مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے تو ان لوگوں پر اللہ کا بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا
En
جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت106) ➊ { مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ …:} طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [مَنْ كَفَرَ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِهِ فَعَلَيْهِ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُ عَذَابٌ عَظِيْمٌ فَأَمَّا مَنْ أُكْرِهَ فَتَكَلَّمَ بِهِ لِسَانُهُ وَ خَالَفَهُ قَلْبُهُ بِالْإِيْمَانِ لِيَنْجُوَ بِذٰلِكَ مِنْ عَدُوِّهِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ لِأَنَّ اللّٰهَ تَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عَقَدَتْ عَلَيْهِ قُلُوْبُهُمْ] [طبری: ۱۷ /۳۰۵] ”جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس پر اللہ تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے، لیکن جسے مجبور کر دیا جائے اور وہ زبان سے کوئی بات کہہ دے، جب کہ اس کا دل ایمان کی وجہ سے اس کے خلاف ہو، تاکہ اس کے ساتھ دشمن سے جان بچا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ سبحانہ بندوں کو صرف اس چیز پر پکڑتا ہے جو ان کے دلوں کا پکا عقیدہ ہو۔“
➋ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوْ بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِعَمِّهِ أَبِيْ طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُوْ بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ، فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُوْنَ وَأَلْبَسُوْهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيْدِ وَ صَهَرُوْهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بِلاَلاً، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللّٰهِ، وَهَانَ عَلٰی قَوْمِهِ، فَأَخَذُوْهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوْا يَطُوْفُوْنَ بِهِ فِيْ شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُوْلُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ] [ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد رضی اللہ عنھم اجمعین: ۱۵۰، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الإسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنھم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چنانچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بے قدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بے قدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔“
➌ اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کر لے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ {” اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ “ } کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کر لے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہو گا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح علیھما السلام نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا۔ اسی طرح اصحاب الاخدود کا اور سورۂ یس میں مذکور شہید ہونے والے شخص کا واقعہ ہے اور اسلام میں تو اس کی بے شمار مثالیں ہیں، جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب و تابعین۔
➍ بعض لوگوں نے جو ابوبکر، عمر، عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغض رکھتے ہیں، جب دیکھا کہ علی، حسن، حسین اور دوسرے بنی ہاشم رضی اللہ عنھم نے تینوں خلفاء کی بیعت کر لی، جو ان کے خلیفہ برحق ہونے کی دلیل ہے تو ان دشمنانِ صحابہ نے یہ بات بنائی کہ انھوں نے یہ کام مجبوری کی بنا پر تقیہ سے کیا تھا، حالانکہ تقیہ تو ایک رخصت ہے جو کمزور لوگوں کا کام ہے، شیر خدا بھی تقیہ کرے تو حق کا اعلان اور عزیمت پر عمل کون کرے گا۔ پھر تقیہ کا بہانہ بنانے والوں کی کتاب ”الکافی“ میں لکھا ہے کہ ان کے امام اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور ان کی مرضی ہوتی ہے تو مرتے ہیں۔ تو ان کے قول کے مطابق پہلے امام علی رضی اللہ عنہ کو جب اپنی موت کا علم تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہو گی تو انھیں کون سی مجبوری تھی کہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے، یا عمر بن خطاب(رضی اللہ عنہ) سے اپنی لخت جگر ام کلثوم کا نکاح کرتے؟
➎ علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زبردستی کروایا ہوا کوئی قول یا فعل معتبر نہیں، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ نکاح، نہ غلام آزاد کرنا، نہ کسی کے نام جائداد لگوانا، نہ کوئی اقرار یا انکار یا کفر یہ بات کرنا، ہاں جو کچھ وہ شرح صدر کے ساتھ کرے وہ معتبر ہو گا۔ (سیوطی فی الاکلیل)
➏ { فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ: } دنیا میں اللہ کا بڑا غضب یہ ہے کہ مرتد ہونے والا مرد ہو یا عورت اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ] [بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالھم، باب حکم المرتد…: ۶۹۲۲] ”جو شخص اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔“ اور آخرت میں عذاب عظیم کی عظمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
➐ بعض لوگوں نے اپنے پاس سے کہا کہ عورت مرتد ہو جائے تو قتل نہیں کی جائے گی، یہ بات درست نہیں، کیونکہ ”مَنْ“ میں مرد و عورت سبھی شامل ہیں اور عورت کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
➋ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوْ بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِعَمِّهِ أَبِيْ طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُوْ بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ، فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُوْنَ وَأَلْبَسُوْهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيْدِ وَ صَهَرُوْهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بِلاَلاً، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللّٰهِ، وَهَانَ عَلٰی قَوْمِهِ، فَأَخَذُوْهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوْا يَطُوْفُوْنَ بِهِ فِيْ شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُوْلُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ] [ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد رضی اللہ عنھم اجمعین: ۱۵۰، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الإسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنھم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چنانچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بے قدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بے قدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔“
➌ اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کر لے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ {” اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ “ } کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کر لے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہو گا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح علیھما السلام نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا۔ اسی طرح اصحاب الاخدود کا اور سورۂ یس میں مذکور شہید ہونے والے شخص کا واقعہ ہے اور اسلام میں تو اس کی بے شمار مثالیں ہیں، جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب و تابعین۔
➍ بعض لوگوں نے جو ابوبکر، عمر، عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغض رکھتے ہیں، جب دیکھا کہ علی، حسن، حسین اور دوسرے بنی ہاشم رضی اللہ عنھم نے تینوں خلفاء کی بیعت کر لی، جو ان کے خلیفہ برحق ہونے کی دلیل ہے تو ان دشمنانِ صحابہ نے یہ بات بنائی کہ انھوں نے یہ کام مجبوری کی بنا پر تقیہ سے کیا تھا، حالانکہ تقیہ تو ایک رخصت ہے جو کمزور لوگوں کا کام ہے، شیر خدا بھی تقیہ کرے تو حق کا اعلان اور عزیمت پر عمل کون کرے گا۔ پھر تقیہ کا بہانہ بنانے والوں کی کتاب ”الکافی“ میں لکھا ہے کہ ان کے امام اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور ان کی مرضی ہوتی ہے تو مرتے ہیں۔ تو ان کے قول کے مطابق پہلے امام علی رضی اللہ عنہ کو جب اپنی موت کا علم تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہو گی تو انھیں کون سی مجبوری تھی کہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے، یا عمر بن خطاب(رضی اللہ عنہ) سے اپنی لخت جگر ام کلثوم کا نکاح کرتے؟
➎ علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زبردستی کروایا ہوا کوئی قول یا فعل معتبر نہیں، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ نکاح، نہ غلام آزاد کرنا، نہ کسی کے نام جائداد لگوانا، نہ کوئی اقرار یا انکار یا کفر یہ بات کرنا، ہاں جو کچھ وہ شرح صدر کے ساتھ کرے وہ معتبر ہو گا۔ (سیوطی فی الاکلیل)
➏ { فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ: } دنیا میں اللہ کا بڑا غضب یہ ہے کہ مرتد ہونے والا مرد ہو یا عورت اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ] [بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالھم، باب حکم المرتد…: ۶۹۲۲] ”جو شخص اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔“ اور آخرت میں عذاب عظیم کی عظمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
➐ بعض لوگوں نے اپنے پاس سے کہا کہ عورت مرتد ہو جائے تو قتل نہیں کی جائے گی، یہ بات درست نہیں، کیونکہ ”مَنْ“ میں مرد و عورت سبھی شامل ہیں اور عورت کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ جان بچانے کے لئے قولاً یا فعلاً کفر کا ارتکاب کرلے جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا، نہ اس کی بیوی اس سے جدا ہوگی اور نہ اس پر دیگر احکام کفر لاگو ہونگیں۔ قالہ الْقُرْطُبِیُّ (فتح القدیر) 16۔ 2 یہ مرتد ہونے کی سزا ہے کہ وہ غضب الٰہی اور عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے اور اس کی دنیاوی سزا قتل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے دیکھئے (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) 2۔ البقرۃ:217) اور آیت (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ:256) کا حاشیہ)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
106۔ جس شخص نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کیا، اِلا یہ کہ وہ مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل [111] ایمان پر مطمئن ہو (تو یہ معاف ہے) مگر جس نے برضا و رغبت کفر قبول کیا [112] تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لئے بہت بڑا عذاب ہے
[111] اضطراری حالت میں کلمہ کفر کہنے کی رخصت:۔
اگر کوئی مسلمان مصیبتوں اور سختیوں سے گھبرا کر یا جان کے خطرہ کے وقت منہ سے کوئی کلمہ کفر کہہ دے بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر بدستور قائم ہو تو اس بات کی رخصت ہے ورنہ اصل حکم یا عزیمت یہی ہے کہ اس وقت بھی اس کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے اور وہ اس رخصت سے فائدہ نہ اٹھائے۔ چنانچہ دور مکی میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے جو مظالم و شدائد ڈھائے جاتے رہے ان میں اکثر صحابہ کرامؓ عزیمت پر ہی عمل پیرا رہے۔ وہ مصائب جھیلتے رہے مگر ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ حتیٰ کہ بعض صحابہ نے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ لے دے کے ایک مثال سیدنا عمار بن یاسرؓ کی ہمیں ملتی ہے۔ عمارؓ خود ان کے باپ یاسر اور ان کی ماں سمیہ سب ابو جہل سردار قریش مکہ کے غلام تھے۔ سیدنا عمارؓ کے سامنے ان کے والد کو شہید کیا گیا اور ابو جہل لعین نے ان کی والدہ کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر انھیں شہید کر دیا۔ ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبور ہو کر وہ سب کچھ کہہ دیا جو کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوانا چاہتے تھے پھر اسی وقت آپؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسے اور ایسے حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر کیا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے دل کی کیفیت بتاؤ“ سیدنا عمارؓ کہنے لگے ”میرا دل تو پوری طرح ایمان پر مطمئن ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا اگر پھر تم سے وہ ایسا ہی سلوک کریں تو تم پھر اس رخصت سے فائدہ اٹھا لینا“ اسی سلسلہ میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ [بخاری۔ کتاب الا کراہ۔ باب قول اللہ الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان]
[112] یعنی جو لوگ اسلام لانے کے بعد پیش آمدہ مصائب سے گھبرا کر اپنی سابقہ کفر کی آرام طلب زندگی کو ترجیح دینے لگیں اور کسی قسم کا دنیوی نقصان بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور انھیں وجوہ کی بنا پر برضاء و رغبت پھر کفر کی راہ اختیار کر لیں۔ تو ایسے لوگ فی الواقع عذاب عظیم کے مستحق ہیں۔
[112] یعنی جو لوگ اسلام لانے کے بعد پیش آمدہ مصائب سے گھبرا کر اپنی سابقہ کفر کی آرام طلب زندگی کو ترجیح دینے لگیں اور کسی قسم کا دنیوی نقصان بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور انھیں وجوہ کی بنا پر برضاء و رغبت پھر کفر کی راہ اختیار کر لیں۔ تو ایسے لوگ فی الواقع عذاب عظیم کے مستحق ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہو جائیں پھر کفر پر ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کر لیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہو گا ‘۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بے کار ہو گئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔
پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔
پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقیناً ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔“ شعبی، قتاوہ اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔
ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔
پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:]
بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8]
پھر حضور علیہ السلام کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21946:]
بیہقی میں اس سے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنا دل کیسا پاتے ہو؟ } جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا: { اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کر لینا }۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [بیہقی:208/8]
پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کر لے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کرکے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ رضی اللہ عنہ کو لٹا کر آپ رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کر دیا اور اللہ کی توحید ”احد، احد“ کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ”واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا۔“ اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔
اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔
اسی طرح خیب بن زیاد انصاری رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔
مسند میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ { جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کر دو } یا فرمایا { جو اپنے دین کو بدل دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:231/5:صحیح] یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6923]
پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔
پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کر دیا جائے۔
چنانچہ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی رضی اللہ عنہما کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کر لیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دیدے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا باربار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کر لو اور آپ رضی اللہ عنہ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔
چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔“
چنانچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ رضی اللہ عنہ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، رضی اللہ عنہ۔ پھر بادشاہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لے کر فرمایا کہ ”ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔“
اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لیے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لیے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔“
بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔
اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کر دیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لیے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔
اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کا ماتھا چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہو گئے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے آگ میں جلوا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو }۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لیے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو }۔ جب یہ خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں پر افسوس۔“ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی وارد کیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3017]