(آیت57){ قَالَفَمَاخَطْبُكُمْاَيُّهَاالْمُرْسَلُوْنَ:} غالباً ابراہیم علیہ السلام قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ مَانُنَزِّلُالْمَلٰٓىِٕكَةَاِلَّابِالْحَقِّ }»[الحجر: ۸]”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چناچہ انہوں نے پوچھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ پھر ان سے پوچھا:“ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو! تمہارا کیا معاملہ [31] ہے؟“
[31] سیدنا ابراہیمؑ کے ڈرنے کی وجہ:۔
ان فرشتوں کی آمد سے سیدنا ابراہیمؑ سمجھ گئے کہ یہ کسی خاص مہم پر آئے ہیں۔ ورنہ لڑکے کی خوشخبری دینے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی تھا نیز یہ کہ کئی فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا آپؑ نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ تمہاری اس طرح آمد کی اصل غرض و غایت کیا ہے؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ لفظ کسی ناگوار صورت حال کے لیے آتا ہے گویا آپ ان فرشتوں کی آمد سے فی الواقع ڈر رہے تھے۔ پھر جب فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو آپؑ کا ڈر جاتا رہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔