تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ …: ” بُنْيَانٌ بَنَي يَبْنِيْ “} (ض) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، بنائی ہوئی عمارت۔ {” الْقَوَاعِدِ “ ” قَاعِدَةٌ “} کی جمع ہے، بنیادیں۔ اس کی تفسیر دو طرح سے کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ ایک تمثیل ہے، یعنی ایک معنوی چیز کو نظر آنے والی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی گئی ہے، یعنی جس طرح کوئی شخص ایک عمارت بنائے تو دوسرا کوئی شخص خفیہ طریقے سے اس کی بنیادوں کو اس طرح کھوکھلا کر دے کہ عمارت کی چھت گر پڑے اور بنانے والے اپنے ہی مکان کی چھت کے نیچے آ کر ہلاک ہو جائیں۔ اسی طرح کفار نے رسولوں اور اہل ایمان کے خلاف مکر (سازش) کے محل تعمیر کیے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ان محلوں کی بنیادیں اس طرح ہلا دیں کہ ان کی چھتیں بھی انھی پر گر پڑیں۔ جس طرح کہتے ہیں کہ جو دوسرے کے لیے کنواں کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گر پڑتا ہے۔ یہاں واقعی کنواں ہونا ضروری نہیں۔ کئی مفسرین نے یہ معنی کیا ہے اور رازی نے اسے ترجیح دی ہے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ رسولوں کے خلاف سازشیں کرنے والے جن عمارتوں میں رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی بنیادوں کو زلزلے کا ایسا جھٹکا دیا، یا سیلاب میں ایسا گھیرا کہ ان کی چھتیں ان کے اوپر گر پڑیں اور وہ ان کے نیچے آ کر ہلاک ہو گئے، اس طرح اللہ کے عذاب نے انھیں ایسی جگہ سے آ گھیرا جہاں سے وہ گمان بھی نہ رکھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا }» [العنکبوت: ۴۰] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا۔“ امام المفسرین طبری رحمہ اللہ نے اس معنی کو ترجیح دی ہے اور فرمایا کہ جب الفاظ کے ظاہر معنی مراد لیے جا سکتے ہیں اور اس میں کوئی خرابی نہیں، تو تمثیل کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ اس میں کیا چیز ناممکن ہے کہ کئی کفار اپنے مکانوں کی چھتوں کے نیچے آ کر مر گئے ہوں، جنھیں وہ نہایت مضبوط سمجھتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے رمضان ۱۴۲۶ھ میں کشمیر کے ہولناک زلزلے میں بے شمار کئی منزلہ مکان زمین میں دھنس گئے، بہت سے اپنے مکینوں پر گر پڑے اور اس کے بعد رمضان ۱۴۳۱ ھ میں پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے شہروں کے شہر بری طرح متاثر ہوئے، حتیٰ کہ تقریباً نصف پاکستان سیلاب کی زد میں آگیا، یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔ [اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَ عَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ «وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ» ۱؎ [14-إبراھیم:46] ’ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو ‘۔
بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا» [71-نوح:22] ان ’ کافروں نے بڑا ہی مکر کیا، ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا ‘۔ چنانچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] کہ ’ تمہارا رات دن کا مکر کہ ہم سے کفر و شرک کے لیے کہنا ‘، الخ۔
اور فرمان ہے کہ «فَأَتَاهُمُ اللَّـهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [59-الحشر:2] ’ ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مومنوں کے ہاتھوں مٹے، عقل مندو! عبرت حاصل کرو ‘۔
یہاں فرمایا کہ ’ اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آگیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا۔ قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے ‘۔ «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ» ۱؎ [86-الطارق:9] ’ اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا، اندر کا سب باہر آ جائے گا۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہو جائے گا ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر غدار کے لیے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہوگا اور مشہور کردیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3186]
اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ «مِن دُونِ اللَّـهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:93] ’ جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے؟ آج بے یار و مددگار کیوں ہو؟ ‘
یہ چپ ہو جائیں گے، کیا جواب دیں؟ لاچار ہو جائیں گے، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں؟ اور آیت میں ہے «فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10] ’ اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہو گا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا ‘۔
اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قد مَكَرَ الذين من قبلهم}: برسلهم، واحتالوا بأنواع الحيل على ردِّ ما جاؤوهم به، وبنوا من مكرهم قصوراً هائلةً، {فأتى الله بنيانَهم من القواعِدِ}؛ أي: جاءها الأمر من أساسها وقاعدتها، {فخرَّ عليهم السقفُ من فوقِهِم}: فصار ما بَنَوْه عذاباً عُذِّبوا به. {وأتاهُمُ العذابُ من حيثُ لا يشعرونَ}: وذلك أنَّهم ظنُّوا أن هذا البنيان سينفعهم ويقيهم العذاب، فصار عذابُهم فيما بَنَوْه وأصَّلوه. وهذا من أحسن الأمثال في إبطال الله مَكْرَ أعدائه؛ فإنَّهم فكَّروا وقدَّروا فيما جاءت به الرسل لما كذَّبوه وجعلوا لهم أصولاً وقواعدَ من الباطل يرجعون إليها ويردُّون بها ما جاءت به الرسل، واحتالوا أيضاً على إيقاع المكروه والضرر بالرسل ومَنْ تَبِعَهم، فصار مكرُهم وبالاً عليهم، فصار تدبيرهم فيه تدميرهم، ذلك لأنَّ مكرهم سيِّئٌ، ولا يَحيق المكر السيِّئ إلاَّ بأهله. هذا في الدُّنيا، ولعذاب الآخرة أخزى، ولهذا قال: {ثم يوم القيامةِ يُخزيهم}؛ أي: يفضحُهم على رؤوس الخلائق ويبيِّن لهم كَذِبَهم وافتراءهم على الله. {ويقول أين شركائيَ الذين كنتُم تُشاقُّون فيهم}؛ أي: تحاربون وتعادون الله وحِزْبه لأجلهم تزعمون أنَّهم شركاء لله؛ فإذا سألهم هذا السؤال؛ لم يكن لهم جواب إلاَّ الإقرار بضلالهم والاعتراف بعنادهم، فيقولون: {ضَلُّوا عنَّا وَشَهِدوا على أنفِسِهم أنَّهم كانوا كافرينَ}: {قال الذين أوتوا العلم}؛ أي: العلماء الربانيُّون: {إنَّ الخِزْيَ اليومَ}؛ أي: يوم القيامة، [{والسوء}؛ أي]: العذاب {على الكافرين}. وفي هذا فضيلة أهل العلم، وأنَّهم الناطقون بالحقِّ في هذه الدُّنيا ويوم يقوم الأشهاد، وأنَّ لقولهم اعتباراً عند الله وعند خلقه.