا ہے وہ احسن طور پر بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا جائے ان سے رک جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بھلائیاں ہی نصیب ہوتی ہیں اور آخرت میں بھی دائمی خوشیاں اور بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ گویا یہی قرآن کافروں کے لیے مزید گمراہی کا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے مزید ہدایت کا سبب بن جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
متقیوں کے لیے بہترین جزا ٭٭
بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے -
پھر خبر دیتا ہے کہ ’ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [16-النحل:97] ’ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ‘۔
یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» ۱؎ [28-القصص:80] ’ ثواب الٰہی بہتر ہے ‘، الخ۔
قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198] ’ اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:17] ’ دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے ‘۔
«جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ’ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ‘۔
پھر خبر دیتا ہے کہ ’ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [16-النحل:97] ’ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ‘۔
یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» ۱؎ [28-القصص:80] ’ ثواب الٰہی بہتر ہے ‘، الخ۔
قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198] ’ اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:17] ’ دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے ‘۔
«جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ’ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ‘۔
حدیث میں ہے { اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایماندار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں }۔
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ‘۔
اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ‘۔
اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔