(آیت82تا84){وَكَانُوْايَنْحِتُوْنَمِنَالْجِبَالِبُيُوْتًااٰمِنِيْنَ …:} یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز ({اَلطَّاغِيَةُ}) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بستی سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر امن سے ان میں رہتے [44] تھے
[44] اصحاب الحجر یا قوم ثمود:۔
یہ لوگ بڑے طویل القامت، مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے۔ سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے۔ اور اس فن میں اتنے ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے گھر بنا لیتے تھے۔ اور یہ گھر اتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان باد و باراں وغیرہ کا مقابلہ کر سکتے تھے لہٰذا ہر طرح کے خوف و خطر سے نڈر ہو کر ان میں رہتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔