تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا:} ”یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے“ کفار کا یہ کہنا ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انبیاء علیھم السلام نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے، بلکہ بات یہ تھی کہ نبوت سے پہلے انبیاء علیھم السلام ان کے بتوں کے معاملہ میں خاموش رہتے تھے، جس پر انھوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ان کے مذہب پر ہیں، یا اس {” لَتَعُوْدُنَّ “} کا معنی {” لَتَصِيْرُنَّ “} ہے، یعنی تم ہماری ملت میں آ جاؤ گے۔ (دیکھیے اعراف: ۸۸) یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو کفر کو چھوڑ کر پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
چنانچہ ایک وقت آیا جب آپ کی قوم نے بھی آپ کو وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ «أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ» ۱؎ [27-النمل:55] ’ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو، وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:76] ’ یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اس سر زمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے نکال دیں۔ پھر یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت ہی کم ٹھہر پاتے ‘۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کے ساتھ مکے سے لے گیا مدینے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار و مددگار بنا دیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں شامل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ بھی فتح کر لیا۔
اور آیت میں ہے «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ۱؎ [8-الأنفال:30] ’ اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر لیں، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر والا اللہ ہے ‘۔
اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ان کی آرزویں پامال ہو گئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہو گیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند و بالا ہو گیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہو گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
یہاں فرمان ہے کہ ’ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر دعوة الرسل لقومهم ودوامهم على ذلك وعدم مللهم؛ ذكر منتهى ما وصلت بهم الحال مع قومهم، فقال: {وقال الذين كفروا لرسلهم}: متوعِّدين لهم: {لَنُخْرِجَنَّكم من أرضِنا أو لَتعودُنَّ في مِلَّتنا}: وهذا أبلغ ما يكون من الردِّ، وليس بعد هذا فيهم مطمع؛ لأنَّه ما كفاهم أن أعرضوا عن الهدى، بل توعَّدوهم بالإخراج من ديارهم، ونسبوها إلى أنفسهم، وزعموا أنَّ الرسل لا حقَّ لهم فيها، وهذا من أعظم الظُّلم؛ فإنَّ الله أخرج عباده إلى الأرض، وأمرهم بعبادته، وسخَّر لهم الأرض وما عليها يستعينون بها على عبادته؛ فمن استعان بذلك على عبادة الله؛ حلَّ له ذلك وخرج من التَّبِعة، ومن استعان بذلك على الكفر وأنواع المعاصي؛ لم يكن ذلك خالصاً له ولم يحلَّ له، فعلم أن أعداء الرسل في الحقيقة ليس لهم شيء من الأرض التي تَوَعَّدوا الرسل بإخراجهم منها. وإن رجَعْنا إلى مجرَّد العادة؛ فإنَّ الرسل من جملة أهل بلادهم وأفراد منهم؛ فلأيِّ شيء يمنعونهم حقًّا لهم صريحاً واضحاً؟! هل هذا إلا من عدم الدين والمروءة بالكلية؟! ولهذا لما انتهى مكرهم بالرسل إلى هذه الحال؛ ما بقي حينئذٍ إلاَّ أن يُمضي الله أمره وينصر أولياءه. {فأوحى إليهم ربُّهم لَنُهْلِكَنَّ الظالمين}: بأنواع العقوبات.