تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ:} یہ تیسرا وصف ہے کہ انھیں اپنے اٹھائے جانے کا وقت بھی معلوم نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معبود کے لیے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (روح المعانی) اور یہ بات کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور مسلم کتاب الصلوۃ میں جو حدیث سیدنا جندبؓ سے مروی ہے اس میں یہود کی تخصیص نہیں۔ نیز انبیاء کی قبروں کے ساتھ صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ” توجہ سے سنو! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ میں تمہیں ایسی باتوں سے منع کرتا ہوں “ نیز سیدنا ابن عباسؓ سے مروی درج ذیل حدیث بخاری، احمد، مسلم، نسائی سب کتب حدیث میں موجود ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ سب لوگ (ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر) قوم نوح کے اولیاء اللہ تھے۔ جب وہ مر گئے تو لوگ ان کی قبروں پر اعتکاف کرنے لگے۔ پھر ان کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر یہی بت قبائل عرب میں پھیل گئے۔ ان احادیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دور نبوی میں صرف بتوں ہی کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا بلکہ فوت شدہ بزرگوں کو بھی صفات الوہیت میں شریک بنایا جاتا تھا۔ اور ان آیات میں اسی قسم کے معبودوں کی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ مخلوق تھے اور جو مخلوق ہو وہ نہ الٰہ ہو سکتی ہے اور نہ صفات الوہیت میں شریک بن سکتی ہے یعنی ایسے لوگ جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ خود انہیں کب اٹھایا جائے گا، وہ نہ تو تمہاری پکار سن سکتے ہیں اور نہ ہی فریاد رسی کر سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا؛ ليس فيهم من أوصاف الكمال شيء لا علمٌ ولا غيره. {أمواتٌ غير أحياء}: فلا تسمع ولا تُبْصِر ولا تَعْقِلُ شيئاً، أفتُتَّخَذُ هذه آلهة من دون ربِّ العالمين؟! فتبًّا لعقول المشركين ما أضلَّها وأفسدَها؛ حيث ضلَّت في أظهر الأشياء فساداً، وسوَّوا بين الناقص من جميع الوجوه؛ فلا أوصاف كمال، ولا شيء من الأفعال! وبين الكامل من جميع الوجوه الذي له كلُّ صفة كمال وله من تلك الصفة أكملها وأعظمها؛ فله العلم المحيطُ بكلِّ الأشياء والقدرةُ العامَّة والرحمة الواسعة التي ملأت جميع العوالم والحمدُ والمجدُ والكبرياء والعظمة التي لا يقدر أحدٌ من الخلق أن يحيطَ ببعض أوصافه، ولهذا قال: {إلهكم إلهٌ واحدٌ}: وهو الله الأحد الفرد الصمد، الذي لم يلدْ، ولم يولدْ، ولم يكنْ له كفواً أحدٌ؛ فأهل الإيمان والعقول أجلَّتْه قلوبُهم، وعظَّمته، وأحبَّته حبًّا عظيماً، وصرفوا له كلَّ ما استطاعوا من القربات البدنيَّة والماليَّة وأعمال القلوب وأعمال الجوارح، وأثنَوْا عليه بأسمائِهِ الحسنى وصفاتِهِ وأفعاله المقدسة.
و {الذين لا يؤمنونَ بالآخرة قلوبُهُم مُنْكِرَةٌ}: لهذا الأمر العظيم، الذي لا ينكِرُه إلاَّ أعظم الخَلْق جهلاً وعناداً، وهو توحيد الله. {وهم مستكبرونَ}: عن عبادته.