تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوْ بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِعَمِّهِ أَبِيْ طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُوْ بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ، فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُوْنَ وَأَلْبَسُوْهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيْدِ وَ صَهَرُوْهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بِلاَلاً، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللّٰهِ، وَهَانَ عَلٰی قَوْمِهِ، فَأَخَذُوْهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوْا يَطُوْفُوْنَ بِهِ فِيْ شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُوْلُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ] [ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد رضی اللہ عنھم اجمعین: ۱۵۰، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الإسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنھم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چنانچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بے قدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بے قدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔“
➌ اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کر لے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ {” اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ “ } کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کر لے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہو گا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح علیھما السلام نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا۔ اسی طرح اصحاب الاخدود کا اور سورۂ یس میں مذکور شہید ہونے والے شخص کا واقعہ ہے اور اسلام میں تو اس کی بے شمار مثالیں ہیں، جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب و تابعین۔
➍ بعض لوگوں نے جو ابوبکر، عمر، عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغض رکھتے ہیں، جب دیکھا کہ علی، حسن، حسین اور دوسرے بنی ہاشم رضی اللہ عنھم نے تینوں خلفاء کی بیعت کر لی، جو ان کے خلیفہ برحق ہونے کی دلیل ہے تو ان دشمنانِ صحابہ نے یہ بات بنائی کہ انھوں نے یہ کام مجبوری کی بنا پر تقیہ سے کیا تھا، حالانکہ تقیہ تو ایک رخصت ہے جو کمزور لوگوں کا کام ہے، شیر خدا بھی تقیہ کرے تو حق کا اعلان اور عزیمت پر عمل کون کرے گا۔ پھر تقیہ کا بہانہ بنانے والوں کی کتاب ”الکافی“ میں لکھا ہے کہ ان کے امام اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور ان کی مرضی ہوتی ہے تو مرتے ہیں۔ تو ان کے قول کے مطابق پہلے امام علی رضی اللہ عنہ کو جب اپنی موت کا علم تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہو گی تو انھیں کون سی مجبوری تھی کہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے، یا عمر بن خطاب(رضی اللہ عنہ) سے اپنی لخت جگر ام کلثوم کا نکاح کرتے؟
➎ علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زبردستی کروایا ہوا کوئی قول یا فعل معتبر نہیں، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ نکاح، نہ غلام آزاد کرنا، نہ کسی کے نام جائداد لگوانا، نہ کوئی اقرار یا انکار یا کفر یہ بات کرنا، ہاں جو کچھ وہ شرح صدر کے ساتھ کرے وہ معتبر ہو گا۔ (سیوطی فی الاکلیل)
➏ { فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ: } دنیا میں اللہ کا بڑا غضب یہ ہے کہ مرتد ہونے والا مرد ہو یا عورت اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ] [بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالھم، باب حکم المرتد…: ۶۹۲۲] ”جو شخص اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔“ اور آخرت میں عذاب عظیم کی عظمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
➐ بعض لوگوں نے اپنے پاس سے کہا کہ عورت مرتد ہو جائے تو قتل نہیں کی جائے گی، یہ بات درست نہیں، کیونکہ ”مَنْ“ میں مرد و عورت سبھی شامل ہیں اور عورت کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[112] یعنی جو لوگ اسلام لانے کے بعد پیش آمدہ مصائب سے گھبرا کر اپنی سابقہ کفر کی آرام طلب زندگی کو ترجیح دینے لگیں اور کسی قسم کا دنیوی نقصان بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور انھیں وجوہ کی بنا پر برضاء و رغبت پھر کفر کی راہ اختیار کر لیں۔ تو ایسے لوگ فی الواقع عذاب عظیم کے مستحق ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔
پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:]
بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8]
اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔
پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔
چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔“
بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔
اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن شناعة حال مَن كَفَرَ به من بعد إيمانه فعمي بعدما أبصر، ورجع إلى الضلال بعدما اهتدى، وشَرَحَ صدرَه بالكفر راضياً به مطمئنًّا: أنَّ لهم الغضبَ الشديدَ من الربِّ الرحيم، الذي إذا غَضِبَ؛ لم يَقُمْ لغضبِهِ شيء وغضب عليهم كلُّ شيء. {ولهم عذابٌ عظيمٌ}؛ أي: في غاية الشدَّة، مع أنَّه دائمٌ أبداً. وذلك أنَّهم {استحبُّوا الحياة الدُّنيا على الآخرة}: حيث ارتدُّوا على أدبارهم؛ طمعاً في شيء من حطام الدُّنيا، ورغبةً فيه، وزهداً في خير الآخرة.
فلمَّا اختاروا الكفر على الإيمان؛ منعهم الله الهداية، فلم يهدِهم؛ لأنَّ الكفر وصفُهم، فطبع على قلوبهم؛ فلا يدخُلُها خيرٌ، وعلى سمعهم وعلى أبصارهم؛ فلا ينفذُ منها ما ينفعهم ويصل إلى قلوبهم، فشملتْهم الغفلةُ وأحاط بهم الخِذْلان وحُرِموا رحمة الله التي وسعت كلَّ شيء، وذلك أنَّها أتتهم فردُّوها وعُرِضَتْ عليهم فلم يقبَلوها.