تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ:} یعنی ہم جسے چاہتے ہیں علم عطا فرما کر اس کے درجے بلند کرتے ہیں، جیسے دوسرے بھائیوں کے مقابلے میں یوسف علیہ السلام کے درجے بلند کیے۔
➌ { وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ:} یعنی ہر جاننے والے سے بڑھ کر جاننے والا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اس غرور میں مبتلا نہ ہو کہ مجھ سے بڑا عالم کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ کو موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے بے ساختہ نکلنے والا یہ لفظ بھی پسند نہ آیا، فرمایا، کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ غرض ہر عالم سے بڑا عالم موجود ہے، یہاں تک کہ تمام جاننے والوں کے اوپر وہ ذات پاک ہے جو حاضر و غائب ہر چیز کو پوری طرح جاننے والی ہے اور اس سے کوئی بات مخفی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[72] اس جملہ میں سیدنا یوسفؑ اور برادران یوسف کا تقابل پیش کیا گیا ہے کہ جس یوسفؑ کو اس کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال کر صفحہ ہستی سے غائب کرنا چاہا تھا۔ اسے اللہ نے اتنا اعزاز بخشا کہ اس کے بھائی اسی یوسف کے رحم و کرم کے محتاج بن گئے۔
[73] یعنی اگرچہ یوسفؑ کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا تھا تاہم وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ کون سی ایسی تدبیر کی جائے کہ ان کا بھائی با عزت طور پر ان کے پاس رہ سکے۔ یہ تدبیر اللہ نے یوسفؑ کی خاطر پیدا کر دی۔ کیونکہ وہ ہر صاحب علم سے بڑھ کر علیم ہستی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فبدأ المفتش بأوعيتهم قبل وعاء أخيه، وذلك لتزول الرِّيبة التي يظنُّ أنها فعلت بالقصد. فلما لم يَجِدْ في أوعيتهم شيئاً، {استَخْرَجها من وعاء أخيه}: ولم يَقُلْ: وجدها أو سرقها أخوه مراعاةً للحقيقة الواقعة؛ فحينئذٍ تمَّ ليوسف ما أراد من بقاء أخيه عنده على وجهٍ لا يشعر به إخوته. قال تعالى: {كذلك كِدْنا ليوسُفَ}؛ أي: يسَّرْنا له هذا الكيد الذي توصَّل به إلى أمرٍ غير مذموم. {ما كان لِيأخُذَ أخاه في دينِ الملكِ}: لأنَّه ليس من دينه أنْ يُتَمَلَّك السارق، وإنَّما له عندهم جزاء آخر؛ فلو رُدَّتِ الحكومة إلى دين الملك؛ لم يتمكَّنْ يوسُفُ من إبقاء أخيه عنده، ولكنَّه جعل الحكم منهم؛ ليتمَّ له ما أراد. قال تعالى: {نرفعُ درجاتٍ من نشاء}: بالعلم النافع ومعرفة الطرق الموصلة إلى مقصدها؛ كما رَفَعْنا درجاتِ يوسف. {وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ}؛ فكل عالم فوقه من هو أعلم منه حتى ينتهي العلم إلى عالم الغيب والشهادة.