تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘
رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔
بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لو ما تأتينا بالملائكةِ}: يشهدون لك بصحَّة ما جئت به، {إن كنتَ من الصادقين}: فلما لم تأت بالملائكةِ؛ فلستَ بصادق. وهذا من أعظم الظُّلم والجهل: أما الظُّلم؛ فظاهر؛ فإنَّ هذا تجرؤ على الله وتعنُّت بتعيين الآيات التي لم يخترْها، وحَصَلَ المقصودُ والبرهان بدونها من الآيات الكثيرة الدالَّة على صحَّة ما جاء به. وأما الجهلُ؛ فإنَّهم جهلوا مصلحتهم من مضرَّتهم؛ فليس في إنزال الملائكة خيرٌ لهم، بل لا ينزل الله الملائكة إلاَّ بالحقِّ الذي لا إمهال على مَنْ لم يتَّبعه وينقد له. {وما كانوا إذاً}؛ أي: حين تنزل الملائكة إن لم يؤمنوا ولن يؤمنوا، {مُنْظَرين}؛ أي: بمُمْهَلينَ، فصار طلبهم لإنزال الملائكة تعجيلاً لأنفسهم بالهلاك والدمار؛ فإن الإيمان ليس في أيديهم، وإنما هو بيد الله، {ولو أنَّنا نزَّلنا إليهم الملائكة وكلَّمهم الموتى وحَشَرْنا عليهم كلَّ شيء قُبُلاً ما كانوا لِيؤمنوا إلاَّ أن يشاء الله، ولكنَّ أكثرَهم يجهلونَ}.