ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 26

اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں تھوڑے سے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ En
خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے
En
اللہ تعالیٰ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے یہ تو دنیا کی زندگی میں مست ہو گئے۔ حاﻻنکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں نہایت (حقیر) پونجی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت26) ➊ { اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ …:} بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب یہ شبہ بن جاتا ہے کہ اللہ کے نافرمان دنیا میں خوش حال کیوں ہیں؟ اس کا جواب دیا، یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے، جس کے لحاظ سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے، بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامانِ عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگ دستی وارد کرتا ہے، تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے، مومن اپنے صبر و شکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے، اس لیے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے، لہٰذا گمراہ لوگوں کی بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح المعانی)
➋ { وَ فَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: مَتَاعٌ } کی تنوین تقلیل وتحقیر کے لیے ہے، یعنی معمولی، تھوڑا سا بے قدر و قیمت سامان، یعنی کفار دنیا کی زندگی کی آسائشوں پر پھول رہے ہیں، حالانکہ یہ آخرت کے مقابلے میں محض معمولی اور بے حقیقت تھوڑی دیر کا سامان ہے۔ مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! مَا الدُّنْيَا فِيْ الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هٰذِهِ ــ وَأَشَارَ يَحْيَی بِالسَّبَّابَةِ ــ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَ تَرْجِعُ] [مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا…: ۲۸۵۸] اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس مثال کے سوا کچھ نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ انگلی۔ اور راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا چیز لے کر واپس آتی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [نَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی حَصِيْرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِيْ جَنْبِهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً، فَقَالَ مَا لِيْ وَ لِلدُّنْيَا، مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلاَّ كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا] [ترمذی، الزھد، باب حدیث ما الدنیا إلا کراکب استظل: ۲۳۷۷] نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے، اٹھے تو چٹائی نے آپ کے پہلو پر اپنے نشان لگا دیے تھے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے لیے نرم بستر بنا دیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا اور دنیا کا کیا تعلق! میں تو دنیا میں محض اس سوار کی طرح ہوں جس نے ایک درخت کے سائے میں آرام کیا، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 جب کافروں اور مشرکوں کے لئے یہ کہا کہ ان کے لئے برا گھر ہے، تو ذہن میں یہ اشکال آ سکتا ہے کہ دنیا میں تو انھیں ہر طرح کی آسائشیں اور سہولتیں مہیا ہیں۔ اس کے ازالے کے لئے فرمایا کہ دنیاوی اسباب اور رزق کی کمی بیشی یہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت، جس کو صرف وہی جانتا ہے، کے مطابق کسی کو زیادہ دیتا ہے کسی کو کم رزق کی فروانی، اس بات کی دلیل ؛ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے اور کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ 26۔ 2 کسی کو اگر دنیا کا مال زیادہ مل رہا ہے، باوجودیکہ وہ اللہ کا نافرمان ہے تو یہ مقام فرحت و مسرت نہیں، کیونکہ یہ استدراج ہے، مہلت ہے پتہ نہیں کب یہ مہلت ختم ہوجائے اور اللہ کی پکڑ کے شکنجے میں آجائے۔ 26۔ 3 حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی حیثیت، آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر نکالے، تو دیکھے سمندر کے پانی کے مقابلے میں اس کی انگلی میں کتنا پانی آیا ہے؟ (صحیح بخاری) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے ہوا، تو اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا، اللہ کی قسم دنیا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ مردہ، اپنے مالکوں کے نزدیک اس وقت حقیر تھا جب انہوں نے اسے پھینکا (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے کم کر دیتا ہے۔ یہ (کافر) دنیا کی زندگی پر ہی ریجھ [35] گئے ہیں۔ حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی ایک حقیر سا فائدہ ہے
[35] مال و دولت کی فراوانی اللہ کی نظر رحمت کی دلیل نہیں:۔
دنیا دار لوگوں کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ وہ کسی شخص کی قدر و قیمت کو مال و دولت اور دنیوی جاہ و حشم کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جو شخص جس قدر خوشحالی سے زندگی بسر کر رہا ہے اتنا ہی اس کا پروردگار اس پر مہربان ہے اور کسی کی معیشت کا تنگ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے۔ اس آیت میں اسی نظریہ کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ رزق کی کمی بیشی کے لیے ایک دوسرا ہی قانون ہے جس میں دوسری قسم کی مصلحتیں ہیں دنیا میں رزق کی کمی بیشی کا انسان کی ہدایت اور فلاح و نجات سے کچھ تعلق نہیں بلکہ رزق کی زیادتی اکثر انسانوں کے لیے گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ لہٰذا دنیوی مال و متاع پر ریجھ نہ جانا چاہئے۔ کیونکہ یہ سب چیزیں فانی ہیں اور ان دائمی اور پائیدار نعمتوں کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں جو اللہ کے فرمانبردار لوگوں کو اخروی زندگی میں عطا کی جائیں گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسئلہ رزق ٭٭
اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہو گئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔
«قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77]‏‏‏‏ ’ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموماً لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858]‏‏‏‏
{ ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والی بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بے کار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے۱؎ [صحیح مسلم:29570]‏‏‏‏