ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 79

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔ En
تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں
En
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت79){وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ: اِمَامٌ} کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

79۔ 1 امام مُبِیْنٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہی تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ چنانچہ ہم نے ان سے (بھی) انتقام لے لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ [41] پر واقع ہیں
[41] اہل مدین اور مدین کا علاقہ:۔
حجاز سے شام و فلسطین نیز عراق سے مصر کو جو تجارتی راستہ جاتا ہے۔ قوم لوط کا تباہ شدہ علاقہ اسی راستہ میں پڑتا ہے۔ وہیں ذرا نیچے اتر کر قوم شعیب کا مسکن تھا۔ دونوں کے آثار راستہ چلنے والوں کو نظر آتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔
شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89]‏‏‏‏ ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔