تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} تاکہ وہ ایمان والوں کو ایمان پر خوب قائم رکھے اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ اس لیے جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے، اس پر کافر شبہ کرتے ہیں، اس کا جواب سمجھا دیا، یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہر حال سے خبر رکھتا ہے۔“ (موضح)
➌ { وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ: ” هُدًى “} یعنی ہر حال میں اس کے مطابق راہ سمجھا دے اور {” بُشْرٰى “} ہر کام پر ویسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح) اس کا صحیح اور مکمل مطلب سمجھنے کے لیے سورۂ عنکبوت کی آیات (۵۰، ۵۱) کی تفسیر ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے آیت «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106]، میں فرمایا ہے۔
’ پاک روح (یعنی جبرائیل علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہو جائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہو جائے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہو جائیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا ذكر تعالى حكمته في ذلك، فقال: {قل نَزَّلَه رُوحُ القُدُس}: وهو جبريلُ الرسول المقدَّس المنزَّه عن كلِّ عيب وخيانةٍ وآفةٍ، {بالحقِّ}؛ أي: نزوله بالحقِّ، وهو مشتملٌ على الحقِّ في أخباره وأوامره ونواهيه؛ فلا سبيل لأحدٍ أن يَقْدَحَ فيه قدحاً صحيحاً؛ لأنَّه إذا عُلِمَ أنَّه الحقُّ؛ عُلِمَ أنَّ ما عارَضَه وناقَضَه باطلٌ. {ليثبِّتَ الذين آمنوا}: عند نزول آياتِهِ وتوارُدِها عليهم وقتاً بعد وقتٍ؛ فلا يزال الحقُّ يصلُ إلى قلوبهم شيئاً فشيئاً، حتى يكون إيمانهم أثبتَ من الجبال الرواسي. وأيضاً؛ فإنَّهم يعلمون أنَّه الحقُّ، وإذا شرع حكماً من الأحكام، ثم نَسَخَه؛ علموا أنه أبدله بما هو مثلُه أو خيرٌ منه لهم، وأنَّ نسخَه هو المناسب للحكمة الربانيَّة والمناسبة العقليَّة. {وهدىً وبشرى للمسلمين}؛ أي: يهديهم إلى حقائق الأشياء، ويبيِّن لهم الحقَّ من الباطل والهدى من الضَّلال، ويبشِّرهم أنَّ لهم أجراً حسناً ماكثين فيه أبداً. وأيضاً؛ فإنه كلَّما نزل شيئاً فشيئاً؛ كان أعظم هدايةً وبشارةً لهم مِنْ لو أتاهم جملةً واحدةً وتفرَّق الفكرُ فيه، بل يُنْزِلُ الله حكماً وتارة أكثر؛ فإذا فهِموه وعَقَلوه وعَرَفوا المراد منه وتروَّوْا منه؛ أنزل نظيره ... وهكذا. ولذلك بلغ الصحابة رضي الله عنهم به مبلغاً عظيماً، وتغيَّرت أخلاقهم وطبائعهم، وانتقلوا إلى أخلاق وعوائد وأعمال فاقوا بها الأوَّلين والآخرين، وكان أعلى وأولى لمن بعدَهم أن يتربَّوا بعلومه، ويتخلَّقوا بأخلاقه، ويستضيئوا بنورِهِ في ظُلمات الغيِّ والجهالات، ويجعلوه إمامهم في جميع الحالات. فبذلك تستقيم أمورهم الدينيَّة والدنيويَّة.