(آیت51) ➊ { لِيَجْزِيَاللّٰهُكُلَّنَفْسٍمَّاكَسَبَتْ:} یعنی قیامت کے دن کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی کی جزا دے، نیکوں کو نیک اور بدوں کو بد جزا دے۔ ➋ {اِنَّاللّٰهَسَرِيْعُالْحِسَابِ:} اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ یوم حساب بہت جلد آنے والا ہے، فرمایا: «{ اِقْتَرَبَلِلنَّاسِحِسَابُهُمْ }»[الأنبیاء: ۱]”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آ گیا۔“ اور فرمایا: «{ اَتٰۤىاَمْرُاللّٰهِفَلَاتَسْتَعْجِلُوْهُ۠ }» [النحل:۱]”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، آنکھ جھپکنے میں سب کچھ سامنے آ جائے گا، فرمایا: «{ وَكُلَّاِنْسَانٍاَلْزَمْنٰهُطٰٓىِٕرَهٗفِيْعُنُقِهٖوَنُخْرِجُلَهٗيَوْمَالْقِيٰمَةِكِتٰبًايَّلْقٰىهُمَنْشُوْرًا (13) اِقْرَاْكِتٰبَكَكَفٰىبِنَفْسِكَالْيَوْمَعَلَيْكَحَسِيْبًا}»[بنی إسرائیل: ۱۳، ۱۴]”اور ہر انسان کو، ہم نے اسے اس کا نصیب اس کی گردن میں لازم کر دیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔ اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب کافی ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ یہ اس لیے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے۔ بلا شبہ اللہ فوراً حساب چکا دینے والا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔