(آیت70){قَالُوْۤااَوَلَمْنَنْهَكَعَنِالْعٰلَمِيْنَ: ”لَمْنَنْهَكَ“”نَهَييَنْهٰي“} سے جمع متکلم جحد معلوم ہے، {”نَنْهٰي“} کا الف {”لَمْ“} کی و جہ سے حذف ہو گیا، کاف ضمیر مفعول بہ ہے۔ یعنی تم سارے جہان کو مہمان بنا لیا کرو گے تو کیا ہم سب ہی کو چھوڑ دیں گے، کیا ہم نے تمھیں منع نہیں کیا کہ ہمارے ہوتے اجنبی مسافروں کو مہمان نہ بنایا کرو اور ہمارے مقابلے میں کسی کی حمایت نہ کرو۔ کیسے خبیث اور مسخ شدہ فطرت والے لوگ تھے، جو اپنے شہر میں آنے والے مہمان یا گزرنے والے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، نہ اس میں کوئی شرم محسوس کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
70۔ 1 انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اے لوط! تو ان اجنبیوں کا کیا لگتا ہے؟ اور کیوں ان کی حمایت کرتا ہے؟ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا ہے کہ اجنبیوں کی حمایت نہ کیا کر، یا ان کو اپنا مہمان نہ بنایا کر! یہ ساری گفتگو اس وقت ہوئی جب کہ حضرت لوط ؑ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ اجنبی مہمان اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور وہ اسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں جو ان فرشتوں کے ساتھ بدفعلی کے لئے مصر تھی، جیسا کہ سورة ہود میں یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ یہاں ان کے فرشتے ہونے کا ذکر پہلے آگیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
70۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نے تجھے اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم دنیا جہان کی حمایت [35] نہ کیا کرو؟
[35] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے سیدنا لوطؑ سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ تم مسافروں اور اجنبیوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ گویا ان کے شہر میں کسی مسافر کی بھی عزت محفوظ نہ تھی۔ پھر لواطت کے علاوہ ان میں مزید قباحتیں بھی موجود تھیں وہ مسافروں سے بد فعلی کرنے کے بعد ان کا مال اسباب ان سے چھین کر اپنی بستی سے باہر نکال دیا کرتے تھے۔ اب ان خوش شکل نوجوان کو دیکھ کر بھلا وہ اپنی حرکتوں سے کیسے باز رہ سکتے تھے؟ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سارے جہاں کے ٹھیکیدار مت بنو اور کسی مسافر کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ اپنی ہی خیر مناؤ تو یہ بھی بڑی بات ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔