ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 102

قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
کہہ دے اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو ثابت قدم رکھے جو ایمان لائے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہو۔ En
کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے
En
کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت102) ➊ {قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ: نَزَّلَ} میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۰۶){ رُوْحُ الْقُدُسِ } یعنی جبریل علیہ السلام، یہاں{ رُوْحُ } (موصوف) { الْقُدُسِ } (صفت) کی طرف مضاف ہے جو مصدر ہے۔ اس کا معنی طہارت اور پاکیزگی ہے، مگر یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول{ مُقَدَّسٌ } ہے، یعنی {اَلرُّوْحُ الْمُقَدَّسُ } مبالغے کے لیے اسم مفعول کی جگہ مصدر لائے ہیں، یعنی وہ روح جو سراپا پاکیزگی و طہارت ہے، جیسے {رَجُلُ صِدْقٍ} اور {خَبَرُ سُوْءٍ } ہے، جو اصل میں {اَلرَّجُلُ الصَّادِقُ} اور {اَلْخَبَرُ السَّيِّءُ} تھا۔ { مِنْ رَّبِّكَ } کا مطلب ہے کہ قرآن نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے، کسی مخلوق کا کلام نہیں اور اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے، ورنہ تربیت مکمل نہ ہو سکتی اور { بِالْحَقِّ } کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو باطل ہو، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک کے تمام ادوار کے تقاضوں کے عین مطابق اور حق ہے۔
➋ { لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} تاکہ وہ ایمان والوں کو ایمان پر خوب قائم رکھے اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ اس لیے جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے، اس پر کافر شبہ کرتے ہیں، اس کا جواب سمجھا دیا، یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہر حال سے خبر رکھتا ہے۔ (موضح)
➌ { وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ: هُدًى } یعنی ہر حال میں اس کے مطابق راہ سمجھا دے اور { بُشْرٰى } ہر کام پر ویسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح) اس کا صحیح اور مکمل مطلب سمجھنے کے لیے سورۂ عنکبوت کی آیات (۵۰، ۵۱) کی تفسیر ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی یہ قرآن محمد کا اپنا گھڑا ہوا نہیں بلکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ جیسے پاکیزہ ہستی نے سچائی کے ساتھ رب کی طرف سے اتارا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے، (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193؀ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ 194؀ۙ) 26۔ الشعراء:194-193) اسے الروح الامین (جبرائیل علیہ السلام) نے تیرے دل پر اتارا ہے '۔ 12۔ 2 اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ منسوخ کرنے والا اور منسوخ دونوں رب کی طرف سے ہیں۔ علاوہ ازیں منسوخی کی مصلحتیں بھی جب ان کے سامنے آتی ہیں تو ان کے اندر مزید ثبات قدمی اور ایمان میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ 12۔ 3 اور یہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے، کیونکہ قرآن بھی بارش کی طرح ہے، جس سے بعض زمینیں خوب شاداب ہوتی ہیں اور بعض میں کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ مومن کا دل صاف اور شفاف ہے جو قرآن کی برکت سے اور ایمان کے نور سے منور ہوجاتا ہے اور کافر کا دل زمین شور کی طرح ہے جو کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے بھرا ہوا ہے، جہاں قرآن کی ضیا پاشیاں بھی بےاثر رہتی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ آپ ان سے کہئے کہ اس قرآن کو روح القدس [106] نے آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ بتدریج نازل کیا ہے۔ تاکہ ایمان لانے [107] والوں کے ایمان کو مضبوط بنا دے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے
[106] روح القدس سے مراد؟
پاکیزہ روح یا پاکیزگی کی روح اور اس سے مراد جبریلؑ ہیں جو ہر طرح کی بشری کمزوریوں سے پاک ہیں۔ وہ نہ خائن ہیں نہ کذاب ہیں اور نہ مفتری۔ نہ وہ اللہ کے نازل کردہ کلام میں سے کچھ حذف کرتے ہیں اور نہ اس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ نہ ترمیم و تنسیخ کر سکتے ہیں بلکہ اللہ کا کلام جوں کا توں نبی کے دل پہ نازل کرتے ہیں۔
[107] نزول قرآن میں تدریج کے فائدے:۔
قرآن اتارنے میں جو حالات کے تقاضوں کے تحت تدریج کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ تکرار احکام سے ایمان میں بتدریج پختگی واقع ہوتی رہتی ہے اور ان میں ثبات و استقلال پیدا ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ جو کفار مکہ آئے دن مسلمانوں پر ناجائز مظالم اور سختیاں کرتے رہتے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی بار بار تسلی دینے، مصائب میں ثابت قدم رہنے۔ اس دنیا میں بھی سیدھی راہ پر گامزن رکھنے پر اور مصائب کی برداشت پر اور جنت کی خوشخبری دینے کی ضرورت پیش آتی رہی۔ [احكام ميں تدريج اور تبديلي كے سلسله ميں سورة بقره كي آيت نمبر 106 كا حاشيه بهي ملاحظه فرما ليجئے]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ازلی بدنصیب لوگ ٭٭
مشرکوں کی عقلی، بے ثباتی اور بے یقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو؟ ‘ یہ تو ازلی بد نصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔
جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106]‏‏‏‏، میں فرمایا ہے۔
’ پاک روح (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ کہہ دیجیے! اس کو روح القدس نے اتارا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے جناب جبریل علیہ السلام ہیں جو نہایت مقدس اور ہر عیب، خیانت اور آفت سے پاک ہیں۔ ﴿مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی خبریں اور اس کے اوامر و نواہی حق پر مشتمل ہیں۔ پس کسی کے لیے گنجائش نہیں کہ اس میں بامعنی جرح و قدح کر سکے کیونکہ جب اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ حق ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جو چیز اس کے متناقض اور معارض ہے، وہ باطل ہے۔
﴿ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو وقتاً فوقتاً اس کی آیات کے نزول اور ان پر توارد کے وقت۔ اور یوں رفتہ رفتہ حق ان کے دلوں میں جا گزیں ہو کر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم مشروع کر کے اسے منسوخ کر دیتا ہے تو انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اسی جیسے یا اس سے بہتر کسی اور حکم سے بدل دیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا کسی حکم کو منسوخ کرنا حکمت ربانی اور عقلی مناسبت رکھتا ہے۔ ﴿ وَهُدًى وَّبُشْرٰؔى لِلْ٘مُسْلِمِیْنَ۠ اور ہدایت اور خوش خبری ہے واسطے مسلمانوں کے یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کے حقائق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے، ان کے سامنے باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتا ہے اور وہ انھیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے، نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے احکام کو رفتہ رفتہ نازل کرنا اہل ایمان کے لیے زیادہ ہدایت اور بشارت کا باعث بنتا ہے۔ یک بارگی نازل کرنے سے فکر تفرق اور تشتت کا شکار ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حکم اور بشارت کو زیادہ کثرت سے نازل کرتا ہے۔ جب اہل ایمان ایک حکم کو سمجھ کر اس کی فہم حاصل کر لیتے ہیں، انھیں اس کی مراد کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے مفاہیم و معانی سے خوب سیراب ہو جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس جیسا ایک اور حکم نازل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کتاب اللہ پر عمل کر کے بہت بڑے مقام پر پہنچ گئے، ان کی عادات اور طبائع بدل گئیں اور انھوں نے ایسے اخلاق، عادتیں اور اعمال اختیار کر لیے جن کی بنا پر وہ تمام اولین و آخرین سے بڑھ گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کے علوم کے ذریعے سے اپنی تربیت کریں، اس کے اخلاق کو اپنائیں، گمراہی اور جہالتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اور تمام حالات میں اس کو اپنا راہنما بنائیں پس اس طرح ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات درست رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذكر تعالى حكمته في ذلك، فقال: {قل نَزَّلَه رُوحُ القُدُس}: وهو جبريلُ الرسول المقدَّس المنزَّه عن كلِّ عيب وخيانةٍ وآفةٍ، {بالحقِّ}؛ أي: نزوله بالحقِّ، وهو مشتملٌ على الحقِّ في أخباره وأوامره ونواهيه؛ فلا سبيل لأحدٍ أن يَقْدَحَ فيه قدحاً صحيحاً؛ لأنَّه إذا عُلِمَ أنَّه الحقُّ؛ عُلِمَ أنَّ ما عارَضَه وناقَضَه باطلٌ. {ليثبِّتَ الذين آمنوا}: عند نزول آياتِهِ وتوارُدِها عليهم وقتاً بعد وقتٍ؛ فلا يزال الحقُّ يصلُ إلى قلوبهم شيئاً فشيئاً، حتى يكون إيمانهم أثبتَ من الجبال الرواسي. وأيضاً؛ فإنَّهم يعلمون أنَّه الحقُّ، وإذا شرع حكماً من الأحكام، ثم نَسَخَه؛ علموا أنه أبدله بما هو مثلُه أو خيرٌ منه لهم، وأنَّ نسخَه هو المناسب للحكمة الربانيَّة والمناسبة العقليَّة. {وهدىً وبشرى للمسلمين}؛ أي: يهديهم إلى حقائق الأشياء، ويبيِّن لهم الحقَّ من الباطل والهدى من الضَّلال، ويبشِّرهم أنَّ لهم أجراً حسناً ماكثين فيه أبداً. وأيضاً؛ فإنه كلَّما نزل شيئاً فشيئاً؛ كان أعظم هدايةً وبشارةً لهم مِنْ لو أتاهم جملةً واحدةً وتفرَّق الفكرُ فيه، بل يُنْزِلُ الله حكماً وتارة أكثر؛ فإذا فهِموه وعَقَلوه وعَرَفوا المراد منه وتروَّوْا منه؛ أنزل نظيره ... وهكذا. ولذلك بلغ الصحابة رضي الله عنهم به مبلغاً عظيماً، وتغيَّرت أخلاقهم وطبائعهم، وانتقلوا إلى أخلاق وعوائد وأعمال فاقوا بها الأوَّلين والآخرين، وكان أعلى وأولى لمن بعدَهم أن يتربَّوا بعلومه، ويتخلَّقوا بأخلاقه، ويستضيئوا بنورِهِ في ظُلمات الغيِّ والجهالات، ويجعلوه إمامهم في جميع الحالات. فبذلك تستقيم أمورهم الدينيَّة والدنيويَّة.