وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾
اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا واقعی تجھے اٹھا لیں تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔
En
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
En
ان سے کیے ہوئے وعدوں میں سے کوئی اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کو ہم فوت کر لیں تو آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ حساب تو ہمارے ذمہ ہی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت40) {وَ اِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ …: ” مَا “} شرط کے معنی کی تاکید کے لیے ہے جو {” اِنْ “} کا مفہوم ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے دکھا دیں۔“ یہاں {” نُرِيَنَّكَ “} کا معنی آنکھوں سے دکھانا ہے، دل سے یا گمان اور خیال سے نہیں۔ شرط میں مذکور {” نُرِيَنَّكَ “} اور {” اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ “} دونوں کا جواب محذوف ہے، یعنی ضروری نہیں کہ دنیا میں انھیں دی جانے والی سزا ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھا کر دیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان کی سزا کا وقت آئے، اگر ہم آپ کو آنکھوں سے ان کی کچھ دنیوی سزا دکھا دیں تو یہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سینوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو گا اور اگر پہلے فوت کر لیں تب بھی آپ فکر نہ کریں، کیونکہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ رہا ان کے اعمال پر محاسبہ اور مؤاخذہ تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے تو آپ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ کی وفات کے بعد۔ باغبان پودے لگاتا ہے، کچھ اس کی زندگی میں پھل دے دیتے ہیں اور کچھ کئی سالوں کے بعد آنے والی نسل کو پھل دیتے ہیں، لہٰذا آپ کو اس کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور انھیں بے فکر اور غافل نہیں رہنا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ (اے نبی)! جس عذاب کی ہم ان کافروں کو دھمکی دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ خواہ آپ کے جیتے جی آپ کو دکھا دیں یا آپ کے وفات پا جانے کے بعد انھیں عذاب دیں، آپ کے ذمہ تو پہچانا ہی ہے اور حساب لینا [52] ہمارا کام ہے
[52] کفار مکہ پر عذاب آپ کے جیتے بھی اور بعد میں بھی:۔
اس آیت میں بھی کافروں کے اس مطالبہ کا جواب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر عذاب آ جانا چاہیے تھا یا کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ کے ذمہ صرف دعوت دین اور اس کی تبلیغ ہے آپ یہی کام کرتے جائیے۔ ان منکرین سے نمٹنا اللہ کا کام ہے اور جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی ان پر آکے رہے گا۔ اس عذاب کا کچھ حصہ تو آپ اپنی زندگی میں جیتے جی دیکھ لیں گے اور کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان کو دیا جائے گا اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ بھی پورا کر دیا جائے گا۔ پھر ان منکرین کو آپ کے جیتے جی جو سزائیں ملیں ان کا ذکر قرآن اور حدیث میں وضاحت سے موجود ہے اور جو آپ کی زندگی کے بعد ملیں ان کا ذکر احادیث و آثار و تاریخ میں مل جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭
’ تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ ‘ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» ۱؎ [88-الغاشية:21-26] ’ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے ‘۔
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔
عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔
جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔
جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔
عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔
جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔
جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔