ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 21

اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔ En
لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے
En
مردے ہیں زنده نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت21) ➊ {اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ:} دوسرا وصف یہ کہ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔ اس آیت میں { اَمْوَاتٌ } سے مراد وہ (نیک یا بد) مردہ لوگ ہیں جن کی مشرک لوگ عبادت کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اٹھائے جانے کے شعور کا لفظ جمادات (بتوں اور قبروں) پر صادق نہیں آتا، بلکہ صاحب عقل انسانوں، جنوں اور فرشتوں ہی پر صادق آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف مردہ کہنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا: «{ غَيْرُ اَحْيَآءٍ زندہ نہیں ہیں۔ اس سے قبر پرستوں کا واضح رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ قبروں میں دفن شدہ بزرگ مردہ نہیں زندہ ہیں اور ہم زندوں ہی کو پکارتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہو گیا کہ موت وارد ہونے کے بعد دنیوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہوتی، نہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے، پھر ان سے کسی نفع یا نقصان کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
➋ { وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ:} یہ تیسرا وصف ہے کہ انھیں اپنے اٹھائے جانے کا وقت بھی معلوم نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معبود کے لیے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (روح المعانی) اور یہ بات کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 مردہ سے مراد، وہ جماد (پتھر) بھی ہیں جو بےجان اور بےشعور ہیں۔ اور فوت شدہ صالحین بھی ہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انھیں شعور نہیں وہ تو جماد کی بجائے صالحین ہی پر صادق آسکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرما دی کہ ' وہ زندہ نہیں ہیں ' اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد، دنیاوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی نہ دنیا سے کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔ 21۔ 2 پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ کب [22] دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟
[22] ﴿من دون الله﴾ سے مراد صرف بت نہیں:۔
ان دو آیات سے صاف واضح ہے کہ یہاں ایسے معبودوں کو ذکر نہیں کیا جا رہا جو بے جان ہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے، شجر و حجر اور لکڑی یا پتھر یا مٹی وغیرہ کے بت۔ کیونکہ ان کے لیے بعث بعد الموت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جاندار یا ذوی العقول میں سے فرشتوں، فوت شدہ انبیاء، اولیاء اور صالحین کو خدائی صفات میں شریک بنایا جاتا رہا ہے۔ ان میں فرشتوں پر ﴿اَمْوَاتٌ غَيْرُاَحْيَاءٍ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ زندہ ہیں مرتے نہیں۔ باقی صرف اصحاب قبور رہ جاتے ہیں جن پر ﴿اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَاءٍ کا بھی اطلاق ہو سکتا ہے اور ان کے لیے بعث بعد الموت بھی ضروری ہے گویا ﴿اَلَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جنہیں ان کی وفات کے بعد فریاد رس، غوث، داتا، گنج بخش وغیرہ وغیرہ القاب دے ڈالے گئے۔ اور صفات الوہیت میں انہیں اللہ کا شریک بنا لیا گیا۔ اس قسم کا شرک بھی عرب میں عام پایا جاتا تھا۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہود پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیں گے تو آپ کی قبر مرجع خاص و عام بنا دی جاتی۔ [بخاري، كتاب المغازي۔ باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم]
اور مسلم کتاب الصلوۃ میں جو حدیث سیدنا جندبؓ سے مروی ہے اس میں یہود کی تخصیص نہیں۔ نیز انبیاء کی قبروں کے ساتھ صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ” توجہ سے سنو! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ میں تمہیں ایسی باتوں سے منع کرتا ہوں “ نیز سیدنا ابن عباسؓ سے مروی درج ذیل حدیث بخاری، احمد، مسلم، نسائی سب کتب حدیث میں موجود ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ سب لوگ (ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر) قوم نوح کے اولیاء اللہ تھے۔ جب وہ مر گئے تو لوگ ان کی قبروں پر اعتکاف کرنے لگے۔ پھر ان کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر یہی بت قبائل عرب میں پھیل گئے۔ ان احادیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دور نبوی میں صرف بتوں ہی کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا بلکہ فوت شدہ بزرگوں کو بھی صفات الوہیت میں شریک بنایا جاتا تھا۔ اور ان آیات میں اسی قسم کے معبودوں کی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ مخلوق تھے اور جو مخلوق ہو وہ نہ الٰہ ہو سکتی ہے اور نہ صفات الوہیت میں شریک بن سکتی ہے یعنی ایسے لوگ جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ خود انہیں کب اٹھایا جائے گا، وہ نہ تو تمہاری پکار سن سکتے ہیں اور نہ ہی فریاد رسی کر سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں۔ ﴿ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وہ مردہ ہیں، زندہ نہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ کچھ عقل رکھتے ہیں۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو خدا بناتے ہو؟ پس مشرکین کی مت ماری گئی ہے، ان کی عقل کتنی گمراہ اور کتنی فاسد ہے کہ وہ ان اشیاء میں بھی بہک گئی جن کا فساد بالکل واضح اور اظہر ہے۔
انھوں نے ان لوگوں کو جو ہر لحاظ سے ناقص، اوصاف کمال سے عاری اور افعال سے محروم ہیں … اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دے دیا ہے جو ہر لحاظ سے کامل ہے۔ وہ ہر صفت کمال کا مالک ہے اور یہ صفت اس میں سب سے کامل اور سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کا علم کامل تمام اشیاء پر محیط، اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی رحمت بے حدوحساب ہے جو تمام کائنات پر سایہ کناں ہے۔ وہ حمدوثنا، مجدو کبریاء اور عظمت کا مالک ہے، اس کی مخلوق میں کوئی بھی اس کی کسی صفت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اِلٰهُكُمْ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ تمھارا معبود، ایک معبود ہے اور وہ ہے اللہ جو ایک اور یکتا ہے اور وہ بے نیاز ہے اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اس کو کسی نے جنم دیا ہے اور اس کا کوئی بھی ہمسر نہیں۔ پس عقل مند اور اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ اور اس کی عظمت کو اپنے دلوں میں بسا لیا ہے، ان کے دل اس سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، بدنی اور مالی عبادات، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں سے جو کچھ بھی ان کی استطاعت میں ہے اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کرتے ہیں اور اس کے اسمائے حسنیٰ، صفات علیا اور افعال مقدسہ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔
﴿ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُ٘لُوْبُهُمْ مُّؔنْؔكِرَةٌ پس وہ لوگ، جن کو آخرت کا یقین نہیں، ان کے دل نہیں مانتے یعنی ان کے دل اس امر عظیم کے منکر ہیں اور اس کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جن میں جہالت اور عناد بہت زیادہ ہو اور یہ امر عظیم اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ ﴿ وَّهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ اور وہ مغرور ہیں اور وہ تکبر کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ ليس فيهم من أوصاف الكمال شيء لا علمٌ ولا غيره. {أمواتٌ غير أحياء}: فلا تسمع ولا تُبْصِر ولا تَعْقِلُ شيئاً، أفتُتَّخَذُ هذه آلهة من دون ربِّ العالمين؟! فتبًّا لعقول المشركين ما أضلَّها وأفسدَها؛ حيث ضلَّت في أظهر الأشياء فساداً، وسوَّوا بين الناقص من جميع الوجوه؛ فلا أوصاف كمال، ولا شيء من الأفعال! وبين الكامل من جميع الوجوه الذي له كلُّ صفة كمال وله من تلك الصفة أكملها وأعظمها؛ فله العلم المحيطُ بكلِّ الأشياء والقدرةُ العامَّة والرحمة الواسعة التي ملأت جميع العوالم والحمدُ والمجدُ والكبرياء والعظمة التي لا يقدر أحدٌ من الخلق أن يحيطَ ببعض أوصافه، ولهذا قال: {إلهكم إلهٌ واحدٌ}: وهو الله الأحد الفرد الصمد، الذي لم يلدْ، ولم يولدْ، ولم يكنْ له كفواً أحدٌ؛ فأهل الإيمان والعقول أجلَّتْه قلوبُهم، وعظَّمته، وأحبَّته حبًّا عظيماً، وصرفوا له كلَّ ما استطاعوا من القربات البدنيَّة والماليَّة وأعمال القلوب وأعمال الجوارح، وأثنَوْا عليه بأسمائِهِ الحسنى وصفاتِهِ وأفعاله المقدسة.

و {الذين لا يؤمنونَ بالآخرة قلوبُهُم مُنْكِرَةٌ}: لهذا الأمر العظيم، الذي لا ينكِرُه إلاَّ أعظم الخَلْق جهلاً وعناداً، وهو توحيد الله. {وهم مستكبرونَ}: عن عبادته.