ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 41

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ ﴿٪۴۱﴾
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔ En
اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو
En
اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت41) {رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ …:} والد کے لیے بخشش کی دعا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے تھی جو انھوں نے گھر سے نکلتے وقت اس سے کیا تھا، مگر جب وہ شرک ہی پر فوت ہو گیا اور اللہ سے اس کی دشمنی ختم ہونے کی امید ہی نہ رہی تو وہ اس سے صاف بری ہو گئے۔ (دیکھیے توبہ: ۱۱۴) رہی اپنی والدہ کے لیے دعا تو شاید وہ پہلے ہی مسلمان ہو چکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق تفصیل سے کچھ بیان نہیں فرمایا۔ تمام مومنین کے حق میں مغفرت کی دعا نوح علیہ السلام (نوح: ۲۸) سے لے کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بخاری: ۷۵۱۰) تک انبیاء اور اہلِ ایمان کرتے چلے آئے ہیں۔ (دیکھیے حشر: ۱۰)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا اس وقت کی جب کہ ابھی ان پر اپنے ماں باپ کا عَدُوُّاللّٰہِ ہونا واضح نہیں ہوا تھا، جب یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اظہار سبکدوشی کردیا۔ اس لئے کہ مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں چاہے وہ قرابت قریبہ ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ پروردگار! مجھے، میرے والدین [41] اور جملہ مومنوں کو اس دن معاف فرمانا جب حساب لیا جائے گا۔“
[41] سیدنا ابراہیمؑ کی اپنے والدین کے حق میں معافی کی دعا یا تو مشرک کے لیے دعائے مغفرت سے امتناع سے پہلے کی ہے اور یا اپنے باپ سے اس وعدہ کی بنا پر ہے جو آپ نے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے والد سے کیا تھا جس کا ذکر سورۃ توبہ کی آیت نمبر 114 میں گزر چکا ہے تاہم یہ دعا اس قدر جامع ہے جو ہر مسلمان کو اپنے والدین کے حق میں مانگتے رہنا چاہیے۔ اور اسی اہمیت کے پیش نظر ہر نماز میں درود کے بعد اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔