ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 50

سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾
ان کی قمیصیں رال(بیروزا) کی ہوں گی اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپے ہوگی۔ En
ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی
En
ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر بھی چڑھی ہوئی ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت50){سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ: سَرَابِيْلُ سِرْبَالٌ} کی جمع ہے، بمعنی قمیص۔ { قَطِرَانٍ } کا معنی قاموس اور لسان العرب میں ہے ابہل، صنوبر (چلغوزہ) اور اس قسم کے درختوں مثلاً چیڑ یا دیار وغیرہ سے نکلنے والی گوند، یعنی رال یا گندہ بیروزا جو تیزی سے جلتا ہے اور سخت بدبو دار ہوتا ہے، خارش زدہ اونٹوں کو ملا جاتا ہے۔ تمام مترجمین کی طرح میں نے بھی پہلے اس کا ترجمہ گندھک کیا تھا، مگر تفسیر کے وقت مختلف لغات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ{ قَطِرَانٍ } رال (بیروزا) ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس کا ترجمہ تارکول کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کا مادہ {قَطْرٌ} ٹپکنے کا مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اس میں وہ تمام مائع چیزیں مراد ہو سکتی ہیں جو اشتعال پذیر یعنی شعلہ پکڑنے والی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ] [مسلم، الجنائز، باب التشدید في النیاحۃ: ۹۳۴] نوحہ یعنی ماتم و بین کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ اس پر {قَطِرَانٌ} کی قمیص اور خارش کا کرتہ ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی قراء ت ہے {مِنْ قَطِرٍ آنٍ } یعنی ان کی قمیصیں کھولتے ہوئے تانبے سے ہوں گی، مگر پہلی قراء ت { قَطِرَانٍ } متواتر اور راجح ہے۔ چہروں کو آگ سے ڈھانپنے کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ جسم کا سب سے باعزت حصہ ہے، اس کا حال یہ ہو گا تو دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔
یہ معاملہ کفار کے ساتھ ہو گا، کیونکہ مومنوں کے سجدے کے آثار (نشانات) کو جلانا اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی حدیث، جس میں قیامت کے کچھ احوال بیان ہوئے ہیں، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [حَتّٰی إِذَا فَرَغَ اللّٰهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لاَ يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللّٰهُ أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إلَّا اللّٰهُ، فَيَعْرِفُوْنَهُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُوْدِ، تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُوْدِ، حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُوْدِ] [بخاری، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۳۷] جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوں گے اور اہل نار میں سے اپنی رحمت کے ساتھ جسے نکالنا چاہیں گے تو فرشتوں کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال لائیں جنھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تھا، ان لوگوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہتا ہو گا، جو لا الٰہ الا اللہکی شہادت دیتے ہوں گے تو وہ انھیں آگ میں سجدے کے نشان کے ساتھ پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کو کھا جائے گی مگر سجدے کے نشان کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والے وہ ہوں گے جو شرک سے پاک ہوں گے اور جن کے جسم پر سجدے کے نشان ہوں گے۔ بے نماز اس نشان سے محروم ہوتے ہیں، انھیں اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

50۔ 1 جو آگ سے فوراً بھڑک اٹھتی ہے۔ علاوہ ازیں آگ نے ان کے چہروں کو بھی ڈھانپا ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ ان کے لبادے تارکول کے ہوں [50] گے اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانک رہی ہو گی
[50] ﴿قَطِران سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبو دار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تا دیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہو گی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جکڑے ہوئے مفسد انسان ٭٭
’ زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے ‘۔
جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22]‏‏‏‏ ’ ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو ‘
اور آیت میں ہے «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7]‏‏‏‏ ’ جب کہ نفس کے جوڑے ملا دیے جائیں ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13]‏‏‏‏ یعنی ’ جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے ‘۔ سلیمان علیہ السلام کے جنات کی بابت بھی «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» [38-ص:38، 37]‏‏‏‏ «أَصْفَادِ» کا لفظ ہے۔
«أَصْفَادِ» کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں «فَآبُوا بِالثِّيَابِ وَبِالسَّبَايَا وأُبْنَا بِالْمُلُوكِ مُصَفَّدِينَا» ، «مُصَفَّدِ» زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔
جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ «قَطِرَان» بھی ہے «قَطّرَانِ» بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، پگھلے ہوئے تانبے کو «قَطِرَانٍ» کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔‏‏‏‏
«تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:104]‏‏‏‏ ’ ان کے منہ بھی آگ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی، سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے، منہ بگڑ گئے ہوں گے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر، نسب میں طعنہ زنی، ستاروں سے بارش کی طلبی، میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:342/5:صحیح]‏‏‏‏ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:934]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہو گا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہو گی }۔ [طبرانی کبیر:18/8-78:ضعیف]‏‏‏‏
«لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آ جائیں گی نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے گا ‘۔
اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1]‏‏‏‏ کے ہو یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں ‘۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔
جیسے فرمان ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28]‏‏‏‏ ’ تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا ‘۔
یہی معنی حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔‏‏‏‏ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔