تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لیے ویل دوزخ ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے ‘۔
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایذأ اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کر لیجئے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:89] ’ ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئیے انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔
یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے تھا یہ آیت مکیہ ہے اور جہاد بعد از ہجرت مقرر اور شروع ہوا ہے۔ ’ تیرا رب خالق ہے اور خالق مار ڈالنے کے بعد بھی پیدائش پر قادر ہے، اسے کسی چیز کی باربار کی پیدائش عاجز نہیں کرسکتی۔ ریزوں کو جب بکھر جائیں وہ جمع کر کے جان ڈال سکتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [36-يس:81-83]، ’ آسمان و زمین کا خالق کیا ان جیسوں کی پیدائش کی قدرت نہیں رکھتا؟ بیشک وہ پیدا کرنے والا علم والا ہے وہ جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ہو جانے کو فرما دیتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ذات ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ما خلقناهما عَبَثاً باطلاً كما يظنُّ ذلك أعداء الله، بل ما خلقناهما {إلاَّ بالحقِّ}: الذي منه أن يكونا بما فيهما دالَّتين على كمال خالقهما واقتداره وسعة رحمتِهِ وحكمتِهِ وعلمِهِ المحيط، وأنَّه الذي لا تنبغي العبادةُ إلا له وحدَه لا شريك له. {وإنَّ الساعة لآتيةٌ}: لا ريبَ فيها؛ لَخَلْقُ السماوات والأرض أكبرُ من خَلْق الناس. {فاصفَح الصَّفْح الجميلَ}: وهو الصفح الذي لا أذيَّة فيه، بل يقابل إساءة المسيء بالإحسان وذنبَه بالغفران؛ لتنال من ربِّك جزيل الأجر والثواب؛ فإنَّ كلَّ ما هو آتٍ فهو قريبٌ.
وقد ظهر لي معنى أحسن مما ذكرتُ هنا، وهو أنَّ المأمور به هو الصفح الجميل؛ أي: الحسن الذي قد سَلِمَ من الحقد والأذيَّة القوليَّة والفعليَّة، دون الصفح الذي ليس بجميل، وهو الصفح في غير محلِّه؛ فلا يُصْفَح حيث اقتضى المقام العقوبة؛ كعقوبة المعتدين الظالمين الذين لا ينفعُ فيهم إلا العقوبة، وهذا هو المعنى.