ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 20

الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾
جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔ En
جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے
En
جو اللہ کے عہد (وپیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت20){الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ …:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقلوں والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد توحید کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ سورۂ اعراف (۱۷۲) میں ہے۔{ وَ لَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ } سے ہر اس عہد کو توڑنے سے اجتناب کرنا مراد ہے جسے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پہلے خاص اپنے عہد کے بعد اب عام عہد کا ذکر فرمایا۔ ان منافقین کی طرح نہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 یہ اہل دانش کی صفات بیان کی جا رہی ہیں، اللہ کے عہد سے مراد، اس کے احکام (اوامرو نواہی) ہیں جنہیں بجا لاتے ہیں۔ یا وہ عہد ہے، جو عَھْدِ الَسْت کہلاتا ہے، جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ 20۔ 2 اس سے مراد وہ باہمی معاہدے اور وعدے ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں یا وہ جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ جو اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں اور مضبوط کئے ہوئے عہد کو توڑ نہیں ڈالتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔
گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔
تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35]‏‏‏‏ ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔