ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 22

وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہاور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں بلایا تو تم نے فوراً میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بے شک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقینا جو لوگ ظالم ہیں انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے
En
جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعده دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت22) ➊ {بِمُصْرِخِكُمْ: صُرَاخٌ } کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ {اَصْرَخَ يُصْرِخُ} باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے {شَكَانِيْ فَأَشْكَيْتُهُ } کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کر دی۔ اسی لیے عام طور پر {صُرَاخٌ} کا معنی فریاد اور {اِصْرَاخٌ} کا معنی فریاد رسی کر لیا جاتا ہے۔ { بِمُصْرِخِيَّ } اصل میں {بِمُصْرِخِيْنَ} جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گر گیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ { بِمُصْرِخِيَّ } ہو گیا۔
➋ { وَ قَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ …:} فیصلے کے بعد جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں اور ہر طرف سے شیطان پر ملامت کی بوچھاڑ ہو گی تو شیطان اس کے جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں کا مالک تھا جن کا وعدہ کیا تھا، مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا، جنت، جہنم اور دعا کی قبولیت وغیرہ، اس لیے اس نے وہ وعدہ پورا کیا اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا کہ اس طرح کرو گے تو یہ ہو جائے گا، داتا کو پکارو گے تو یہ ہو گا، دستگیر کو پکارو گے تو یہ ہو گا، کیونکہ ان میں سے کوئی کسی چیز کا مالک ہی نہ تھا اور جو آرزوئیں میں نے تمھارے دل میں ابھاری تھیں کہ فلاں کی نیاز دینے سے معشوق قدموں میں آ گرتا ہے، فلاں کے نام کا بکرا دینے سے دشمن کا ستیاناس ہو جاتا ہے، ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا: «{ يَعِدُهُمْ وَ يُمَنِّيْهِمْ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا [النساء: ۱۲۰] وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہمیں تعلیم یہ ہے کہ تم جب بھی وعدہ کرو تو اس چیز کا کرو جو تم کر سکتے ہو، پھر بھی ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہو، کیونکہ تمھارا اختیار اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [الکہف: ۲۳، ۲۴] اور کسی چیز کے بارے میں ہر گز نہ کہہ کہ میں کل یہ کام ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
➌ {وَ مَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ …: سُلْطَةٌ } اور { سُلْطٰنٍ } كا مطلب زبردستی كسی پر غلبہ حاصل كر لينا، مسلط ہو جانا ہے۔ يہ تسلط دو طرح كا ہوتاہے، ايك حكومت كے ذریعے سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی ان پر کوئی حکومت نہ تھی کہ وہ ان پر کوئی فوج چڑھا لایا تھا اور ایک سلطان اور غلبہ صحیح دلیل کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ دلیل دل پر قابو پا لیتی ہے اور آدمی اس کے مطابق عمل پر مجبور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے پاس ڈنڈا بھی نہ تھا اور کوئی معقول دلیل بھی نہ تھی، چنانچہ وہ کہے گا میں نے تو بس اتنا کیا تھا کہ تمھیں کچھ کاموں کی دعوت دی، وہ تمھاری کمزوریوں، مثلاً حرص، شہوت، غصے، بزدلی وغیرہ کے عین مطابق تھی اور اس میں تمھاری خواہشات کو ابھارا گیا تھا، تم نے فوراً اسے قبول کر لیا ({أَجَبْتُمْ } اور {اِسْتَجَبْتُمْ} کے فرق کو ملحوظ رکھیں) اس لیے مجھے ملامت مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، کیونکہ اپنی مرضی سے گناہ تم نے کیا، میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اب نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو نہ میں تمھاری۔ سورۂ نحل کی آیت (۱۰۰) میں شیطان کے سلطان کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
➍ { اِنِّيْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ:} اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا تھا میں اس کا انکار کرتا ہوں، کیونکہ عبادت تو صرف اللہ کا حق تھا، اسی طرح حکم ماننا تم پر صرف اللہ کا حق تھا اور وہ بھی اس کی عبادت میں شامل تھا، تم نے اس کے بجائے میرا حکم مانا، میری عبادت کی، مجھے اس کا شریک بنایا، اب میں اس سے صاف لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ تم نے میری نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کی اور تم اللہ کے بجائے مجھے نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے دستگیروں اور داتاؤں کو پکارتے رہے ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ [النجم: ۲۳] یہ لوگ (مشرکین) صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔
➎ { اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} یہ بطور اعتراف شیطان کی بات کا آخری حصہ بھی ہو سکتا ہے جس سے پہلے وہ درج ذیل باتیں کہہ کر ان سے بری ہو چکا ہے: (1) میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ (2) میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا۔ (3) تم نے دلیل سے خالی دعوت قبول کی۔ (4) مجھے ملامت کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ (5) میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ (6) تم نے مجھے جو شریک بنایا میں اسے نہیں مانتا۔ (7) یہ آخری بات ہے کہ ظالموں (مشرکوں) کے لیے عذابِ الیم ہے۔ (خلاصہ از شوکانی) اور یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہو سکتا ہے جو اظہار حقیقت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 یعنی اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے تو شیطان جہنمیوں سے کہے گا 22۔ 2 اللہ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے۔ وہ حق پر تھے ان کے مقابلے میں میرے وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب تھے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا ' شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکا ہیں ' (النساء۔ 20) 22۔ 3 دوسرا یہ کہ میری باتوں میں کوئی دلیل و حجت نہیں ہوتی تھی، نہ میرا کوئی دباؤ ہی تم پر تھا۔ 22۔ 4 ہاں میری دعوت اور پکار تھی، تم نے میری بےدلیل پکار کو مان لیا اور پیغمبروں کی دلیل و حجت سے بھرپور باتوں کو رد کردیا۔ 22۔ 5 اس لئے قصور سارا تمہارا اپنا ہی ہے تم نے عقل و شعور سے ذرا کام نہ لیا، دلائل واضحہ کو تم نے نظر انداز کردیا، اور مجرد دعوے کے پیچھے لگ رہے، جس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں۔ 22۔ 6 یعنی نہ میں تمہیں عذاب سے نکلوا سکتا ہوں جس میں تم مبتلا ہو اور نہ تم اس قہر و غضب سے مجھے بچا سکتے ہو جو اللہ کی طرف سے مجھ پر ہے۔ 22۔ 7 مجھے اس بات سے بھی انکار ہے کہ میں اللہ کا شریک ہوں، اگر تم مجھے یا کسے اور کو اللہ کا شریک گردانتے رہے تو تمہاری اپنی غلطی اور نادانی تھی، جس اللہ نے ساری کائنات بنائی تھی اور اس کی تدبیر بھی وہی کرتا رہا، بھلا اس کا کوئی شریک کیونکر ہوسکتا تھا۔ 22۔ 8 بعض کہتے ہیں کہ یہ جملہ بھی شیطان ہی کا ہے اور یہ اس کے مذکورہ خطبے کا تتمہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان کا کلام مِنْ قَبْلُ پر ختم ہوگیا، یہ اللہ کا کلام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جب (تمام امور کا) فیصلہ [25] چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ ”اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا جس کی میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔ اور میرا تم پر کچھ زور نہ تھا بجز اس کے کہ میں نے تمہیں (اپنی طرف) بلایا تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ [26] ہی کو کرو۔ (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے اللہ کا شریک [27] بناتے رہے ہو میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے“
[25] یعنی جب لوگوں کے اعمال کا حساب لینے کے بعد اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔
[26] شیطان کا دوزخیوں سے خطاب:۔
شیطان چونکہ خود بھی دوزخ میں جائے گا تو اہل دوزخ کو جو اسے ملامت کر رہے ہوں گے، مخاطب کر کے کہے گا۔ دیکھو! ایک وعدہ تو تم سے اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کیا تھا جو یہ تھا کہ قیامت کا دن یقیناً آنے والا ہے اس دن ہر شخص کی اللہ کے حضور پیشی ہو گی۔ ہر ایک سے اس کے اعمال دنیا سے متعلق باز پرس ہو گی پھر اعمال کے مطابق ہر ایک کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ وعدہ بالکل سچا تھا جسے تم نے خود مشاہدہ کر لیا ہے۔ اور ایک وعدہ میں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تم سے کیا تھا۔ جو یہ تھا کہ روز آخرت کا تصور محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ مرنے کے بعد انسان مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے۔ ہزاروں سال بعد وہ کیونکر دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے۔ لہٰذا یہاں خواہ مخواہ کی اپنے آپ پابندیاں لگا کر اپنے آپ کو جکڑ بند کیے رکھنا کون سی دانشمندی ہے؟ اس دنیا میں جتنی زندگی ہے عیش و آرام سے گزارنی چاہیے یا یہ وعدہ کیا تھا کہ فلاں پیر اور فلاں بزرگ کا دامن پکڑ لو، اس کی بیعت کر لو اور اس کے حضور نذر و نیاز پیش کر دیا کرو۔ اگر آخرت کا دن ہوا بھی تو وہ بزرگ تمہیں سفارش کر کے اللہ سے بچا لیں گے۔
شیطان کا اعتراف کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا:۔
میں آج اقرار کرتا ہوں کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ مگر ایک بات ضرور ہے وہ یہ کہ میں نے صرف ان باتوں کی تم میں تحریک پیدا کی تھی۔ تمہیں اس طرف متوجہ ضرور کیا تھا جسے تم نے تسلیم کر لیا لیکن میرے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل تھی کہ تمہیں اس کا قائل کر سکتا اور نہ میرا تم پر کچھ زور چلتا تھا کہ میں تمہیں مجبور کر کے اپنی باتوں پر لگا سکتا۔ لہٰذا اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی عقلوں کا ماتم کرو۔ آج میں بھی ویسے ہی بے بس ہوں جیسے تم ہو۔ نہ میں تمہاری کچھ حمایت یا مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری مدد کر سکتے ہو کیونکہ دونوں ہی یکساں مجرم ہیں۔
[27] یعنی تم نے اللہ کے احکام کے علی الرغم میری باتوں پر لگ کر اس کی نافرمانیاں کیں اور میری اطاعت کر کے مجھے یا میرے ایجنٹوں کو جو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں اور برملا اقرار کرتا ہوں کہ اللہ ہی وحدہٗ لاشریک ہے اور وہی بندگی اور پرستش کے قابل ہے اور تم نے جو میری انگیخت پر کئی قسم کے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے یہ سب جھوٹ ہی جھوٹ تھا اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب میں تمہارے شریک بنانے سے پہلے ہی کافر بن چکا تھا تو پھر تم نے مجھے شریک بنایا ہی کیوں تھا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لیے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بے دلیل تھیں میرا کلام بے حجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی با دلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں۔‏‏‏‏
جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف5، 6]‏‏‏‏، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں ‘۔
اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82]‏‏‏‏، ’ یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔
یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔
لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ پس آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔
مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔
اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔
آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے }۔
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جہنمی اپنا صبر اور بے صبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ «لَمَقْتُ اللَّـهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ» ۱؎ [40-غافر:10]‏‏‏‏ ’ تمہاری اس وقت کی اس بیزاری سے بھی زیادہ بیزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے ‘۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا ‘ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:116-119]‏‏‏‏ الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» ۱؎ [14-ابراھیم:22]‏‏‏‏۔‏‏‏‏
برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا ‘۔
جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» ۱؎ [39-الزمر:73]‏‏‏‏، یعنی ’ جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے ‘، الخ۔
اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» ۱؎ [13-الرعد:23، 24]‏‏‏‏ ’ ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75]‏‏‏‏ ’ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُدَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10]‏‏‏‏ ’ ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی ‘۔