تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا: ” عَمَدٍ “} اسم جمع ہے، جمع نہیں، اس کا مفرد{ ”عَمُوْدٌ“ } یا {”عِمَادٌ“} ہے۔ (شعراوی) اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر وسیع اور عظیم آسمانوں کو کسی بھی قسم کے ستونوں کے بغیر بلند کر دیا، تم خود انھیں دیکھ رہے ہو کہ ان کے نیچے کوئی ستون نہیں، جب کہ تم چھوٹی سے چھوٹی چھت بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ محض اپنی قدرت اور بے پناہ قوت کے ساتھ اتنا اونچا بنانے کے بعد وہیں تھام کر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے، چنانچہ فرمایا: «{وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [الحج: ۶۵] ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے، اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔“ مزید دیکھیے سورۂ فاطر(۴۱) اس صورت میں {” تَرَوْنَهَا “} (تم انھیں دیکھتے ہو) میں ضمیر کا مرجع لفظ {”السَّمٰوٰتِ “} ہو گا اور {” تَرَوْنَهَا “} الگ نیا جملہ ہو گا کہ تم خود آسمانوں کو اس حالت میں دیکھ رہے ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ {”تَرَوْنَهَا “} کو{ ” عَمَدٍ “ } کی صفت قرار دیا جائے، پھر ترجمہ یہ ہو گا کہ اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جنھیں تم دیکھتے ہو، گویا ستون ہیں مگر تمھیں نظر نہیں آتے، نہ کہیں نگاہ کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔ آیت دونوں معنوں کا امکان رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں ممکن ہیں، اس لیے ترجمہ میں بھی دونوں معنوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ علمائے تفسیر میں سے کسی نے پہلے معنی کو ترجیح دی اور کسی نے دوسرے کو۔ امام المفسرین طبری رحمہ اللہ نے فرمایا، حق یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کہیں جیسے اللہ نے فرمایا۔ (خلاصہ) یعنی پورے علم کے بغیر ایک معنی کو ترجیح نہ دیں۔ (واللہ اعلم) (یہاں طبری کے فیصلے کی پوری عبارت نہایت پُر لطف ہے) کیا معلوم کہ کسی وقت تجزیے سے ثابت ہو جائے کہ فضا میں نظر نہ آنے والی کوئی چیز موجود ہے جس پر آسمان قائم ہیں۔
➌ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا سات جگہ آتا ہے، سورۂ اعراف (۵۴)، یونس (۳)، رعد (۲)، طٰہٰ (۵)، فرقان (۵۹)، سجدہ (۴) اور حدید (۴) اللہ تعالیٰ کے تعلق سے عرش کا ذکر اکیس (۲۱) مرتبہ اور ملکہ سبا کے تعلق سے چار (۴) مرتبہ آیا ہے۔ مستوی علی العرش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) اور سورۂ حاقہ (۱۷)۔
➍ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی چند نہایت واضح نعمتیں ذکر فرمائیں۔ تسخیر کا معنی ہے کسی کو اپنے تابع اور قابو میں کر لینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو اپنے تابع اور پوری طرح پابند کر رکھا ہے، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس طرح جس کام پر لگا دیا ہے وہ اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ جو مدت مقرر کی ہے اس کے عین مطابق مقرر وقت پر چل رہے ہیں، یعنی قیامت تک یا اپنے دورے کے مقرر وقت کے مطابق، نہ ان کی رفتار بدلتی ہے نہ طلوع وغیرہ کے نظام میں فرق آتا ہے۔ سورج اپنا دورہ سال میں پورا کرتا ہے، چاند ایک ماہ میں۔ کسی بھی سیارے یا سورج اور چاند کا آپس میں نہ کوئی ٹکراؤ ہے نہ حادثہ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت و حکمت کی کتنی بڑی نشانی ہے۔
➎ {يُدَبِّرُ الْاَمْرَ:} کسی کام کی تدبیر کا معنی اسے اس کے سب سے اچھے، مضبوط اور مکمل طریقے پر چلانا ہے۔ مختصر سے عطا کردہ اختیار سے تم جو تدبیریں کرتے ہو ان کا نتیجہ بھی دیکھ لو، کوئی پوری ہوتی ہے کوئی نہیں اور کوئی کسی حادثے کی نذر ہو جاتی ہے اور اس عزیز و حکیم کی تدبیر امور کو دیکھو۔
➏ { يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ:} اس میں کائنات میں موجود نشانیاں بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل شدہ آیات بھی کھول کر بیان کرنا ہے کہ دونوں کس قدر واضح ہیں، جن کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
➐ { لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ:} یعنی ان تمام آیات کی تفصیل کا مقصد تمھیں یہ یقین دلانا ہے کہ ایسی عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے پروردگار کے لیے تمھیں دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں اور ہر حال میں تمھیں اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[3] ﴿اِسْتَويٰ عَلَي الْعَرْشِ﴾ کی تفسیر کے لیے دیکھئے [7: 54 كا حاشيه نمبر 54]
[4] سیاروں کی گردش تا قیامت۔ یہ مقررہ مدت قیامت ہے۔ جب یہ سارا نظام کائنات درہم برہم کر دیا جائے گا۔ اس آیت میں پہلے سورج اور چاند کا ذکر فرمایا۔ آگے فرمایا: ﴿كُلٌ يَّجْرِيْ لاِجَلٍ مُّسَمًّي﴾ حالانکہ کل کا لفظ دو کے لیے نہیں آتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور چاند کی طرح کے سب سیارے اپنی اپنی ڈگر پر چل رہے ہیں اور یہ قیامت تک چلتے ہی رہیں گے۔ ضمناً اس سے دو باتیں اور معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ سورج کو ساکن سمجھتے ہیں یا سمجھتے رہے وہ غلطی پر ہیں۔ لفظ جریان کا اطلاق گردش محوری پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی ضروری ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین بھی چونکہ ایک سیارہ ہے۔ اس لیے اس کی گردش بھی ثابت ہوتی ہے۔ «والله اعلم بالصواب»
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امیہ بن ابو الصلت کے اشعار میں ہے، جس کے اشعار کی بابت حدیث میں ہے کہ اس کے اشعار ایمان لائے ہیں اور اس کا دل کفر کرتا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ اشعار زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے ہیں جن میں ہے «وَأَنْتَ الَّذِي مِنْ فَضْلِ مَنٍّ وَرَحْمَةٍ بَعَثْتَ إِلَى مُوسَى رَسُولًا مُنَادِيَا فَقُلْتَ لَهُ: فَاذْهَبْ وَهَارُونَ فَادْعُوَا إِلَى اللَّهِ فَرْعَونَ الَّذِي كَانَ طَاغِيًا وَقُولَا لَهُ: هَلْ أَنْتَ سَوَّيْتَ هَذِهِ بِلَا وَتِدٍ حَتَّى اطْمَأَنَّتْ كَمَا هِيَا وَقُولَا لَهُ: أَأَنْتَ رَفَعْتَ هَذِهِ بِلَا عَمَدٍ أَرْفِقْ إِذًا بِكَ بَانِيَا؟ وَقُولَا لَهُ: هَلْ أَنْتَ سَوَّيْتَ وَسْطَهَا مُنِيرًا إِذَا مَا جَنَّكَ اللَّيلُ هَادِيًا وَقُولَا لَهُ: مَنْ يُرْسِلُ الشَّمْسَ غُدْوَةً فيُصْبِحَ مَا مَسَّتْ مِنَ الْأَرْضِ ضَاحِيَا؟ وَقُولَا لَهُ: مَنْ يُنْبِتُ الْحَبَّ فِي الثَّرَى فيُصْبِحَ مِنْهُ العُشْبُ يَهْتَزُّ رَابِيَا؟ وَيُخْرِجُ مِنْهُ حَبَّهُ فِي رُءُوسِهِ فَفِي ذَاكَ آيَاتٌ لِمَنْ كَانَ وَاعِيَا» تو اللہ وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو مع ہارون علیہ السلام کے فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور ان سے فرما دیا کہ اس سرکش کو قائل کرنے کے لیے اس سے کہیں کہ اس بلند و بالا بےستون آسمان کو کیا تو نے بنایا ہے؟ اور اس میں سورج چاند ستارے تو نے پیدا کئے ہیں؟ اور مٹی سے دانوں کو اگانے والا پھر ان درختوں میں بالیں پیدا کر کے ان میں دانے پکانے والا کیا تو ہے؟ کیا قدرت کی یہ زبردست نشانیاں ایک گہرے انسان کے لیے اللہ کی ہستی کی دلیل نہیں ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [36-يس:38] ’ سورج اپنی جگہ برابر چل رہا ہے ‘۔ اس کی جگہ سے مراد عرش کے نیچے ہے جو زمین کے تلے سے دوسری طرف سے ملحق ہے یہ اور تمام ستارے یہاں تک پہنچ کر عرش سے اور دور ہو جاتے ہیں کیونکہ صحیح بات جس پر بہت سی دلیلیں ہیں یہی ہے کہ وہ قبہ ہے متصل عالم باقی آسمانوں کی طرح وہ محیط نہیں اس لیے کہ اس کے پائے ہیں اور اس کے اٹھانے والے ہیں اور یہ بات آسمان مستدیر گھومے ہوئے آسمان میں تصور میں نہیں آ سکتی جو بھی غور کرے گا اسے سچ مانے گا۔ آیات و احادیث کا جانچنے والا اسی نتیجے پر پہنچے گا۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
وہ اپنی آیتوں کو اپنی وحدانیت کی دلیلوں کو بالتفصیل بیان فرما رہا ہے کہ تم اس کی توحید کے قائل ہو جاؤ اور اسے مان لو کہ وہ تمہیں فنا کر کے پھر زندہ کر دے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن انفراده بالخلق والتدبير والعظمة والسلطان الدالِّ على أنه وحده المعبود الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له، فقال: {الله الذي رفعَ السموتِ}: على عظمها واتِّساعها بقدرته العظيمة، {بغير عَمَدٍ تَرَوْنها}؛ أي: ليس لها عَمَدٌ من تحتها؛ فإنَّه لو كان لها عَمَدٌ؛ لرأيتُموها، {ثم}: بعدما خلق السماواتِ والأرض، {استوى على العرش}: العظيم، الذي هو أعلى المخلوقات، استواءً يَليق بجلاله ويناسب كماله. {وسخَّر الشمس والقمر}: لمصالح العباد ومصالح مواشيهم وثمارهم. {كلٌّ}: من الشمس والقمر، {يَجْري}: بتدبير العزيز العليم {إلى أجل مسمّى}: بسير منتظم لا يفتُران ولا يَنِيان حتى يجيء الأجل المسمَّى، وهو طيُّ الله هذا العالم ونقلهم إلى الدار الآخرة التي هي دار القرار؛ فعند ذلك يطوي الله السماواتِ ويبدِّلها ويُغَيِّر الأرض ويبدِّلها، فتكوَّر الشمس والقمر و [يُجمع] بينهما فيلقيانِ في النار؛ ليرى من عبدهما أنَّهما غير أهل للعبادة، فيتحسَّر بذلك أشدَّ الحسرة، وليعلم الذين كفروا أنَّهم كانوا كاذبين. وقوله: {يدبِّر الأمر يفصِّلُ الآياتِ}: هذا جمعٌ بين الخلق والأمر؛ أي: قد استوى الله العظيم على سرير الملك؛ يدبِّر الأمور في العالم العلويِّ والسفليِّ، فيخلق ويرزق، ويغني ويُفْقِر، ويرفع أقواماً ويضع آخرين، ويعزُّ ويذلُّ، ويَخْفِضُ ويرفعُ، ويَقيلُ العثراتِ، ويفرِّجُ الكربات، وينفذُ الأقدار في أوقاتها التي سبق بها علمهُ وجرى بها قلمه، ويرسل ملائكته الكرام لتدبير ما جعلهم على تدبيرِهِ، وينزِّل الكتب الإلهية على رسله، ويبين ما يحتاجُ إليه العباد من الشرائع والأوامر والنواهي، ويفصِّلها غايةَ التفصيل ببيانها وإيضاحها وتمييزها. {لعلَّكم}: بسبب ما أخرج لكم من الآيات الأفقيَّة والآيات القرآنيَّة، {بلقاء ربِّكم توقنون}: فإنَّ كثرة الأدلَّة وبيانها ووضوحها من أسباب حصول اليقين في جميع الأمور الإلهيَّة، خصوصاً في العقائد الكبار؛ كالبعث والنشور والإخراج من القبور.
وأيضاً؛ فقد عُلم أنَّ الله تعالى حكيمٌ؛ لا يخلُق الخلق سدىً، ولا يتركهم عبثاً؛ فكما أنَّه أرسل رسله وأنزل كتبه لأمر العباد ونهيهم؛ فلا بدَّ أن ينقلَهم إلى دار يحلُّ فيهم جزاؤه؛ فيجازي المحسنين بأحسن الجزاء، ويجازي المسيئين بإساءتهم.