ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 27

ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُخۡزِیۡہِمۡ وَ یَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اِنَّ الۡخِزۡیَ الۡیَوۡمَ وَ السُّوۡٓءَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
پھر قیامت کے دن وہ انھیں رسوا کرے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے؟ وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا کہیں گے کہ بے شک کامل رسوائی آج کے دن اور برائی کافروں پر ہے۔ En
پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے
En
پھر قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہ میرے وه شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے، جنہیں علم دیا گیا تھا وه پکار اٹھیں گے کہ آج تو کافروں کو رسوائی اور برائی چمٹ گئی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت27){ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْزِيْهِمْ وَ يَقُوْلُ …: يُخْزِيْ خِزْيٌ } سے باب افعال کا مضارع ہے، بمعنی رسوائی۔ یہ جسمانی عذاب سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی جسمانی سزا کے آثار چہرے پر ظاہر نہ ہونے دے، مگر رسوائی کے آثار پورے جسم اور چہرے پر واضح ہوتے ہیں۔ { ثُمَّ } نسبتاً ترتیب کے لیے لایا گیا ہے کہ دنیا میں ہلاکت و بربادی کے بعد آخرت کی رسوائی اور عذاب کہیں سخت اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہو گا اور اللہ تعالیٰ خود ان سے پوچھے گا کہ تم نے جو میرے شریک بنا رکھے تھے اور تم کہتے تھے کہ فلاں کو قبر میں سوال ہوا تو اس نے فلاں بزرگ کا دھوبی ہونے کا حوالہ دیا اور چھوڑ دیا گیا، فلاں بزرگ کے دم کے باوجود بچہ مر گیا تو اس بزرگ نے چوتھے آسمان پر جاتے ہوئے ملک الموت سے روحوں کا تھیلا چھین کر سب روحوں کو آزاد کر دیا اور وہ دوبارہ زندہ ہو گئے۔ فلاں صاحب کے لیے لوح محفوظ میں بھی بچہ قسمت میں نہ تھا تو فلاں بزرگوں نے انھیں بارہ بیٹے عطا کر دیے۔ اس قسم کے تمام مشرکوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا بتاؤ وہ جو تم نے میرے شریک بنا رکھے تھے اور جھوٹ پر بنیاد کے باوجود تم مسلمان موحدوں سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے، انھیں اب لاؤ، پیش کرو، وہ کہاں ہیں؟ اس کا جواب وہ کیا دیں گے، البتہ اہل علم (فرشتے، انبیاء اور صالحین) یک زبان ہو کر کہیں گے کہ آج کامل رسوائی اور برائی ایمان نہ لانے والوں پر وارد ہو گی۔ اہل ایمان گناہ گاروں سے بھی باز پرس ہو گی، مگر کامل رسوائی صرف کفار کا مقدر ہو گی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۸) { الْخِزْيَ } اور { السُّوْٓءَ } کے الف لام کی وجہ سے کامل رسوائی ترجمہ کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یعنی یہ تو وہ عذاب تھا جو دنیا میں ان پر آئے اور قیامت والے دن اللہ تعالیٰ انھیں اس طرح ذلیل و رسوا کرے گا کہ ان سے پوچھے گا تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جو تم نے میرے لئے ٹھہرا رکھے تھے، اور جن کی وجہ سے تم مومنوں سے لڑتے جھگڑتے تھے۔ 27۔ 2 یعنی جن کو دین کا علم نہیں تھا وہ دین کے پابند تھے وہ جواب دیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ پھر قیامت کے دن اللہ انھیں رسوا کرے [27] گا اور پوچھے گا: ”وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم (اہل حق سے) جھگڑا کیا [28] کرتے تھے؟“ (اور) جن لوگوں کو (دنیا میں) علم دیا گیا وہ کہیں گے: آج کافروں کے لئے رسوائی اور بد بختی ہے
[27] ایسے راہ حق میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کا دنیا میں تو یہ انجام ہوا اور آخرت میں یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انھیں سب کے سامنے حاضر کر کے پوچھے گا کہ ”بتاؤ تمہارے وہ بناوٹی شریک کدھر ہیں جنہیں تم نے میرے مقابلہ میں لا کھڑا کیا تھا اور میرے رسولوں سے دنیا میں ہمیشہ جھگڑا کرتے رہے تھے آج وہ کہاں ہیں اور تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچتے؟“ وہ اس سوال کا کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور یہی بات ان کے لیے سب کے سامنے رسوائی کا باعث بن جائے گی۔ پھر انھیں اس شرک کا جو بدلہ دیا جائے گا وہ انتہائی رسوا کن ہو گا۔
[28] یعنی مشرک اللہ تعالیٰ کے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔ سارے میدان محشر میں ایک سناٹا چھا جائے گا۔ کافروں اور مشرکوں کی زبانیں گنگ ہو جائیں گی اور وہ دم بخود رہ جائیں گے۔ پھر کچھ دیر بعد اہل علم یعنی انبیاء کرام اور ان کے متبعین انھیں کافروں اور مشرکوں کو مخاطب کر کے کہیں گے کہ ہم نے تمہیں بتایا نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہیں سخت رسوائی اور برے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نمرود کا تذکرہ ٭٭
بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔
بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ «وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ» ۱؎ [14-إبراھیم:46]‏‏‏‏ ’ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو ‘۔
بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا» [71-نوح:22]‏‏‏‏ ان ’ کافروں نے بڑا ہی مکر کیا، ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا ‘۔ چنانچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33]‏‏‏‏ کہ ’ تمہارا رات دن کا مکر کہ ہم سے کفر و شرک کے لیے کہنا ‘، الخ۔
ان کی عمارت کی جڑ اور بنیاد سے عذاب الٰہی آیا یعنی بالکل ہی کھودیا اصل سے کاٹ دیا جیسے فرمان ہے «كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّـهُ» ۱؎ [5-المائدہ:64]‏‏‏‏ ’ جب لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے ‘۔
اور فرمان ہے کہ «فَأَتَاهُمُ اللَّـهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [59-الحشر:2]‏‏‏‏ ’ ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مومنوں کے ہاتھوں مٹے، عقل مندو! عبرت حاصل کرو ‘۔
یہاں فرمایا کہ ’ اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آگیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا۔ قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے ‘۔ «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ» ۱؎ [86-الطارق:9]‏‏‏‏ ’ اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا، اندر کا سب باہر آ جائے گا۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہو جائے گا ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر غدار کے لیے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہوگا اور مشہور کردیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3186]‏‏‏‏
اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ «مِن دُونِ اللَّـهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:93]‏‏‏‏ ’ جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے؟ آج بے یار و مددگار کیوں ہو؟ ‘
یہ چپ ہو جائیں گے، کیا جواب دیں؟ لاچار ہو جائیں گے، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں؟ اور آیت میں ہے «فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10]‏‏‏‏ ’ اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہو گا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا ‘۔
اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔