ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 42

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾
اور تو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ En
اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
En
ناانصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت42) ➊ {وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا …: الظّٰلِمُوْنَ } سے مراد یہاں کفار اور مشرکین ہیں اور یہ بات اس سورت کی آیت (۴۴) سے صاف واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کفار کو مہلت دے رہا ہے تو مت سمجھو کہ وہ ان کے اعمال سے بے خبر ہے۔
➋ { اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ …: تَشْخَصُ } باب { مَنَعَ } سے ہے، {شُخُوْصٌ} کا معنی ہے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں کا کھلا رہ جانا، حرکت نہ کرنا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے۔ اگر دنیا میں اگر اللہ نے کسی کو زیادہ مہلت دے دی اور اس کے مرنے تک اس کا مواخذہ نہیں کیا تو قیامت کے دن تو وہ مواخذہ الٰہی سے نہیں بچ سکے گا، جو کافروں کے لئے اتنا ہولناک دن ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ (مومنو)! یہ کبھی بھی خیال نہ کرنا کہ ظالم [42] جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان سے بے خبر ہے۔ وہ تو انھیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی
[42] قیامت کی ہولناکی کا ایک منظر:۔
کچھ ظالم ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں تو بہرحال انھیں یقیناً سزا دے گا اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زندگی بھر دنیا میں سزا نہیں ملتی اور ان کی رسی دراز رکھی جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ ان کی کرتوتوں سے بے خبر ہے بلکہ مجرموں کو دنیوی اور اخروی سزا دینے کے لیے بھی اللہ کے ہاں قانون مقرر ہے جس کا انحصار گناہوں کی کمیت اور کیفیت پر ہوتا ہے۔ جن مجرموں کو دنیا میں سزا نہ ملے تو ان کی سزا کو روز آخرت تک موخر کر دیا جاتا ہے۔ اس دن کی ہولناکی اور دہشت کا یہ حال ہو گا کہ مجرم اپنی پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گے اور ان کی آنکھیں مسلسل یہ منظر دیکھ رہی ہوں گی اور بند بھی نہ ہو سکیں گی۔ وہ اسی حالت میں سر اٹھائے اور نظریں سامنے جمائے میدان محشر کی طرف دوڑ رہے ہوں گے وہ نیچے کی طرف بھی نہ دیکھ سکیں گے اور دہشت سے ان کے دل دھڑک رہے ہوں گے اور کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے۔ اس دن سب لوگ سر تاپا برہنہ ہوں گے اور دہشت کا یہ عالم ہو گا کہ کسی کو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا خیال نہ آئے گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اٹھائے جاؤ گے“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورت ایک دوسرے کو دیکھیں گے نہیں؟“ فرمایا: ”وہ وقت اتنا سخت ہو گا کہ اس بات کے قصد کا کسی کو ہوش ہی نہ ہو گا“
[بخاري۔ كتاب الرقاق۔ باب كيف الحشر مسلم۔ كتاب الجنة۔ باب فناء الدنيا و بيان الحشر يوم القيامة]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہولناک منظر ہو گا ٭٭
کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لیے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اس کی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہو جائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کیلئے بیتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہو گا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ظالموں کے لیے سخت وعید اور مظلوموں کے لیے تسلی ہے، فرمایا ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْ٘قُ٘رٰى وَهِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ (ھود: 11 ؍102) اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے۔ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روا رکھتا ہے۔
﴿اِنَّمَا یُؤَخِّ٘رُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ ان کو تو اس دن کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا وعيدٌ شديد للظالمين وتسلية للمظلومين؛ يقول تعالى: {ولا تحسبنَّ الله غافلاً عما يعملُ الظالمون}: حيث أمهلهم وأدرَّ عليهم الأرزاق وتَرَكَهم يتقلَّبون في البلاد آمنين مطمئنِّين؛ فليس في هذا ما يدلُّ على حسن حالهم؛ فإنَّ الله يُملي للظالم ويُمْهِلُه ليزداد إثماً، حتى إذا أخذه؛ لم يُفْلِتْه، {وكذلك أخْذُ ربِّك إذا أخَذَ القُرى وهي ظالمةٌ إنَّ أخذَهُ أليمٌ شديدٌ}. والظلم ها هنا يشمل الظلم فيما بين العبد وربِّه وظلمه لعباد الله. {إنما يؤخِّرُهم ليوم تَشْخَصُ فيه الأبصارُ}؛ أي: لا تطرف من شدَّة ما ترى من الأهوال وما أزعجها من القلاقل.