تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ:” كِتٰبٌ “ } کو {” الٓرٰ “} کی خبر بنائیں تو معنی ہو گا کہ{” الٓرٰ “} ایک کتاب ہے، یعنی وہ حروف تہجی جن سے تمھارا کلام وجود میں آتا ہے، انھی سے یہ کتاب وجود میں آئی ہے، اگر مقابلے کی ہمت ہے تو آؤ انھی حروف سے تم صرف ایک سورت ہی بنا دو۔ ایک صورت یہ ہے کہ اسے مبتدا محذوف {”هٰذَا“} کی خبر بنا لیں، پھر معنی ہو گا، یہ ایک کتاب ہے۔ ”نازل کیا“ کے لفظ سے اس کا بلندی سے اترنا اور اللہ تعالیٰ کا بلندی پر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کو نہ لامکان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہر جگہ میں کہہ سکتے ہیں، بلکہ وہ بلند ہے، عرش پر ہے۔ ”ہم نے اسے آپ کی طرف نازل کیا“ سے اس کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔
➌ { لِتُخْرِجَ النَّاسَ:} یعنی یہ کتاب آپ پر نازل کی، تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہی سے نکالیں۔ معلوم ہوا کہ منکرین حدیث جو کتاب یعنی قرآن ہی کو کافی سمجھتے ہیں اور رسول کو محض ڈاکیا قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نازل فرما کر اس میں بار بار رسول کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، مثلاً دیکھیے آل عمران (۳۱، ۳۲)۔
➍ {مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ:} یعنی کفر کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف۔ {” اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ “} یہ {” اِلَى النُّوْرِ “} ہی سے بدل ہے اور اسی کی وضاحت ہے، یعنی وہ نور کیا ہے، اس عزیز و حمید کا راستہ ہے جس کا نام نامی اللہ ہے، وہ جو زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب کا اکیلا مالک ہے۔ لفظ{ ” الظُّلُمٰتِ “ } کو جمع اور{ ” النُّوْرِ “} کو واحد لانے سے صاف ظاہر ہے کہ نور یعنی راہ ہدایت صرف ایک ہے یعنی اسلام، جبکہ تاریکیاں اور گمراہیاں بے شمار ہیں جو سب کی سب کفر کی مختلف صورتیں ہیں۔
➎ {بِاِذْنِ رَبِّهِمْ:} اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی مبلغ، چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، لوگوں کو اگر اسلام کی سیدھی راہ کی طرف لا سکتا ہے تو اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے لا سکتا ہے۔ ابوطالب، آزر، ابن نوح اور نوح و لوط علیھما السلام کی بیویاں اس کی واضح مثالیں ہیں کہ رب کا اذن نہ ہونے کی وجہ سے کفر کے اندھیروں سے نہیں نکل سکے۔
➏ { وَ وَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ: ” وَيْلٌ “} پر تنوین تعظیم کی ہے، معنی ہے بڑی ہلاکت، یعنی دنیا میں بھی ان کے لیے بربادی ہی بربادی ہے۔(دیکھیے توبہ: ۵۵۔ طٰہٰ: ۱۲۴ تا ۱۲۷) اور قیامت کے دن تو ان کی اس سے بھی بڑھ کر شامت آنے والی ہے۔ دنیا میں کفار کے لیے {” وَيْلٌ “} کی ایک معمولی سی مثال یہ ہے کہ خودکشی کی شرح آپ سب سے زیادہ کفار میں پائیں گے، خصوصاً جو ان میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مثلاً جاپان وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ’ ا اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ‘
«الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّـهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [57-الحديد:9] اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پا لیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہو جاتی ہے۔
«اللهِ ِ» کی دوسری قرأت «اللهُ» بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت «قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [7-الأعراف:158]، میں۔
جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہو گی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه أنزل كتابه على رسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -؛ لنفع الخلق؛ ليخرج الناس من ظلمات الجهل والكفر والأخلاق السيِّئة وأنواع المعاصي إلى نور العلم والإيمان والأخلاق الحسنة. وقوله: {بإذن ربِّهم}؛ أي: لا يحصل منهم المراد المحبوب لله إلا بإرادةٍ من الله ومعونة؛ ففيه حثٌّ للعباد على الاستعانة بربهم. ثم فسَّر النور الذي يهديهم إليه هذا الكتاب، فقال: {إلى صراط العزيز الحميد}؛ أي: الموصل إليه وإلى دار كرامته، المشتمل على العلم بالحقِّ والعمل به. وفي ذكر العزيز الحميد بعد ذكر الصراط الموصل إليه إشارة إلى أنَّ مَنْ سَلَكه؛ فهو عزيزٌ بعزِّ الله، قويٌّ ولو لم يكن له أنصار إلاَّ الله، محمودٌ في أموره، حسن العاقبة، وليدلَّ ذلك على أنَّ صراطَ الله من أكبر الأدلَّة على ما لله من صفات الكمال ونعوت الجلال، وأنَّ الذي نصبه لعباده عزيزُ السلطان حميدٌ في أقواله وأفعاله وأحكامه، وأنه مألوهٌ معبودٌ بالعبادات التي هي منازل الصراط المستقيم، وأنه كما أن له ملك السماوات والأرض خلقاً ورزقاً وتدبيراً؛ فله الحكم على عباده بأحكامه الدينيَّة؛ لأنَّهم ملكه، ولا يَليق به أن يترُكَهم سدىً. فلما بيَّن الدليل والبرهان؛ توعَّد مَن لم يَنْقَدْ لذلك، فقال: {وويلٌ للكافرين من عذابٍ شديدٍ}: لا يقدَّر قَدْره، ولا يوصَفُ أمره.