اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
En
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت25،24) ➊ {اَلَمْ تَرَ:} یہ خطاب اولاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور پھر ہر اس شخص سے ہے جو خطاب کے لائق ہے۔ استفہام سے مراد پوچھنا نہیں بتانا ہے۔ اسے استفہام تقریری کہتے ہیں۔ ”کیا تو نے نہیں دیکھا؟“ یہاں دیکھنے سے مراد علم اور جاننا ہے جو کائنات کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ مفسر آلوسی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ {”اَلَمْ تَرَ “} کا مخاطب بعض اوقات وہ شخص ہوتا ہے جو پہلے سے اس بات سے واقف ہو، ایسی صورت میں مراد تعجب کا اظہار ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو اس سے واقف نہ ہو، اس وقت مراد ایک تو اسے بتانا ہوتا ہے اور ایک اس بات پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے کہ اتنی مشہور بات بھی تمھیں معلوم نہیں، جو سب لوگ دیکھی ہوئی بات کی طرح جانتے ہیں۔ پھر اس مخاطب سے بات اس طرح کی جاتی ہے گویا وہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔
➋ {” مَثَلًا “} یہ {” ضَرَبَ “} کا مفعول بہ ہے، {” كَلِمَةً “} اس سے بدل ہے یا عطف بیان۔ مثل کا لفظ کسی چیز کی وضاحت کے لیے اس سے زیادہ واضح چیز کے ساتھ مثال دے کر سمجھانے کے لیے آتا ہے۔
➌ { كَلِمَةً طَيِّبَةً:} اس میں ہر پاکیزہ کلام، مثلاً تسبیح، تقدیس، تحمید اور تہلیل وغیرہ شامل ہے اور ہر پاکیزہ کلام کا خلاصہ ”لا الٰہ الا اللہ“ ہے، کیونکہ ہر پاکیزہ کلام یا عمل کا مدار یہی ہے۔ اس لیے مفسرین نے عموماً اس سے کلمۂ اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ہر پاکیزہ قول و عمل مراد لیا ہے۔
➍ {كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ …:} پاکیزہ اور عمدہ درخت کی چند خوبیاں بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ اس کی جڑ مضبوط ہے، جس کی وجہ سے اس کا اکھڑنا مشکل ہے اور وہ زمین سے غذا بخوبی حاصل کر لیتا ہے اور ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی چوٹی بہت اونچی ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان پہنچانا مشکل ہے، وہ آلودگی سے محفوظ دھوپ اور صاف ہوا سے بھی اپنی پوری خوراک حاصل کرتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے ”الوسیط“ میں لکھا ہے کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ درخت اپنی غذا کا صرف پانچ فیصد زمین سے حاصل کرتے ہیں، باقی فضا سے۔ تیسری یہ کہ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اس صفت کی تفسیر میں مفسرین کو مشکل پیش آئی ہے۔ صحیح بخاری (۶۱۲۲، ۶۱۴۴) میں ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے پتے کبھی نہیں گرتے اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے دیتا ہے، مگر آپ نے اسے کلمہ طیبہ سے تشبیہ نہیں دی۔ ترمذی (۳۱۱۹) میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ «{ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ }» سے مراد کھجور ہے، مگر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے مرفوعاً ضعیف اور موقوفاً صحیح فرمایا ہے۔ بہرحال جو مفسرین اس سے مراد کھجور کا درخت لیتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ کھجور کے درخت سے پھل کی ابتدا سے لے کر اس کے گودے، کچی کھجور، نیم پختہ، تازہ پکی ہوئی غرض ہر مرحلے کے پھل کو تقریباً چھ ماہ تک کھایا جاتا ہے، پھر اسے محفوظ کرکے سارا سال کھایا جاتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے فرمایا کہ میرے خیال میں {” تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا “} کو صرف پھل میں محدود کرنا ٹھیک نہیں، مراد یہ ہے کہ وہ درخت ہر وقت فائدہ پہنچاتا رہتا ہے، پھل کی صورت میں، سائے کی صورت میں، خوشبو کی صورت میں، عمارتی لکڑی یا ایندھن کی صورت میں، پتوں اور ٹہنیوں اور گوند کی مصنوعات کی صورت میں اور دوا کی صورت میں، اگر کچھ بھی نہ ہو تو ہوا کو آلودگی سے صاف کرکے آکسیجن بنانے کی صورت میں ہر وقت وہ اپنا فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کھجور کے علاوہ وہ تمام درخت بھی اس میں آ جاتے ہیں جن میں یہ تینوں خوبیاں ہوں۔ اسی طرح کلمہ اسلام دنیا اور آخرت کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مومن کو مختلف قسم کے بے شمار فوائد پہنچاتا رہتا ہے اور ہر وقت مومن کا کوئی نہ کوئی نیک عمل آسمان کی طرف چڑھتا رہتا ہے۔ چونکہ مثال سے بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کی نصیحت اور انھیں سمجھانے کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔
➋ {” مَثَلًا “} یہ {” ضَرَبَ “} کا مفعول بہ ہے، {” كَلِمَةً “} اس سے بدل ہے یا عطف بیان۔ مثل کا لفظ کسی چیز کی وضاحت کے لیے اس سے زیادہ واضح چیز کے ساتھ مثال دے کر سمجھانے کے لیے آتا ہے۔
➌ { كَلِمَةً طَيِّبَةً:} اس میں ہر پاکیزہ کلام، مثلاً تسبیح، تقدیس، تحمید اور تہلیل وغیرہ شامل ہے اور ہر پاکیزہ کلام کا خلاصہ ”لا الٰہ الا اللہ“ ہے، کیونکہ ہر پاکیزہ کلام یا عمل کا مدار یہی ہے۔ اس لیے مفسرین نے عموماً اس سے کلمۂ اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ہر پاکیزہ قول و عمل مراد لیا ہے۔
➍ {كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ …:} پاکیزہ اور عمدہ درخت کی چند خوبیاں بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ اس کی جڑ مضبوط ہے، جس کی وجہ سے اس کا اکھڑنا مشکل ہے اور وہ زمین سے غذا بخوبی حاصل کر لیتا ہے اور ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی چوٹی بہت اونچی ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان پہنچانا مشکل ہے، وہ آلودگی سے محفوظ دھوپ اور صاف ہوا سے بھی اپنی پوری خوراک حاصل کرتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے ”الوسیط“ میں لکھا ہے کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ درخت اپنی غذا کا صرف پانچ فیصد زمین سے حاصل کرتے ہیں، باقی فضا سے۔ تیسری یہ کہ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اس صفت کی تفسیر میں مفسرین کو مشکل پیش آئی ہے۔ صحیح بخاری (۶۱۲۲، ۶۱۴۴) میں ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے پتے کبھی نہیں گرتے اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے دیتا ہے، مگر آپ نے اسے کلمہ طیبہ سے تشبیہ نہیں دی۔ ترمذی (۳۱۱۹) میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ «{ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ }» سے مراد کھجور ہے، مگر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے مرفوعاً ضعیف اور موقوفاً صحیح فرمایا ہے۔ بہرحال جو مفسرین اس سے مراد کھجور کا درخت لیتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ کھجور کے درخت سے پھل کی ابتدا سے لے کر اس کے گودے، کچی کھجور، نیم پختہ، تازہ پکی ہوئی غرض ہر مرحلے کے پھل کو تقریباً چھ ماہ تک کھایا جاتا ہے، پھر اسے محفوظ کرکے سارا سال کھایا جاتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے فرمایا کہ میرے خیال میں {” تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا “} کو صرف پھل میں محدود کرنا ٹھیک نہیں، مراد یہ ہے کہ وہ درخت ہر وقت فائدہ پہنچاتا رہتا ہے، پھل کی صورت میں، سائے کی صورت میں، خوشبو کی صورت میں، عمارتی لکڑی یا ایندھن کی صورت میں، پتوں اور ٹہنیوں اور گوند کی مصنوعات کی صورت میں اور دوا کی صورت میں، اگر کچھ بھی نہ ہو تو ہوا کو آلودگی سے صاف کرکے آکسیجن بنانے کی صورت میں ہر وقت وہ اپنا فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کھجور کے علاوہ وہ تمام درخت بھی اس میں آ جاتے ہیں جن میں یہ تینوں خوبیاں ہوں۔ اسی طرح کلمہ اسلام دنیا اور آخرت کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مومن کو مختلف قسم کے بے شمار فوائد پہنچاتا رہتا ہے اور ہر وقت مومن کا کوئی نہ کوئی نیک عمل آسمان کی طرف چڑھتا رہتا ہے۔ چونکہ مثال سے بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کی نصیحت اور انھیں سمجھانے کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ [30] (توحید) کی کیسی عمدہ مثال بیان کی ہے جیسے وہ ایک پاکیزہ [31] درخت ہو جس کی جڑ (زمین میں خوب) جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں
[30] کلمہ طیبہ کے لغوی معنی ہے ”پاکیزہ بات“ اور اس سے مراد کلمہ توحید یعنی ﴿لاَ اِلٰهَ الآَ اللّٰهُ﴾ ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ جب عقیدہ و عمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ جہاں تمام تر بھلائیوں کی بنیاد بن جاتا ہے وہاں ہر طرح کی برائی کی جڑ بھی کاٹ پھینکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز اسی کلمہ سے کیا ہے۔ [31] کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ ہے:۔
پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے اور پاکیزہ درخت کی مومن سے مثال پیش کی گئی ہے جس کے دل میں کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید رچ بس گیا ہو۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا ”بتاؤ وہ درخت کون سا ہے جس کے پتے نہیں گرتے۔ مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے اور یہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی نہیں ہوتا، یہ بھی نہیں ہوتانہ تو اس کا پھل ختم ہوتا ہے اور نہ اس کا دانہ معدوم ہوتا اور نہ اس کا نفع ضائع جاتا ہے، اور ہر وقت میوہ دیتا ہے؟“ اس وقت میرے دل میں خیال آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ جیسے بزرگ خاموش بیٹھے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ نے خود ہی بتا دیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے اٹھ آئے تو میں نے اپنے والد سے کہا ”ابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے“ انہوں نے کہا: ”پھر تم نے کہہ کیوں نہ دیا؟“ میں نے کہا: ”آپ سب خاموش رہے تو میں نے (آگے بڑھ کر بات کرنا) مناسب نہ سمجھا“ میرے والد کہنے لگے: ”اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اور اللہ تعالیٰ نے شجرہ طیبہ کی چار صفات بیان فرمائیں
(1) وہ طیب اور پاکیزہ ہے۔ اس کی یہ عمدگی خواہ شکل و صورت کے اعتبار سے ہو یا پھل پھول کے اعتبار سے یا پھل کے خوش ذائقہ، شیریں اور خوشبو دار ہونے کے اعتبار سے ہو۔
(2) اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہو چکی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جو اپنے طویل القامت درخت کا بوجھ سہار سکتی ہیں۔
(3) اس کی شاخیں آسمانوں میں یعنی بہت بلندی تک چلی گئی ہیں لہٰذا اس سے جو پھل حاصل ہو گا وہ ہوا کی آلودگی اور گندگی وغیرہ کے جراثیم سے پاک و صاف ہو گا۔
(4) یہ عام درختوں کی طرح نہیں بلکہ ہر موسم میں پورا پھل دیتا ہے اور یہ باتیں کھجور کے درخت اور پھل میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اس درخت کو حدیث میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کے علم میں کوئی ایسا درخت بھی ہو جو ہر وقت پھل دیتا ہو جیسا کہ آیت کے الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔ نیز اللہ نے شجرہ طیبہ کو کلمہ طیبہ کے مثل قرار دیا ہے اور کلمہ طیبہ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ سدا بہار ہے اور ہر وقت اپنے صالح برگ و بار لاتا رہتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے شجرہ طیبہ کی چار صفات بیان فرمائیں
(1) وہ طیب اور پاکیزہ ہے۔ اس کی یہ عمدگی خواہ شکل و صورت کے اعتبار سے ہو یا پھل پھول کے اعتبار سے یا پھل کے خوش ذائقہ، شیریں اور خوشبو دار ہونے کے اعتبار سے ہو۔
(2) اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہو چکی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جو اپنے طویل القامت درخت کا بوجھ سہار سکتی ہیں۔
(3) اس کی شاخیں آسمانوں میں یعنی بہت بلندی تک چلی گئی ہیں لہٰذا اس سے جو پھل حاصل ہو گا وہ ہوا کی آلودگی اور گندگی وغیرہ کے جراثیم سے پاک و صاف ہو گا۔
(4) یہ عام درختوں کی طرح نہیں بلکہ ہر موسم میں پورا پھل دیتا ہے اور یہ باتیں کھجور کے درخت اور پھل میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اس درخت کو حدیث میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کے علم میں کوئی ایسا درخت بھی ہو جو ہر وقت پھل دیتا ہو جیسا کہ آیت کے الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔ نیز اللہ نے شجرہ طیبہ کو کلمہ طیبہ کے مثل قرار دیا ہے اور کلمہ طیبہ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ سدا بہار ہے اور ہر وقت اپنے صالح برگ و بار لاتا رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لا الہ الا اللہ کی شہادت ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کلمہ طیبہ سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ { پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے } }۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ { پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے } }۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ } سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ سا ہو رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ درخت کھجور کا ہے }۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا“ }۔ [صحیح بخاری:4698]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ { یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا }۔ [صحیح بخاری:2209]
اور روایت میں ہے کہ { جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا }۔ [صحیح بخاری:131]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں }۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے }۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ { یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا }۔ [صحیح بخاری:2209]
اور روایت میں ہے کہ { جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا }۔ [صحیح بخاری:131]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں }۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے }۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لیے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:ضعیف مرفوع]
اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔