وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾
اور وہ جو اس چیز کو ملاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔
En
اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں
En
اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت21) ➊ {وَ الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ:} یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں، رشتوں کو نزدیک کے ہوں یا دور کے، ان کے مراتب کے مطابق ملاتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزو جل، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیواؤں، الغرض ہر ایک کا حق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔
➋ { وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ راغب نے کہا: ”خشیت ایسا خوف ہے جس کے ساتھ تعظیم ملی ہوئی ہو، اکثر اس کا باعث علم ہوتا ہے۔“ جیسے فرمایا: «{ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا }» [فاطر: ۲۸] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ خوف سے مراد کوئی بھی ڈر ہے، بعض نے کہا، دونوں (خشیت اور خوف) ہم معنی ہیں، فرق اغلبی ہے، کلی نہیں۔ (آلوسی)
➌ { وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ:} لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ {” سُوْٓءَ الْحِسَابِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ رعد کی آیت (۱۸) کی تفسیر۔
➋ { وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ راغب نے کہا: ”خشیت ایسا خوف ہے جس کے ساتھ تعظیم ملی ہوئی ہو، اکثر اس کا باعث علم ہوتا ہے۔“ جیسے فرمایا: «{ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا }» [فاطر: ۲۸] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ خوف سے مراد کوئی بھی ڈر ہے، بعض نے کہا، دونوں (خشیت اور خوف) ہم معنی ہیں، فرق اغلبی ہے، کلی نہیں۔ (آلوسی)
➌ { وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ:} لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ {” سُوْٓءَ الْحِسَابِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ رعد کی آیت (۱۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی رشتوں اور قرابتوں کو توڑتے نہیں ہیں، بلکہ ان کو جوڑتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ اور جن روابط کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے۔ انھیں ملاتے ہیں، اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور بری طرح [29] حساب لئے جانے سے خوف کھاتے ہیں
[29] اللہ کی ہدایت قبول کرنے والوں کی صفات:۔
اگلی چند آیات میں چند ایسی صفات کا ذکر ہے۔ جنہیں اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایات کو برحق تسلیم کرنے والے اپنی طرز زندگی میں اپناتے ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ اس عہد سے مراد عہد الست ہے۔ جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ رزق پر ہی پرورش پا رہا ہے اور اسی کی عطا کردہ قوتوں کو استعمال کر رہا ہے تو اسے از خود یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ بندگی کے لائق بھی صرف وہی ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسے محسن کو چھوڑ کر دوسرے کی غلامی کی جائے تو یہ نمک حرامی ہو گی۔ ان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے کئے ہوئے عہد کو بھی نہیں توڑتے۔ اس میں خرید و فروخت، لین دین اور نکاح وغیرہ کے سب عہد شامل ہیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ان تمام روابط کا خیال رکھتے ہیں جن کی درستی پر انسان کی اجتماعی زندگی کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے۔ خواہ یہ روابط معاشرت سے تعلق رکھتے ہوں یا تمدن سے اور اس مد میں والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں مسکینوں اور ہمسایوں سب کے حقوق آجاتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات میں خواہ یہ عبادات سے تعلق رکھتے ہوں یا معاملات سے یا مناکحات سے، ہر ایک معاملہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچتے اور اس کی گرفت سے ڈرتے ہیں اور پانچویں صفت یہ ہے کہ انھیں ہر وقت آخرت کی باز پرس کی فکر لگی رہتی ہے وہ اپنے نیک اعمال پر تکیہ نہیں کرتے بلکہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حساب کے مرحلہ کو آسان فرما دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔
گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔
تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔
گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔
تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔