(آیت122) ➊ { وَاٰتَيْنٰهُفِيالدُّنْيَاحَسَنَةً:} یعنی دنیا میں حیاتِ طیبہ کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انھیں عطا فرمائیں، مثلاً دین حق کی ہدایت، نبوت کی نعمت، صالح اولاد، سیرت حسنہ، وافر مال و دولت اور سچی ناموری وغیرہ۔ ➋ {وَاِنَّهٗفِيالْاٰخِرَةِلَمِنَالصّٰلِحِيْنَ:} خود ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی: «{ وَاَلْحِقْنِيْبِالصّٰلِحِيْنَ }» [الشعراء: ۸۳]”مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔“ یوسف علیہ السلام نے بھی یہی دعا کی تھی: «{ تَوَفَّنِيْمُسْلِمًاوَّاَلْحِقْنِيْبِالصّٰلِحِيْنَ }»[یوسف: ۱۰۱]”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ ➌ معلوم ہوا کہ نیک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مگر قیامت کو صالحین کا ساتھ ملنا ایک مزید نعمت ہے، اس لیے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری الفاظ یہی تھے: [اَللّٰهُمَّاغْفِرْلِيْوَأَلْحِقْنِيْبِالرَّفِيْقِالْأَعْلٰی][ترمذی، أبواب الدعوات، باب: ۳۴۹۶۔ ابن ماجہ: ۱۶۱۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۶ /۶۴۱، ۶۴۲، ح: ۲۷۷۵]”اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے سب سے اونچے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
122۔ ہم نے انھیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کی اور آخرت میں تو وہ یقیناً صالحین میں سے ہوں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاٰتَیْنٰهُفِیالدُّنْیَاحَسَنَةً﴾”اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی“ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗفِیالْاٰخِرَةِلَ٘مِنَالصّٰؔلِحِیْنَ﴾”اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں “ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وآتيناه في الدُّنيا حسنةً}: رزقاً واسعاً، وزوجةً حسناء، وذرِّيَّة صالحين، وأخلاقاً مرضية. {وإِنَّه في الآخرة لمنَ الصَّالحين}: الذين لهم المنازل العاليةُ والقُرْبُ العظيم من الله تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔