(آیت81) ➊ {وَاٰتَيْنٰهُمْاٰيٰتِنَا: ”اٰيٰتِنَا“ } ہماری نشانیاں، ان نشانیوں میں اونٹنی کا معجزہ ہی کئی معجزوں پر مشتمل تھا۔ پیغمبر پر نازل شدہ آیات بھی اور ان کی وادی میں زراعت کا عمدہ انتظام اور پہاڑ تراش کر مکان بنانے کا سلیقہ جن کا ذکر سورۂ شعراء میں ہے، سب شامل ہیں۔ وہ عقلی دلائل بھی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو توحید کی طرف رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔ ➋ { فَكَانُوْاعَنْهَامُعْرِضِيْنَ:} یعنی انھوں نے کوئی عبرت حاصل نہ کی، بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور صالح علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو لے آؤ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
81۔ 1 ان نشانیوں میں وہ اونٹنی بھی تھی جو ان کے کہنے پر ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی، لیکن ظالموں نے اسے قتل کر ڈالا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں [43] مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے
[43] یہ نشانیاں اللہ کی اونٹنی اور اس کا بچہ تھیں۔ اور یہ معجزہ ان کے مطالبہ پر انھیں عطا ہوا تھا علاوہ ازیں رسولوں پر منزل من اللہ تعلیم پر بھی ان الفاظ یعنی آیات اللہ کا اطلاق ہوتا ہے ان کے انکار کا قصہ بھی پہلے سورۃ اعراف اور سورۃ ہود میں گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آل ثمود کی تباہیاں ٭٭
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوافِيدَارِكُمْثَلَاثَةَأَيَّامٍذَٰلِكَوَعْدٌغَيْرُمَكْذُوبٍ»۱؎[11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِالٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎[صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔