(آیت72){لَعَمْرُكَاِنَّهُمْلَفِيْ …: ”عَمْرٌ“} عین کے فتحہ کے ساتھ {”عُمْرٌ“} ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ”عین“ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ {”عَمْرٌ“} مبتدا ہے اور اس کی خبر {”قَسْمِيْ“ } یا {”يَمِيْنِيْ“} ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ {”سَكْرَةٌ“} نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط علیہ السلام کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا مقصود ہے۔ قسم اور جوابِ قسم میں مناسبت یہ ہے کہ اے نبی! آپ کی پوری پاکیزہ زندگی اور عفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ جو اس کے بالکل برعکس چلنے والے تھے وہ دراصل ہوش میں نہ تھے اور اسی مدہوشی میں ایسے بھٹکے پھرتے تھے کہ ان کے لیے راہِ راست پر آنا ممکن ہی نہ تھا۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے اور انھوں نے لوط علیہ السلام کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے، صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ قسم کے متعلق مفصل بات ان شاء اللہ آگے کسی مقام پر ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
72۔ 1 اللہ نبی سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حاکم مطلق ہے، وہ جس کی چاہے قسم کھائے، اس سے کون پوچھنے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح شراب کے نشے میں دھت انسان کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ اپنی بد مستی اور گمراہی میں اتنے سرگرداں تھے کہ حضرت لوط ؑ کی اتنی معقول بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ پائی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ (اے نبی)! آپ کی عمر [37] کی قسم! اس وقت وہ اپنی مستی میں دیوانے ہو رہے تھے
[37] غنڈوں کی بد مستی:۔
سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان سے زیادہ اکرم و افضل کوئی جان پیدا نہیں کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان عزیز کے علاوہ کسی اور جان کی قسم کھائی ہو۔ یہی قسم کھا کر اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس وقت ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر وہ اپنی شہوت رانی کی مستی میں اندھے اور دیوانے بنے ہوئے تھے کہ ایسا شکار شاید انھیں بعد میں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔