ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 29

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے خوش حالی اور اچھا ٹھکانا ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت29) {طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ: طُوْبٰى } اصل میں{ طَابَ يَطِيْبُ} (اچھا اور عمدہ ہونا) سے {طُيْبٰي} تھا، مصدر بروزن {بُشْرٰي } بمعنی خوشی، مبارک باد۔ { مَاٰبٍ اٰبَ يَؤُوْبُ أَوْبًا} کا معنی ہے لوٹنا اور { مَاٰبٍ } کا معنی لوٹ کر جانے کی جگہ، ٹھکانا، یعنی ایمان اور عمل صالح کی برکت سے عمدہ ترین زندگی حاصل ہوتی ہے اور آخری ٹھکانا بھی بہترین ملے گا، جیسا کہ فرمایا: «{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [النحل: ۹۷] جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں جو عتبہ بن عبد السلمی سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے ایک درخت کا نام بھی طوبیٰ بتایا ہے۔ [مسند أحمد: 183/4، ح: ۱۷۶۶۰، وقال شعیب الأرنؤوط إسنادہ قابل للتحسین]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 طُوْبٰی کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں مثلاً خیر، حسنٰی، کرامت، رشک، جنت میں مخصوص درخت یا مخصوص مقام وغیرہ مفہوم سب کا ایک ہی ہے یعنی جنت میں اچھا مقام اور اس کی نعمتیں اور لذتیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیئے ان کے لئے خوشحالی [38] بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی
[38] طوبیٰ سے مراد کیا ہے؟
لفظ طوبیٰ کے معنی ایسی خوشی حاصل ہونا ہے جس سے انسان کے دل کے علاوہ اس کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مفردات) اور جنت کی نعمتیں سب ایسی ہی ہوں گی بعض مفسرین نے طوبیٰ سے مراد وہ درخت لیا ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ وہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ایک سوار اگر سو سال بھی چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ [بخاري، كتاب التفسير] سورۃ ؤاقعہ زیر آیت ﴿وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ اہل عرب کے لیے ایسے درخت کا جنت میں موجود ہونا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ کیونکہ عرب کا اکثر علاقہ سنگلاخ اور ریگستانی ہے۔ شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ لوئیں چلتی ہیں مگر درخت یا درختوں کے سائے بہت کم پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے جنت کی نعمتوں کا جہاں ذکر آتا ہے وہاں ٹھنڈے پانی اور گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں کا بالخصوص ذکر ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔